کاروبارِ احتساب!
02 فروری 2021 2021-02-02

محترم وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ ہفتے ساہیوال میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متکبرانہ انداز میں فرمایا ”لاہور میں محل گرتے دیکھا، یہ ہوتی ہے تبدیلی“....یہ ”تبدیلی“ اپنی جگہ شاید درست ہوپر اصل تبدیلی جس کا خواب دیکھا کہ الیکشن جیتا گیا تھا وہ سسٹم کی تبدیلی تھی، ہم سسٹم تبدیل کرنے آئے تھے سسٹم نے ہمیں تبدیل کردیا، ہم بھی اُنہی راستوں پر چل نکلے جن پر سابقہ ”چوراور ڈاکو“ حکمران چلتے رہے، بلکہ اُن سے بھی آگے نکل گئے، ناجائز محلات وضرور توڑے جائیں پر کچھ احساس وتدارک کے دل ٹوٹنے کا بھی اب ہونا چاہیے، وزیراعظم کا یہ مقام نہیں وہ چھوٹے چھوٹے ایشوزکاکریڈٹ لیں اُنہیں تو یہ پیغام دینا چاہیے”اِن معاملات سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، ہم نے اداروں کو اتنا مضبوط کردیا ہے کہ اب کسی کی حیثیت دیکھے بغیر وہ اپنا کردار ادا کرنے لگے ہیں“....قبضہ گروپوں کے ”ناجائز محل“ گرائے جانے کے عمل پر اُنہوں وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو بھی شاباش دی، وزیراعلیٰ سیاسی آدمی ہیں مستقبل میں وہ شاید کسی اور سیاسی جماعت میں گھس جائیں البتہ وزیراعظم کی شاباش سے مستقبل میں آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں، چیف سیکرٹری صاحب نے تو پتہ نہیں کب ریٹائرڈ ہونا ہے، آئی جی صاحب کے پانچ چھ برس ابھی شاید رہتے ہیں ....محترم وزیراعظم کو چاہیے تھا قبضہ گروپوں کے ناجائز محلات گرانے کا کریڈٹ افسروں کو دینے کے بجائے اداروں کو دیتے، افسران بے چارے تو ویسے ہی بڑے کمزور ہوتے ہیں، اتنے کمزور کہ ایک روز وزیراعظم ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہاہوتا ہے اگلے روز وہ تبدیل ہو جاتے ہیں، ادارے ہمارے پیارے حکمرانوں کے قابو میں نہیں آرہے اور افسران کو قابو کرنے کا تاریخ میں پہلی بارطریقہ یہ ڈھونڈلیا گیا ہے ہردوتین ماہ بعداُنہیں تبدیل کردیا جائے، پچھلے دورمیں افسران پر پریشر یہ ہوتا تھا اُنہیں جھڑک دیا جائے گا یا زیادہ سے زیادہ تبدیل کردیا جائے گا، اب افسران پر پریشر یہ ہوتا ہے کہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں پکڑکر کہیں نیب کے حوالے نہ کردیا جائے، .... ہماری دعا ہے کہ قبضہ گروپوں کے ناجائز محلات گرائے جانے پر ساہیوال میں وزیراعظم نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو شاباش دی ہے وہ اُنہیں راس آجائے اور بجائے اِس کے حسبِ معمول وہ اِس شاباش کی بھینٹ چڑھ جائیں، اِسی محنت اور جذبے سے اپنا کام جاری رکھ سکیں،....اپوزیشن تک محدود نہیں رہے گا، احتساب کے حوالے سے محترم وزیراعظم اپنے جن جنونی جذبوں سے عوام کو آگاہ فرماتے رہتے ہیں وہ جذبے صرف ”بلاتفریق احتساب“ سے ہی سچ ثابت ہوسکتے ہیں.... اِس ملک کو لُوٹنے والے ”چوروں اور ڈاکوﺅں“ کو عدالتوں سے ملنے والے ریلیف اپنی جگہ ۔ اصل ”ریلیف“ وہ حکمران جماعت میں گھس کر حاصل کرتے ہیں ، یا ”اصلی قوتوں“ کی سرپرستی حاصل کرنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ یا ذریعہ تلاش کرکے حاصل کرتے ہیں، یہ سب دروازے بند کرنا پڑیں گے، یا پھر احتساب کا مذاق ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کرنا پڑے گا، .... یہ بھی المیہ ہے احتساب کی زد میں صرف سیاستدان ہی آتے ہیں، بند پوچھے باقی سب فرشتے ہیں؟ ، مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیے سیاست یا سیاستدانوں کو بدنام کرکے اِس ملک میں دودھ اور شہد کی کتنی نہریں اب تک بہادی گئی ہیں؟، میں نہیں کہتا کہ سیاستدان فرشتے ہیں، میں اِس ”پراپیگنڈے“ پر بھی آنکھیں بند کرکے یقین کرنے کے لیے تیار ہوں سب سے زیادہ لُوٹ مار سیاستدانوں یا سیاسی حکمرانوں نے ہی کی ہے.... مگر کوئی اِس سوال کا جواب بھی تو مجھے دے سیاسی ڈاکوﺅں اور چوروں کے ”سہولت کاروں“ کو آج تک قابلِ گرفت کیوں نہیں سمجھا گیا؟ سیاسی حکمران جب لُوٹ مارکررہے ہوتے ہیں، ناجائز محلات یا پلازے وغیرہ بنارہے ہوتے ہیں اُس دوران احتساب وانسداد رشوت ستانی کے ودیگر ”طاقتور ادارے“ خواب خرگوش کے مزے کیوں لُوٹتے رہتے ہیں ؟؟؟، آج تک اِن اداروں کے کتنے سربراہان ایسے ہیں جنہوں نے سیاسی حکمرانوں کی لُوٹ مار پر آنکھیں بند کرنے کے بجائے یا اُنہیں اِس کی اجازت دینے کے بجائے استعفے دے دیئے ہوں؟، سیاستدانوں یا سیاسی حکمرانوں کی مسلسل لُوٹ مارپر آنکھیں شاید اِس لیے بند رکھی جاتی ہیں کوئی اِس لُوٹ مار کو ”بوقت ضرورت“ اپنے مذموم مقاصد کے لیے ”کیش“ کرواسکے۔ کوئی سیاسی حکمران یا سیاستدان کسی بھی حوالے سے ذرا سا سراُٹھانے کی کوشش کرے، یا کسی بات پر اختلاف کرنے کی جرا¿ت کرے اُسے ”بلیک میل“ کیا جاسکے .... اِس پس منظر میں کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے اِس ملک کو کسی معجزے کے تحت حقیقی معنوں میں کوئی ایماندار حکمران مِل بھی گیا اُسے چار دن بھی شاید چلنے نہ دیا جائے، اُس کے لیے اتنے مسائل کھڑے کردیئے جائیں وہ سوچنے لگے بجائے اِس کے اُس کی ایمانداری شکوک وشبہات کا شکار ہو جائے وہ خود ہی اقتدار سے الگ ہو جائے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے بلاتفریق احتساب کا خواب ابھی تک اک خواب ہی ہے، سب کے اپنے اپنے مقاصد ہیں، اپنے اپنے ایجنڈے ہیں، ملک اِس وقت باقاعدہ ایک ”منڈی“ میں تبدیل ہوچکا ہے،”میلہ مویشیاں“ لگا ہے .... موجودہ نیم سیاسی حکمران انتخابات سے قبل اقتدار میں آنے کے بعد ایک ایسا نظام متعارف کروانے کے خواب دیکھاتے رہے جو ہرقسم کی کرپشن ودیگر لعنتوں سے پاک ہونا تھا، پر ہوا ہمارے ساتھ وہی جو ہوتا آیا ہے، اور ہم شاید اِسی لائق ہیں ”ہم نے ”پھولوں“ کی آرزوکی تھی .... آنکھ میں ”موتیا‘، اُترآیا“.... ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق ملک میں کرپشن چاردرجے اُوپر چلی گئی۔ ہم نے تو ملک اُوپر اُٹھانا تھا، کرپشن اُوپر کیسے اُٹھ گئی؟، چاردرجے کرپشن اُوپر لے جانے والوں کو جن کی سرپرستی حاصل ہے، ہم میں تو اتنی ہمت نہیں اُن سے کوئی سوال کریں، پر ایک طاقت اُن سے بھی بڑی ہے، جو سب سے بڑی ہے، اُس طاقت کوتو جوابدہ اُنہیں ہونا پڑے گا .... ساہیوال میں میرے محبوب وزیراعظم نے یہ بھی فرمایا ”سینٹ کے انتخابات میں ریٹ لگنے شروع ہوگئے ہیں“ .... ہم نے جو برس ہا برس اُن کا ساتھ دیا، ہمیں افسوس یہ ہے اپنے اقتدار کے پونے تین برسوں میں وہ سسٹم میں اتنی تبدیلی بھی نہیں لاسکے کہ ارکان اسمبلی کی خریدوفروخت کا عمل مکمل طورپر بند نہ بھی ہوتا، اُس میں تھوڑی کمی ہی واقع ہوجاتی، .... بے چارے کچھ ارکان اسمبلی بھی کیا کریں؟ اُنہیں پتہ ہے وہ اپنے ووٹ کی یا اپنے ضمیر کی قیمت نہیں لیں گے تو ان کا ووٹ کسی اورطریقے سے ہتھیا لیا جائے گا۔ سوکسی خوف کی وجہ سے بغیر رقم موصول کیے ووٹ دینے سے بغیر خوف کے قیمتاً ووٹ دینے میں وہ زیادہ راحت آسانی محسوس کرتے ہیں، .... اپوزیشن کی ”ہارس ٹریڈنگ“ کے مقابلے کا مو¿ثر طریقہ صرف ایک ہی ہوسکتا ہے جہانگیر ترین کو پھر سے خدمت کا موقع دیا جائے اور اس کے بدلے میں پھر سے اُن سے کچھ نہ پوچھا جائے !!


ای پیپر