proportion,population,Pakistan,facilities,health facilities,hospitals
02 فروری 2021 (13:27) 2021-02-02

لاہور( میاں نوید سے) پاکستان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے عوام کے لیے صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن  صحت کی سہولتوں یا ہسپتالوں میں اضافہ نہ ہوسکا۔ پاکستان میں آئندہ سالوں میں شعبہ صحت کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو شعبہ صحت مزید زبوں حالی کا شکار ہو گا جس کے باعث سرکاری سطح پر عوام کے لیے صحت کی سہولیات ایک خواب بن جائے گا ۔ پاکستان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں 1ہزار 6سو8 افراد کے لیے ایک بیڈ ، 9سو 63افراد کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ دوسری جانب 9ہزار4سو13افراد کے لیے ایک ڈینٹل ڈاکٹر میسرہے۔2 ہزار 28افراد کے لیے ایک نرس خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ 

پاکستان اکنامک سروے کے مطابق ملک بھر میں اس وقت مجموعی طورپر 1279 ہسپتال،5671ڈسپنری،5527 بنیادی مراکز صحت، 747 میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر،686دیہی مراکز صحت اور مریضوں کے لیے 1لاکھ32 ہزار2سو27بیڈز دستیاب ہیں۔پاکستان کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے 1ہزار 6 سو8 افراد کے لیے ایک بیڈ میسر ہے یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض لیٹے ہوتے ہیں ۔ دوسری جانب مریضوں کو علاج فراہم کرنے والے ہیلتھ پروفیشنلز کی بات کریں تو اس میں بھی شدید کمی ہے۔ پاکستان میں اس وقت رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی تعداد 2لاکھ20ہزار8سو29،رجسٹرڈ نرسزکی تعداد1لاکھ8ہزار4سو74،رجسٹرڈ ڈینٹل ڈاکٹرز کی تعداد22ہزار5سو95،رجسٹرڈ مڈوائفریز کی تعداد40ہزار2سو 72اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد19 ہزار9سو10ہے۔

آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بات کریں تو 9سو 63افراد کے لیے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے جبکہ دوسری جانب 9ہزار4سو13افراد کے لیے ایک ڈینٹل ڈاکٹر میسر ہے۔ اسی طرح پاکستان میں دیگر ہیلتھ پروفیشنلز میں لیڈی ہیلتھ ورکر، مڈوائفری ، نرسز ، پیرامیڈیکل سٹاف کی بھی شدید کمی ہے۔ ملک بھر میں 1279ہسپتال قائم ہیں جس میں تحصیل و ڈسٹرکٹ اور ٹیچنگ ہسپتال شامل ہیں۔ 

پاکستان میں 5527بنیادی مراکز صحت اور686دیہی مراکز صحت قائم تو ہیں لیکن مذکورہ بنیادی و دیہی مراکز صحت میں سہولیات میسر نہیں ہیںجس کی وجہ سے مریضوں کو تحصیل وڈسٹرکٹ اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں نزلہ ،زکام اور بخار کے مریضوں کو ریفر کردیا جاتاہے حالانکہ مذکورہ مریضوں کو پرائمری لیول پر جنرل فزیشنز یا بنیادی و دیہی مراکز صحت میں علاج معالجہ ملنا چاہے لیکن بدقسمتی سے ان مریضوں کو تحصیل وڈسٹرکٹ اور ٹیچنگ ہسپتالوں ریفر کردیا جاتاہے اسی طرح بے شمارمریضوںکا علاج تحصیل وڈسٹرکٹ ہسپتالوںمیں ہونا چاہے لیکن سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث ٹیچنگ ہسپتالوں میں ریفر کردیا جاتاہے جس کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوںمیں شدید رش ہوتا ہے اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


ای پیپر