پنجاب میں کرپشن مخالف مہم
02 جنوری 2019 2019-01-02

پاکستان کی افسر شاہی اور سیاستدانوں میں دو طرح کے لوگ ہیں ۔ ایک تو وہ آفیسر ہیں جو کام تو کم کرتے ہیں مگر میڈیا کے ذریعے داد و تحسین وصول کرنے کے فن میں یکتا ہیں اور اسی طرح کچھ سیاستدان بھی میڈیا میں رہنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ اس طرح کے سیاستدان اور آفیسر عام حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ وقت کے مطابق پینترہ بدلنے کی کمال صلاحیت رکھتے ہیں۔ اشارہ پاتے ہی یہ فاختہ سے عقاب اور پھر دوبارہ فاختہ بننے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔

دوسری طرح کے لوگ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ وہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے کی بجائے اپنے فرائض منصبی کو ایمانداری اور پوری دلجمعی سے ادا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کو جو بھی کام سونپا جاتا ہے وہ اسے چیلنج سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور قاقتوروں کی پروا کیے بغیر کسی کی داد یا مخالفت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے اہداف پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

اس مختصر تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت بد عنوانی اور احتساب کے نعرے لگا کر برسر اقتدار آئی ہے۔ تحریک انصاف کے وزراء میڈیا پر کرپشن کے خلاف زور دار مہم چلائے ہوئے ہیں۔ کرپشن کے خلاف نیب ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کے ادارے سر گرم ہیں۔ نیب کے اعلیٰ عہدیداران اور خاص طور پر ڈی جی نیب لاہور کو تو ٹی وی چینلز کو خصوصی انٹرویو دینے کا بہت شوق ہے۔ نیب اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں ( JITs ) کی تحقیقاتی رپورٹس پر قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلے سے پہلے ہی میڈیا پر کردار کشی کا آغاز ہو جاتاہے۔ نیوز سٹوڈیوز میں سر شام عدالتیں لگ جاتی ہیں اور عدالتی فیصلوں سے پہلے ہی میڈیائی فیصلے صادر ہو جاتے ہیں۔

ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بد عنوانی کو روکنے اور اس کا سد باب کرنے کے ذمہ دار اپنے فرائض کی درست ادائیگی میں ناکام رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بد عنوانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی گیا ہے۔ اگر یہ ادارے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے اور احتساب اور بد عنوانی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بجائے بلا تحقیق قانون کے مطابق کرتے تو ایسی صورت حال پیدا نہ ہوتی۔

اس وقت پنجاب میں اینٹی کرپشن کا ادارہ بہت فعال ہے اور بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے اور کم کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ اس ادارے کی سر براہی اس وقت پاکستان پولیس سروس کی نہایت قابل ، مستند، فعال اور سینئر ترین آفیسر حسین اصغر صاحب کر رہے ہیں۔ جو کہ نہ صرف پوری دلجمعی اور دیانتداری سے اپنے سرکاری فرائض انجام دیتے ہیں بلکہ انتہائی روشن ضمیر، انسان دوست اور خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی بحیثیت ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب تعیناتی تحریک انصاف کے اب تک کے چند احسن فیصلوں میں سے ایک اچھا فیصلہ ہے۔ اس فیصلے کے مثبت اثرات کو پنجاب میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب اس وقت پوری طرح متحرک ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر کے کروڑوں روپے کی ریکوریاں کر رہی ہے۔ سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں ، غلط الاٹمنٹ اورلیز، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں کمرشلائزیشن فیسوں اور سرکاری ٹھیکوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے حوالے سے بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

میری اطلاعات کے مطابق اینٹی کرپشن پنجاب سرکاری زمینوں اور نقد رقوم کی رو میں اب تک گزشتہ ڈھائی ماہ میں 35 ارب روپے کی ریکوری کر چکی ہے۔ اینٹی کرپشن پنجاب سالانہ ایک ارب روپے کی ریکوری کرتا تھا۔ اس وقت روزانہ کروڑوں روپے کی ریکوری ہو رہی ہے۔ مقدمات درج ہو رہے ہیں سرکاری زمینیں واگزار کروائی جا رہی ہیں۔ سرگودھا ، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع میں کمرشلائزیشن فیسوں کی مد میں واجب الادا کروڑوں روپے سرکاری خزانے میں جمع ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ خاموشی سے ہو رہا ہے۔ نہ تو حسین اصغر روزانہ ٹی وی چینلز پر نمودار ہوتے ہیں اور اپنے کارنامے اور کارروائیاں قوم کو بتاتے ہیں اور نہ ہی ہفتہ وار پریس کانفرنسوں کے ذریعے قوم کو بہت جلد اربوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔ حسین اصغر صاحب کی قیادت میں اینٹی کرپشن پنجاب کوئی خصوصی کام نہیں کر رہی بلکہ وہی کر رہی ہے جو کہ اس ادارے کا بنیادی کام ہے۔ ہمارے سرکاری ادارے عمومی طور پر اپنے سرکاری فرائض سر انجام دینے سے گریز کرتے ہیں۔وہ اپنے بنیادی سرکاری فرائض کی انجام دہی سے زیادہ توجہ اپنے سیاسی اور غیر سیاسی آقاؤں کو خوش رکھنے پر مرکوز رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب سرکاری افسر پوری دیانتداری اور مستعدی سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کچھ غیر معمولی کام کر رہا ہے ۔ ہمارا ریاستی ڈھانچہ اور ریاستی اہلکار اس قدر غیر فعال اور اپنے بنیادی فرائض سے اس قدر غافل ہیں کہ جیسے ہی کوئی مستعد، دیانت دار اور فعال سربراہ آتا ہے اور وہ ادارے کو فعال کرتا ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہونی ہو رہی ہے۔ جب کسی سرکاری ادارے میں سرکاری عملہ لوگوں سے تمیز سے بات کرے اور ان کے روٹین کے جائز کام کے پیسے طلب نہ کرے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ جبکہ ایسا کرنا ان ریاستی اہلکاروں کے فرائض منصبیمیں شامل ہے اور ریاست انہیں اسی کام کے پیسے دیتی ہے۔

جن اداروں کا کام رشوت، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنا ہے وہ اگر فعال ہوں اور سیاسی وغیر سیاسی اثرو رسوخ سے پاک ہوں تو وہ بد عنوانی ہونے اور اختیارات کے ناجائز استعمال ہونے کے سالوں بعد ان کی تحقیقات نہ کریں بلکہ ان سب چیزوں کو اس وقت روکیں جب وہ ہو رہی ہوں، ہم اب 19 ویں یا 20 ویں صدی کے شروع میں نہیں رہتے بلکہ 21 ویں صدی کی تیسری دہائی میں داخل ہونے والے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو روک سکتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکسوں اور پروکیورمنٹ کے پورے عمل کو شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں اس طرف پوری سنجیدگی کے ساتھ بڑھنے کی ضرورت ہے۔

حسین اصغر اپنی ٹیم کے ساتھ اس وقت پنجاب میں یہی کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ جو کچھ ان کا ادارہ کر رہا ہے پنجاب کے کسی وزیر یا مشیر نے کبھی میڈیا پر آ کر اس کا ذکر نہیں کیا۔اگر حکومتی وزراء اور ترجمانوں کو حزب مخالف کو برا بھلا کہنے سے اور سیاسی بیان بازی سے تھوڑی فرصت ملے تو وہ اس حوالے سے بھی قوم کو آگاہ کریں ۔ مثلاً اینٹی کرپشن نے ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں محکمہ جنگلات کی 99 ہزار ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی بندر بانٹ کو رکوایا۔ اگر اینٹی کرپشن کا ادارہ اور ان کا سربراہ پوری کوشش نہ کرتے اور اس پر پوری توانائی خرچ نہ کرے تو ان تک اس سرکاری زمین کی با اثر افراد میں بندر بانٹ ہو چکی ہوتی۔ مگر ان کی کوششوں کی وجہ سے اربوں روپے کی زمین کو کوڑیوں کے بھاؤ لیز پر دینے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ۔ اس سارے معاملے کی تفصیلات اگلے کالم میں بیان کروں گا۔ اسی طرح ایسی سرکاری زمین جو کہ مختلف با اثر افراد اور سیاسی گھرانوں کے زیر قبضہ تھی مگر اس زمین کی لیز ختم ہو چکی تھی۔ وہ بھی واگزار کرائی گئی ہے ۔ سرکاری فرائض سے غفلت برتنے اور با اثر افراد کو فائدے پہنچانے کی ایسی ایسی داستانیں سامنے آئی ہیں کہ انسان اپنا سر پکڑ لیتا ہے۔ ان پر اگلے کالم میں بات ہو گی۔


ای پیپر