rashid khawaja,awais ghauri columns,urdu columns,epaper
02 فروری 2021 (11:11) 2021-02-02

میزپر تمام چیزیں ابھی تک بہت ترتیب سے پڑی تھیں۔ کرسی پر کوٹ ٹنگا ہوا تھا اور اس کی اندر کی جیب سے کوئی کاغذ کا ٹکڑا باہر جھانک رہا تھا جس پر شاید کوئی نوٹس لئے گئے ہوں گے۔ ٹیبل پر لیپ ٹاپ تھا جس کے پیچھے کوئی سات آٹھ ماسک کیل پر ٹنکے ہوئے تھے۔ ساتھ ایک ادھ کھلا لیدر کیس پڑا تھا جس کے اندر سے دوائیاں نظر آرہی تھیں۔ میں نے یہ منظر دیکھا اور کتنی دیر تک یہی سوچتا رہا ہے یہاں ایک دن پہلے تک وہ انسان بیٹھا کرتا تھا جو کسی قدر دان معاشرے میں پیدا ہوتا تو اس سے ملنے کیلئے کتنے مہینے پہلے وقت لینا پڑا۔ اس کی کتاب کا پہلا ایڈیشن لوگ دہائیوں تک سنبھال کر رکھتے اور پھر اس کو لاکھوں ڈالر میں نیلام کرتے۔مگر یہاں راشد خواجہ کیپٹلزم اور مارکسزم کے نظام کی حقیقتیں آشکار کرتے ہوئے دنیا سے چلے گئے۔ کمرشلزم اور پی آر کی دنیا سے بیزار ایک تخلیقی ذہن آسودہ خاک ہو گیا۔

دنیا میں بسنے والے 7 ارب 80 کروڑ لوگوں میں سے کتنے ہوں گے جو اپنے بجائے کسی اور کے بارے میں سوچتے ہوئے ساری زندگی تج دیتے ہوں گے ٗ جن کو فکر نہیں ہو گی کہ وہ کوئی دنیاوی تمغہ سینے پر سجائے بغیر رخصت ہو رہے ہیں ٗ اپنی اولاد کیلئے گھر ٗ گاڑی نہیں بلکہ حقیقی شعور کی دولت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ان اربوں کے ہجوم میں شاید چند لاکھ لوگ ہی یہ جذبہ دلوں میں رکھتے ہیں اور بے لوث زندگی گزارتے ہیں لیکن تخلیقی ذہن رکھنے والوں کی تعداد تواس سے بھی کم ہو گی۔ وہ لوگ جو الگ سوچتے ہیں ٗ وقت سے آگے کا سوچتے ہیں اور پھر اپنے ارد گرد لوگوں کیلئے علمی خزانہ چھوڑ کر بھی جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے لوگوں کی بات سنی جاتی ہے ٗ ان کے لکھے ہوئے کو عزت دی جاتی ہے ٗ انہیں عوام کی طرف سے تکریم دی جاتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے معاشرے میں روشنی پھیلا رہے ہیں۔ وہاں کے سٹیفن ہاکنگ ٗ وہیل چیئر پر بھی عزت پاتے ہیں مگر ترقی پذیر ممالک میں جینئس گمنامی کی زندگی گزار کر دنیا سے چلے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ والے گھر کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیسا دماغ دنیا سے رخصت ہو گیا۔ دنیا میں کچھ لوگ صرف اپنے لئے جینے آتے ہیں ٗ ان کی زندگی صرف اپنی  ذاتی ترقی پر مرکوز ہوتی ہے اور کمرشلزم کے چند بنیادی اصول سیکھ کر وہ اس میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں لیکن ترقی پذیر ممالک کا یہ المیہ ہوا کرتا ہے کہ یہاں اگر کوئی تخلیقی دماغ پیدا ہو  جائے تو اسے تخلیقی کام سے بھی پہلے کمرشلزم کی دنیا میں نام بنانا پڑتا ہے۔ پبلک ریلیشن کی دنیا وہ سفاک دنیا ہے جہاں پر زیادہ محنت کرنے والے اکثر تخلیقی اذہان سے آگے نکل  جایا کرتے ہیں۔ جس معاشرے میں میل جول کا یہ مقام رکھا جاتا ہے ہو کہ کس کے پاس کتنی بڑی گاڑی ہے ٗ کتنا مہنگا موبائل اور کتنے مہنگے کپڑے تو ان معاشروں میں اکثر سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو ان ’’دولے شاہ‘‘ کے چوہوں کی محفل میں پاگل قرار دیا جاتا ہے۔ اکثر ہنس کر کہا جاتا ہے کہ ’’زیادہ کتابیں‘‘ پڑھ کر یہ بندہ پاگل ہوگیا یا حد سے زیادہ علم بھی بندے کو پاگل کر دیتا ہے۔ 

راشد خواجہ سے میرے تعلق کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ ایک اور ناکام بزنس زندگی کے نامہ اعمال میں لکھا جانا تھا اور اسی بزنس کو اس سے قبل راشد خواجہ صاحب ناکام کر چکے تھے اور اس کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کیلئے  انٹری ہوئی تو 

ایک کمرشل پلازے میں دیواروں کے ساتھ لگی دنیا جہاں کی کتابوں پر نظر پڑی اوروہاں دو کتابوں نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی۔ ’’متاع گم گشتہ اور اب تو جاگ جائو کو شیلف سے نکالا اور پڑھنا شروع کیا تو پھر گھر پہنچنے اور پھر رات گئے سونے سے قبل ایک کتاب ختم کر چکا تھا۔ اس سارے عمل کے دوران یہی سوچتا رہا کہ یہ شاید کسی یورپی فلاسفر کی کتاب کا ترجمہ ہو گا۔ پہلی بار اپنے معاشرے کے رویوں کو لیکر حقیقی انسانی نفسیات کو پڑھنے کا موقع ملا۔ معاشرتی مسائل تو موجود تھے مگر ان کا حل بھی ساتھ ہی موجود تھا۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ کسی پاکستانی مصنف نے لکھا ہے مگر آخر کار یقین کرنا پڑا کہ واقعی یہ کسی یورپی فلاسفر کا ترجمہ نہیں بلکہ پاکستانی تخلیقی ذہن کی تصنیف ہے۔ 

پھر راشد حفیظ سے ملاقات ہوئی ٗ  سوال جواب کی نشست ہوئی اور پھر کئی نشستیں ہوئی۔ انہیں میں نے ہر قسم کے دنیا وی لالچ سے مبرا پایا ٗ حلیم طبع ٗ دلیل سے بات کرنے والے ٗمنظم شخصیت کے مالک۔ ان کے ساتھ آپ دنیا کی لایعنی ترین بات کر سکتے تھے اور وہ اس کا جواب اتنے ہی تحمل سے دیتے تھے جیسے آپ کی بات بہت ہی شاندار رہی ہو۔ ایک نیوز چینل میں کلرکی کے دوران طیب ابراہیم سے تعلق بنا اور پھر یہ تعلق کیسے دوستی اور پھر بھائی چارے میں تبدیل ہو گیا پتہ ہی نہیں چلا اور پھر ایک دن معلوم ہوا کہ یہ طیب صاحب انہی راشد خواجہ کے صاحبزادے ہیں۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھے کچھ لکھنے میں مصروف ہوتے۔ ان کے موبائل میں کل ملا کر12 لوگوں کے نمبر محفوظ تھے  ٗ بس وہ ہوتے اور ان کی تحقیق۔ انہوں نے افسوسنانے ٗ زن ٗ زر اور زہریلا نظام ٗ متاع گم گشتہ اور اب تو جاگ جائو جیسی شہرہ آفاق کتابیں لکھیں اور کمال بات یہ ہوئی کہ یہ تمام کتابیں کمرشلزم کی بھینٹ چڑھ گئی اور صرف انہی لوگوں تک پہنچ سکیں جو علم کی حقیقی جستجو رکھتے تھے۔ 

دنیا سے جانے سے ایک دن قبل میری ملاقات ہوئی تو ہم نے طے کیا کہ ان کی کتابوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے۔ ان کی نئی تصنیف ’’مردہ قوم کی حیات نو‘‘ حتمی مراحل میں پہنچ چکی تھی جو انہوں نے مجھ خاکسار کے ساتھ شیئر کی کہ میں اسے پڑھوں اور اپنی ناقص رائے دوں  لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی  اور مردہ قوم میں جنم لینا والا یہ شاندار انسان دنیا سے کنارہ کش ہو گیا۔ وہ نہ جانے کتنے دنوں سے شدیدکرب کا شکار تھے مگر ان کے چہرے پر کبھی درد کے آثار نہ دیکھے کہ کہیں قریب موجود لوگ پریشان نہ ہوں۔ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ ایک مردہ قوم میں پیدا ہوئے جو ساری عمر کمرشلزم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے فلسفے کو سمجھ نہ پائی۔ کاش وہ اس ملک میں پیدا نہ ہوئے ہوتے اور کسی ایسے ملک میں ہوتے جہاں پر ایسے لوگوں کی قدر ہوتی ہے۔


ای پیپر