اقتصادی خود کفالت اور قومی آزادی لازم و ملزوم ہیں
02 جنوری 2019 2019-01-02

آئی ایم ایف کے مشیر ماضی میں پاکستانی ارباب حکومت سے جن امور میں مزید بہتری کا تقاضا کر تے رہے ہیں، موجودہ ذمہ دارانِ حکومت کو اس ضمن میں بھی اقدامات کرنا چاہئیں۔ آئی ایم ایف کے مشن ہیڈ نواز حکومت کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کراتے رہے ہیں کہ پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریو نیو کو زیادہ کمائی کرنے والوں سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنا ہو گا۔ پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔ اسی طرح ٹیکس چوروں اور ٹیکس نہ دینے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ حکومت براہِ راست ٹیکسوں کی بجائے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کرتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے لوگوں سے ٹیکسوں کی وصولی میں کوئی رعایت نہ کی جائے اور ہر شخص سے اس کے حصے کا ٹیکس وصول کیا جائے۔ ماہرین کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ اگر ٹیکس وصولیاں پوری تندہی ، فرض شناسی اور فعالیت سے کی جائیں تو پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی 3 گنا بڑھ سکتی ہے۔ نتیجتاً اگلے مالی سال میں پاکستان کو اس داخلی معاشی بحران سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا ، جس کا سامنا اسے رواں مالی سال میں کرنا پڑا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتصادی مینیجرز پاکستان میں ٹیکسوں کی وصولی کے نظام کو بہتر اور مؤثربنا ئیں اور اس کے پوری طرح نفاذ کو یقینی بنا نے کے لیے جملہ وسائل اور توانائیوں کو بروئے کار لائیں۔

ایک رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر پاکستان سمیت 67 ممالک میں ٹیکس کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جائے تو ان ممالک کی حکومتیں ہر بچے کو معیاری پرائمری اور سیکنڈری تعلیم فراہم کر سکیں گی۔ واضح رہے کہ پاکستان اپنے بجٹ کا دس فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کرتا ہے جبکہ یونیسکو کی سفارش بیس فیصد ہے۔یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ شہری جہاں ٹیکس دیتے ہیں وہاں حکومت کی ذمہ داری ان کوسہولیات دینا بھی ہے۔آئی ایم ایف کی طرف سے موجودہ معروض میں قرض ملنے کو کوئی حکومت اپنی کامیابی تو قرار دے سکتی ہے مگر ضروری امر یہ ہے کہ ملک میں ٹیکسوں کی وصولی کا نظام بہتر کیا جائے تا کہ اس سال حکومت کو اربوں روپے قرضے لینے سے نجات مل سکے۔ اسی طرح بجٹ میں قرضوں اور سود کی ادائیگی پر جو رقم ادا کی جاتی ہے وہ ٹیکسوں کی آمدنی سے دی جا سکے اور ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی فنڈز موجود ہو، تاکہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر عالمی مالیاتی اداروں کی گرفت سے آزاد ہو سکے۔

ایف بی آر کو اداراتی سطح پر اپنے داخلی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اب تک کا مشاہدہ یہی ہے کہ ایف بی آر براہ راست ٹیکس وصول کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کے بجائے وزارت خزانہ اور دیگر وزارتوں کو بالواسطہ ٹیکس وصولی کے آسان طریقے بتاتا ہے جس کے نتیجے میں ٹیکس دینے کے قابل لاکھوں شہری ایک پھوٹی کوڑی ٹیکس ادا نہیں کرتے اور بجٹ میں محصولات کی وصولی کے ہدف کے بوجھ کا بڑا حصہ عام غریب صارف اور شہریوں کے کاندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے وزارت خزانہ کے ماہرین نے عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے حقیقی ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنے کا ’’مشکل فیصلہ‘‘ کرنے کے بجائے ’’شارٹ کٹ‘‘ ڈھونڈ رکھے ہیں۔محصولات کی آمدنی بڑھائے بغیر فلاحی ریاست کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ صائب الرائے ارباب دانش و بینش کی رائے ہے کہ اچھی حکومت وہ ہوتی ہے جو عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ہے اور ان کی آمدنیوں

میں افراط زر اور مہنگائی کی شرح کے مطابق اضافہ کرتی ہے۔ دوسری جانب فرض شناس اور ذمہ دار عوام بھی ہوتے ہیں، خاص طور پر ان میں خوشحال لوگ جو اپنی منتخب حکومت کو بروقت اور جائز ٹیکس دینے میں بخل سے کام نہ لیں۔ یہ تصور ذہنوں سے کھرچ دینا چاہیے کہ پاکستان کسی استعماری قوت کی ایک نو آبادیاتی ریاست ہے بلکہ پاکستان 71 برسوں سے ایک آزاد خود مختار ریاست ہے جہاں عوام محصولات کی ادائیگی کو اپنا فرض منصبی جانتے ہیں اور دیانتداری سے محصولات ادا کرتے ہیں تاہم محصولات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ محصولات وصول کرنے والے محکمے فرض شناس، دیانتدار اور محب وطن ہوں تاکہ کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی حکومتیں بجٹ کے موقع پر محصولات کی وصولی کے متعینہ ہدف تک رسائی میں کامیاب ہو جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر انکم ٹیکس ترمیمی آرڈیننس 2016 ء پر اس کی روح کے مطابق دیانتداری سے ایف بی آر کے افسران و اہلکاران عملدرآمد کریں تو یقیناًان کا یہ اقدام گڈگورننس کا مظہر اور قومی خزانے کے لئے ثمرآور ہو گا۔ اس کے نتیجے میں کالے دھن کو سمیٹنے کے منفی رویے اور رجحان کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

میرے نزدیک اگر پاکستان میں ترقی کی شرح نمو میں اضافے کے ساتھ اگر غربت کا گراف بھی نیچے آنا شروع ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ترقی کے اعدادوشمار محض ریاست کی معاشی طاقت میں اضافے کا باعث نہیں بنے بلکہ وہ نچلی سطح پر غریب آدمی کے لئے بھی نسبتاً بہتر زندگی کی نوید لائے ہیں۔ اس کا مطلب ہوگا کہ پاکستان کے معاشی ڈھانچے میں اوپر سے نیچے تک مضبوطی آرہی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تدریجی عمل ہے لیکن اگر یہ مثالی رفتار سے جاری رہا یا اس میں قدرے تیزی آ گئی تو یہ ایک پائیدار تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے اور پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کی امید پیدا ہو جائے گی۔ پاکستانی اور غیرملکی ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر شرح ترقی میں اضافہ مجموعی قومی پیداوار کے سات فیصد تک پہنچ جائے تو غربت کی بنیادیں فی الواقع منہدم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا اور ہماری معیشت کے ماتھے پر جو غیروں کی محتاجی اور قرضوں کے غیرمعمولی بوجھ کاکلنک کا ٹیکا لگا ہوا ہے، وہ ختم ہو جائے گا۔ ظاہر ہے اس منزل تک پہنچنے کے لئے مزید چند سال کا عرصہ درکار ہو گا لیکن ایک بار اگر یہ عمل شروع ہو گیا اور اس میں کوئی تعطل نہ آیا تو توقع کی جا سکتی ہے کہ ہمیں اس سفر کو طے کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔اس امر سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ غذائی قلت کا شکار ہے۔ اسے دور کرنا بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں تعلیم کے نظام میں بہت زیادہ بہتری اور صحت کی سہولیات میں مزید اضافے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک ریاست کے عام شہری کو بہتر غذا، اعلیٰ اور ہنرمندی کی تربیت دینے والی تعلیم اور علاج معالجے کی قابل قدر سہولتیں ایسے انسانی سرمائے کو پروان چڑھانے میں مدد دیتی ہیں جو معیشتی ڈھانچے کو حقیقی توانائی فراہم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے بغیر وہ صحیح معنوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔

یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ سرمایہ کاری خواہ بیرونی ہو یا اندرونی اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو رہا اور برآمدات میں بھی حسب سابق کمی پائی جاتی ہے۔ جو یقیناًمعیشت کا کمزور پہلو ہے۔ دریں چہ شک کہ معیشت کی اصلاح اور اس میں پائیداری کا عنصر شامل کرنے اور اسے حقیقی معنوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے ہدف کے حصول کے لئے بہت محنت کرنا پڑے گی۔ اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ، توانائی کے حصول میں اضافے کی پیشرفت اور دیگر پیداواری عوامل میں زیادہ بہتری آنی چاہئے۔ اقتصادی راہداری کی تعمیر میں ذرا سی تاخیر بھی موجب تشویش ہو سکتی ہے۔پاکستان کی ریاست اور عام آدمی کو ترقی، خوشحالی اور بہتر زندگی کی وافر سہولتوں سے ہم کنار کرنے کے لئے اشد ضروری ہے کہ نہ صرف پیداوار کی شرح نمو میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے، میگا پراجیکٹس کی تعمیر جاری رہے، غربت کا گراف نیچے آتا رہے بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول میں بھی بہتری آنی چاہئے۔ برآمدات میں اضافہ نہ ہونے کے اسباب دور کرنے کی حکومت کو ہرممکن کوشش کرنی چاہئے اور تعلیم و صحت کی سہولتیں مہیا کرنے میں کوئی کسر نہیں رہنی چاہئے۔ اس سب کا حصول ایک جامع منصوبہ بندی اور عمل پیہم سے ہی ہو سکتا ہے۔ حکومت کو برسراقتدار آئے4ماہ سے زیادہ کاعرصہ ہو چکا ہے اس نے جہاں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہیں کچھ شعبوں میں پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اس جانب پوری طرح متوجہ ہونا پڑے گا کیونکہ پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے خودکفیل بنائے بغیر ہم صحیح معنوں میں قومی آزادی بھی حاصل نہیں کر سکتے اور ملک کے عام شہری کو ایک بہتر زندگی گزارنے کی سہولتیں فراہم کرنے کے اہم ترین ریاستی اور حکومتی فریضے کی تکمیل بھی نہیں کر سکتے۔ ترقی کا عمل جاری رہنا چاہئے جو سقم پائے جاتے ہیں دور کرنے کی بہتر منصوبہ بندی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔ اسی میں حکومت، عوام اور ریاست کی کامیابی کا راز مضمر ہے۔


ای پیپر