taseer mustafa columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
02 فروری 2021 (11:02) 2021-02-02

پیر4جنوری کی صبح میرا موبائل فون سائلنٹ پر تھا کہ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے برادرم رستم، ہمارے دیرینہ رفیقِ کار اور بھائی سلمان عابد کی مس کالوں کے بعد ٹرسٹ کے اکائونٹنٹ برادرم سعد کی کال آگئی۔ انہوں نے سلام دعا کے بغیر ہی یہ اندوہناک خبر سنائی کہ برادرم رئوف طاہرکا انتقال ہوگیا ہے۔ تفصیلات اُن کے پاس بھی نہیں تھیں۔ میں فوری طور پر ٹرسٹ کے دفتر پہنچا، جہاں ہنگامی طور پر پون بجے ہی ظہر کی نماز ادا کردی گئی، لیکن صف میں مستقل نمازی جناب رئوف طاہر نہیں تھے کہ اُن کی تو اپنی نماز چند گھنٹے بعد ادا ہونے والی تھی۔ ہم کوئی وقت ضائع کیے بغیر جناب رئوف طاہر کے گھر پہنچے۔ گیٹ پر ’’زاہدہ منزل‘‘ کی تختی دیکھ کر دل ہل گیا۔ جناب رئوف طاہر کی اہلیہ زاہدہ نومبر 2013ء میں انتقال کرگئی تھیں۔ آج رئوف طاہر بھی جدائی کے سات سال کاٹ کر اُن کے پاس پہنچ گئے تھے۔ ڈرائنگ روم میں جناب مجیب الرحمٰن شامی بمشکل اپنے آپ کو سنبھالے بیٹھے تھے، اور سامنے غموں کے پہاڑ تلے دبا ہوا نوجوان آصف طاہر بتارہاتھا کہ مرحوم رئوف طاہر صبح 9:30 بجے تیار ہوکر گھر ہی سے یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کی آن لائن کلاس لے رہے تھے۔ آصف کمپیوٹر پر آن لائن کلاس کا بندوبست کرکے اٹھا تو رئوف طاہر نے سوا دس بجے آکر حاضری لگانے کا کہہ دیا۔ اس دوران یونیورسٹی کے کوآر ڈی نیٹر جناب رحمٰن ناصر کا فون آگیا جنہیں رئوف طاہر نے بتایا کہ ان کی طبیعت مضمحل سی ہے اور سانس اکھڑ رہا ہے۔ رحمٰن ناصر نے معاملے کی سنگینی کو بھانپ لیا اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران برخوردار آصف اٹینڈنس لینے کے لیے آگیا۔ وہ یہ کام کر ہی رہا تھا کہ صوفے پر بیٹھے ہوئے رئوف طاہر کی سانسیں زیادہ ڈسٹرب ہوگئیں اور وہ صوفے پر ہی نیم دراز ہوگئے ۔ چنانچہ آصف اپنے دوسرے بھائی کاشف کی  مدد سے انہیں گاڑی میں ڈال کر لاہور یونیورسٹی ہسپتال کی طرف دوڑ پڑا۔گھر میں موجود رئوف طاہر کی بیٹی میمونہ نے فوری طور پر شامی صاحب سے رابطہ کیا۔ اُن سے رابطہ نہ ہونے پر بیگم مجیب الرحمٰن شامی کو اطلاع کی، جنہوں نے شامی صاحب کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ شامی صاحب نے اسی وقت ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر زاہد پرویز کو فون کرکے انہیں الرٹ کردیا، کہ اُس وقت تک رئوف طاہر ہسپتال نہیں پہنچے تھے۔ چند منٹ بعد ہی ایم ایس نے شامی صاحب کو فون پر اطلاع دی کہ رئوف طاہر ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی 

اللہ کے حضور پہنچ چکے تھے۔ 

یہ ہے اس شخص کی ابدی منزل کی جانب روانگی کی کل کہانی، جس نے تمام عمرجدوجہد کی۔ رزقِ حلال سے اپنے خاندان کی پرورش کی۔ نظریاتی محاذ پر ڈٹا رہا۔ پیشہ ورانہ صحافت میں ایمان داری اوردیانت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ دوستوں ہی نہیں، مخالفوں کے دکھ سُکھ میں شریک رہا۔ اپنے مؤقف کے اظہار میں سخت ترین لہجہ اختیار کرنے کے باوجود دوسروں کا احترام کیا۔ رپورٹنگ میں اپنی محنت سے مقام بنایا، اور کالم نگاری کو مطالعہ اور حافظہ کی بدولت ایک نیا اسلوب دیا۔ بہاولنگر کی تحصیل ہارون آباد سے لاہور آنے والے اس طویل قامت  جاٹ نے زندگی بھر محبتیں بانٹیں اور صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ بطور طالب علم ہی وہ اپنے ضلع کے نیک نام طالب علم لیڈر تھے۔صحافتی مشقت انہوں نے دورِ طالب علمی ہی میں شروع کر دی تھی۔ پہلے روزنامہ حریت کراچی میں مضمون لکھنے شروع کیے، پھر بہاولنگر یا ہارون آباد میں روزنامہ کوہستان لاہور کے نامہ نگار ہوگئے۔ ہارون آباد کے بعد ملتان سے ہوتے ہوئے  پنجاب یونیورسٹی لا کالج پہنچے تو جناب مظفربیگ کے ہفت روزہ آئین میں لکھنا شروع کردیا۔ یہاں سے انہیں اتنے پیسے مل جاتے تھے جنہیں ایک طالب علم عیاشی تصور کرسکتا ہو۔ پھر عبدالقادر حسن کے ہفت روزہ افریشیا میں با قاعدہ ملازمت کرلی۔ یہیں سے وہ اردو ڈائجسٹ میں چلے گئے۔ پھر ہفت روزہ زندگی میں ڈپٹی ایڈیٹر ہوگئے ۔اور 80ء کی دہائی میں روزنامہ جسارت لاہور کے بیورو چیف ہوگئے

جناب رئوف طاہر سے میراغائبانہ تعارف تو 1970ء کی دہائی میں ہی ہوگیا تھا، کہ وہ مقرر اور ڈیبیٹر کے طور پر تعلیمی حلقوں میں، اور ایک نظریاتی، متحرک اور سرگرم کارکن کے طور پر اسلامی جمعیت طلبہ کے حلقوں میں معروف تھے۔ ہارون آباد، بہاولنگر، ملتان اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں بطور طالب علم لیڈر اُن کا نام گونجتا تھا۔ وہ 1970ء کی دہائی کی تمام طلبہ تحریکوں میں متحرک رہے، ہمیشہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ اُن سے رکنیتِ جمعیت کا حلف سیّد منور حسن مرحوم نے لیا تھا۔ گورنمنٹ کالج ہارون آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پینل میں صدارتی امیدوار تھے مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ جاوید ہاشمی، فرید پراچہ اور دوسرے دوستوں کی انتخابی مہم انہوں نے اس انداز میں چلائی جیسے خود انتخاب لڑ رہے ہوں۔ یونیورسٹی کی سطح پر فیصلوں میں وہ سرگرمی سے شریک ہوتے، اپنی رائے کا دبنگ انداز میں اظہار کرتے۔ مولانا مودودیؒ کی اکثر عصری نشستوں میں شریک ہوتے اور اچھرہ میں اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی دفتر کو خاصا وقت دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں انہیں تقریر اور تحریر کی بہترین صلاحیتیں عطا کی تھیں، وہیں لوگوں سے تعلقات اُن کی اضافی خوبی تھی۔ ہر عمر کے لوگ، ہر نقطہ نظر سے وابستہ افراد، ہر پیشے اور شعبے کے ماہرین، امیر غریب، آجر اجیر، صحافی اور مالکان، علماء اور لبرلز، طلبہ اور اساتذہ، حتیٰ کہ کھلاڑی اور اداکار بھی دورِ طالب علمی ہی سے اُن کے حلقۂ تعلق میں شامل تھے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تعلقات کے اس حلقے اور اس تعلق کی نوعیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ وہ مرتے دم تک اِن تعلق داروں سے ٹیلی فون پر رابطہ رکھتے۔ ان کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوتے۔ انہیں اپنے دفتر بلاتے اور خود گاہے گاہے جاکر اُن سے ملاقات کی سبیل پیدا کرتے رہتے تھے۔

میرا اُن سے ذاتی تعلق اور ملاقاتوں کا سلسلہ 1981ء سے شروع ہوا جب وہ لاہور میں روزنامہ جسارت کراچی کے بیورو چیف تھے اور میں نے روزنامہ جنگ سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ وہ شہر میں کمٹڈ نظریاتی صحافی اور انتہائی محنتی رپورٹر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ آن اسپاٹ رپورٹنگ کے قائل تھے۔ ہر جلسے، جلوس، مظاہرے، تقریب، بھوک ہڑتال، پریس کانفرنس اور ادبی، علمی، سیاسی یا سماجی مجلس میں بذاتِ خود پہنچ کر اُسے کور کرتے۔  یہ جنون انہیں اس حد تک تھا کہ چھٹی والے دن بھی جلسے، جلوسوں کو دیکھنے پہنچ جاتے۔ رپورٹنگ سے فارغ ہوتے تو کسی سیاسی، علمی، ادبی، سماجی شخصیت یا کسی دوست سے ملاقات کے لیے نکل جاتے، اور چھٹی والے دن بھی رات گئے گھر لوٹتے۔ اپنے پیشے سے اس جنونی لگائو اور لوگوں سے ملاقاتوں کی اس ’’ٹھرک‘‘ کے باعث ایک تو وہ اپنی صحت سے لاپروا ہوگئے، اور دوسرے اُن کی گھریلو زندگی بھی نظرانداز ہوتی رہی۔ اگرچہ وہ ہمیشہ اپنے خاندان اور افرادِ خانہ کے بارے میں بہت حساس رہے۔ والدہ کے شام ڈھلے گھر میں دیے جلانے، ماہ صفر میں کونڈے بھرنے، محرم میں گلی کے نکڑ پر چنے بھوننے والی مائی کی بھٹی میں پانی ڈال دینے سے لے کر والد کی بیماری، اور ’’جب امرتسر جل رہا تھا‘‘ تک میں دلچسپی۔ ماموں کی اخلاقی حساسیت ، ماموں زاد بھائی عبدالرزاق چیمہ کی ترقی و جدوجہد، چھوٹی بہن کی کالج دور کی سرگرمیوں، رفیقۂ حیات کے شوق اور دلچسپیوں سے لے کر بیٹی میمونہ کے سیڑھی سے گر کر زخمی ہونے، بیٹے آصف کی دینی معاملات میں دلچسپی اور چھوٹے بیٹے کاشف کے جہادی جذبے تک کو وہ مجھ جیسے دوستوں کے سامنے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے، لیکن خود اپنی فیملی کو بہت کم وقت دے پاتے۔    (جاری ہے)


ای پیپر