Asif Inayat columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
02 فروری 2021 (11:13) 2021-02-02

دیوان سنگھ مفتوں کا 1957ء میں شائع شدہ کالموں کے مجموعہ میں ایک مضمون ’’جھوٹ بولنے کی فطرت‘‘ کے عنوان سے پڑھا تو آج کل صورت حال سے اندازہ ہوا اشرافیہ، سٹیک ہولڈرز، ترجمانوں اور اس قبیل کے لوگوں میں یہ فطرت نئی نہیں ہے، لکھتے ہیں:

’’مجھے اپنی زندگی میں جھوٹ بولنے والے بہت سے لوگوں سے سابقہ پڑا۔ مگر مرحوم مہاراجہ بھرت پور کا مقابلہ غالباً کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا۔ 

مرحوم مہاراجہ بھارت پور کو گدی سے علیحدہ کیے جانے کا مسئلہ گورنمنٹ کے سامنے پیش تھا۔ اصل واقعہ تو یہ تھا کہ آپ پولیٹیکل ایجنٹوں کی پروا نہ کرتے تھے۔ پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے تمام افسر آپ کے رویہ سے نالاں تھے۔ مگر آپ گدی سے علیحدہ اس جرم میں کیے جانے والے تھے کہ آپ کے ایک اے ڈی سی نے بھرت پور کی ایک نرس کی عصمت دری کی۔ ایک پہاڑی طوائف جو مہاراجہ کے پاس تھی کا قتل ہوا۔ اس قتل میں مہاراجہ کا ہاتھ تھا اور مہاراجہ کے زمانہ میں ریاست بھرت پور ساٹھ ستر لاکھ روپے کی مقروض ہو گئی۔ نرس اور پہاڑی طوائف کا مسئلہ تو ابھی شروع ہی نہ ہوا تھا کہ پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ نے سب سے پہلے ریاست بھرت پور کی مالی تباہی کے مسئلے کو ہاتھ میں لیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ صرف اس مسئلہ پر ہی خاموشی کے ساتھ مہاراجہ کو بے اختیار کیا جائے۔ اور مہاراجہ برائے نام گدی پر رہیں۔ چنانچہ پولیٹیکل سیکرٹری گورنمنٹ ہند اور ایجنٹ گورنر جنرل راجپوتانہ کے ہاں سے اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ ریاست کی مالی حالت تباہی تک پہنچ چکی ہے۔ اس لئے ریاست کی ایڈمنسٹریشن پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے ہاتھوں میں دے دی جائے۔ 

اس زمانہ میں بھرت پور میں وزیراعظم راؤ بہادر چودھری لال چند تھے (جو بعد میں پنجاب میں منسٹر رہے) چودھری لال چند مہاراجہ کے دیانت دار اور مخلص دوستوں میں سے تھے اور آپ کا اس زمانہ کے پولیٹیکل سیکرٹری گورنمنٹ ہند سر جان تھامپسن پر بھی بہت اثر تھا چودھری لال چند چاہتے تھے کہ جس صورت میں بھی ممکن ہو مہاراجہ بے اختیار نہ ہوں اور ان کے اور پولیٹیکل ڈیپارٹمنٹ کے تعلقات خوش گوار ہو جائیں۔ چنانچہ چودھری صاحب نے مہاراجہ سے مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ سر جان تھامپسن کو بھرت پور آنے کی دعوت دی جائے اور یہاں بات چیت کر کے سر جان کو مطمئن کیاجائے۔ 

سرجان تھامپسن کو چودھری صاحب نے بھرت پور آنے اور وہاں شکار کھیلنے کی دعوت دی۔ سرجان چودھری لال چند کے گہرے دوستوں میں سے تھے۔ اگر مہاراجہ لکھتے تو شاید سر جان انکار کر دیتے مگر آپ کے دل میں چودھری صاحب کے لیے بہت عزت اور قدر تھی۔ آپ نے اس دعوت کو منظور کر لیا اور آپ تاریخ مقررہ پر بھرت پور پہنچ گئے۔ 

سرجان تھامپسن جب بھرت پور پہنچے تو ریلوے سٹیشن پر مہاراجہ اور چودھری لال چند نے آپ کا استقبال کیا اور تینوں اصحاب 

ایک کار میں ریاست بھرت پور کے مقام ڈیگ کو روانہ ہوئے۔ 

ڈیگ بھرت پور سے غالباً سولہ یا بیس میل کے فاصلے پر ہے اور یہ بہت اچھی شکار گاہ ہے۔ اس کار کو مہاراجہ بھرت پور خود چلا رہے تھے۔ ان کے بائیں طرف اگلی سیٹ پر سر جان تھامپسن تھے اور پچھلی سیٹ پر چودھری لال چند۔ کارچل رہی تھی تو مہاراجہ نے سر اجان تھامپس کے ساتھ باتیں شروع کیں۔ باتوں باتوں میں مہاراجہ نے سر جان سے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔ 

بعض لوگ مجھ پر فضول خرچی اور مقروض ہونے کا الزام لگاتے ہیں مگر لوگوں کو علم نہیں کہ میرے پاس پوشیدہ خزانہ ہے۔ اور اس خزانے میں ساٹھ لاکھ روپیہ نقد چاندی کا موجود ہے۔ میں یہ پوشیدہ خزانہ کسی کو بتانا نہیں چاہتا۔ صرف ایک بار چودھری لال چند کو دکھایا اور وہ بھی اس طرح کہ اس خزانہ سے بہت دور ایک مقام پر چودھری لال چند کی آنکھیں باندھ دی گئیں تا کہ ان کو کچھ نظر نہ آ سکے۔ میرے معتمد آدمیوں نے چودھری صاحب کو اٹھا لیا اور یہ اس خزانہ کے اندر لے گئے۔ خزانہ کے اندر لے جا کر چودھری صاحب کی آنکھیں کھول دی گئیں۔ اور چودھری صاحب سے کہا گیا کہ آپ چاندی کے روپیہ کی ان تھیلیوں کو گن لیجیے۔ چودھری لال چند نے ان تمام تھیلیوں کو گنا تو یہ ساٹھ لاکھ روپیہ تھا۔ ہم نے چودھری صاحب کی آنکھیں پھر باندھ دیں اور میرے آدمی چودھری صاحب کو اٹھا کر خزانہ سے باہر اس مقام پر لے گئے جہاں سے کہ چودھری صاحب کو لایا گیا تھا‘‘۔ 

مہاراجہ یہ کہانی بیان کر رہے تھے اور سر جان تھامپسن ہوں ہوں کہہ کر سنتے چلے جا رہے تھے اور چودھری لال چند حیران تھے کہ مہاراجہ کو کیا ہو گیا۔ جو آپ پولیٹیکل سیکرٹری گورنمنٹ ہند کے سامنے اس قدر لچر اور بیہودہ جھوٹ بول رہے ہیں جس کا نہ سر ہے نہ پاؤں اور اس جھوٹ کا نتیجہ کیا ہو گا۔ 

موٹر ڈیگ کے مقام پر پہنچی وہاں مہاراجہ اورمہمانوں کے لیے علیحدہ علیحدہ کوٹھیاں ہیں۔ یہ کارڈیگ پہنچتے ہی مہمان خانے میں گئی۔ جہاں کہ سر جان کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ کار ٹھہری۔ سر جان اس میں سے اترے اورمہاراجہ نے چودھری صاحب کو حکم دیا کہ آپ یہاں ہی ٹھہرئیے اور سر جان کے آرام کا انتظام کیجیے۔ تا کہ ان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ یہ کہہ کر مہاراجہ اپنی کوٹھی چلے گئے۔ سر جان تھامپسن بہت ہی لائق اور ہوشیار سویلین میں سے تھے۔ آپ نے بنگلے کے کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے چودھری لال چند سے سوال کیا۔ 

’’ویل چودھری صاحب! مہاراجہ نے یہ جو ساٹھ لاکھ روپیہ کا قصہ سنایاہے اس میں کہاں تک سچائی ہے‘‘۔ 

چودھری لال چند جواب کیا دیتے۔ وہ کوئی ادنیٰ سا جھوٹ بولنا بھی اپنے لیے باعث شرم سمجھتے تھے۔ اس اہم ، بے بنیاد اور لچر جھوٹ کو کیوں کر قبول کر لیتے۔آپ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ 

’’میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے یہ سوال کار میں ہی مہاراجہ کے سامنے نہ کر دیا ور نہ میری پوزیشن بہت ہی نازک ہو جاتی‘‘۔ 

جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کہانی میں کوئی سچائی نہیں۔ 

مہاراجہ بھرت پوراپنے انتقال سے پہلے ایک عرصے تک دہلی میں رہے۔ پہلے آپ کا قیام اس سڑک پر تھا جو سبزی منڈی سے گالف کلب کوجاتی ہے۔ پھر آپ راجپور روڈ پر اس کوٹھی میں چلے گئے جو پیلے رنگ کی دو منزلہ ہے اور بعد میں سردار سوبھا سنگھ کی کوٹھی میں نئی دہلی چلے آئے۔ جہاں کہ آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کے دہلی کے اس قیام میں ایڈیٹر ’’ریاست‘‘ کو آپ سے ملنے کا اکثر اتفاق ہوتا۔ ان ملاقاتوں میں شاید ایک ملاقات بھی ایسی نہ ہو گی جس میں آپ کو دورغ بیانیوں کا ذہن پر ناقابل برداشت اثر نہ ہوا ہو۔ 

جو لوگ زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹ بولنا ان کی فطرت میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ جھوٹ کو جھوٹ سمجھ کر نہیں بولتے بلکہ دروغ بیانی کو وہ ایک معمولی سی بات سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ نفرت کے اتنے مستحق نہیں جتنے کہ یہ قابل رحم قرار دیے جانے چاہئیں کیونکہ سالہا سال تک مسلسل جھوٹ بولنے کے بعد ان کے بعد یہ ممکن نہیں کہ وہ جھوٹ نہ بولیں اور اپنی اس عادت کو تر ک کر سکیں‘‘۔


ای پیپر