Pakistan, self-sufficient, arms manufacturing, India, China
02 دسمبر 2020 (11:51) 2020-12-02

پاکستان ایسے حساس خطے میں ہے جسے مشرقی سمت سے بھارت جیسے ازلی دشمن کا سامنا ہے جو دہشت گردانہ کارروائیوں کی سرپرستی کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کے ذریعے دبائوڈالتا رہتاہے جبکہ مغربی سمت سے آلہ کاروں کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت اور ہمہ جہت تیاری اشد ضروری ہے آجکل بھارت روس کی بجائے امریکہ کی آنکھ کا تارا ہے اور دونوں ممالک میں جوہری تعاون کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ ہو چکا ہے اور ضرورت پڑنے پر دونوں ممالک ایک دوسرے کی زمین استعمال کر سکتے ہیں چین سے مخاصمت کی آڑ میں بھارت اسلحے کے انبار جمع کر رہا ہے اِس لیے پاکستان کو مزید محتاط وچوکس ہوکرہتھیار سازی میں خود کفالت حاصل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کئی بار ضرورت کے وقت دوست ممالک نے ہتھیار دینے پر پابندیاں عائد کر دیں اس لیے مستقبل میں کسی خطرے کاموثر جواب دینے کے لیے اغیار پر انحصار کی بجائے مقامی سطح پر ہتھیار سازی میں خود کفالت وقت کی ضرورت ہے اسرائیل ،فرانس،روس ،امریکہ ،برطانیہ سے ہتھیار خریدنے پر بھارت اربوں ڈالر صرف کر رہا ہے مگر پاکستان کی معیشت اِتنے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی بہترین حل یہ ہے کہ مقامی طور پر ہتھیار سازی میں خود کفالت کی منزل حاصل کی جائے کیونکہ مقامی طور پر ہتھیاروں کی تیاری پر کم لاگت آتی ہے علاوہ ازیں ہتھیارسازی میں خود کفالت سے پابندیوںکو بے اثر بنا یا جا سکتا ہے ۔

مضبوط معیشت کے ساتھ مضبوط دفاع کی حقیقت سے کوئی ذی شعور صرفِ نظر نہیں کر سکتا اسرائیل کومضبوط دفاع نے ہی عربوں پر سبقت دلائی ہے بے تحاشا دولت ہونے کے باوجود آج عرب ممالک اسرائیلی بالادستی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اسرائیل نہ صرف ملکی ضرورت کے مطابق ہتھیار تیار کرنے میں خود کفیل ہے بلکہ برآمد کر کے معاشی لحاظ سے مستحکم ہوتا جارہا ہے صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے اسی فیصد ڈرون طیارے اسرائیل تیار کرتا ہے اُس کی دفاعی ایجادات کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے کم نہیں اگر وہ بھی عربوں کی طرح دولت عیاشیوں پر صرف کرتا رہتا تو صورتحال یکسر مختلف ہوتی اسرائیل میں جنم لینے والے ہر فرد کے لیے فوجی خدمات ضروری ہیں جس سے ملک ناقابلِ تسخیر بن گیا ہے جن ملکوں کی افواج کمزور اور اسلحہ ازکار رفتہ ہوتا ہے اُن کی حالت عراق ،لیبیا،افغانستان جیسی ہوتی ہے اگر ہم نے عزت و آبرو سے رہناہے تو ملک کو معاشی اور دفاعی طور پر مستحکم کرنا اور فوج سے پیار کا کلچر پروان چڑھانا ہوگا فوج سے نفرت کا پر چار اغیار کی سازشوں کو کامیاب بنانے کے مترادف ہے۔

روایتی جنگ میں پاکستان کا بھارت سے کوئی مقابلہ نہیں بھارت کی عددی برتری عیاں حقیقت ہے لیکن جوہری تباہی کے خوف سے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لیتا پھر بھی بھارت کی روایتی وغیر روایتی ہتھیاروں کے لیے بے چینی متقاضی ہے کہ ہمیں اطمینان سے بیٹھنے کے بجائے محدود وسائل کے باجود دفاع سے غافل نہیں رہنا چاہیے فرانس سے رافیل طیارے ،اسرائیل سے جدیدریڈار بھارت کے جنون کا مظہر ہیں امریکہ و بھارت میں سیٹلائٹ ڈیٹا کا معاہدہ طے پا چکا ہے جس سے بھارتی فضائیہ ٹارگٹس زیادہ بہتر طریقے سے نشانہ بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے بھارت میں بی جے پی جیسی جنونی جماعت حکمران ہے جس سے کسی قسم کی مہم جوئی بعید از قیاس نہیں ہوشیار رہنا ہی دانشمندی ہے ۔

پاکستان کسی لحاظ سے اب ترنوالہ نہیں بلکہ دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے چین کے تعاون سے جے ایف 17تھنڈر طیارے اور جدید ترین ٹینک بنائے جارہے ہیںبحری جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی تیاری میں بھی دونوں ممالک میں قریبی تعاون ہے جس سے پاکستان کو دیگر ممالک پر انحصار و محتاجی سے نجات ملی ہے اورپاکستان کی دفاعی برآمدات بڑھنے لگی ہیں 2010میں پاکستان نے ساٹھ ملین ڈالر کا دفاعی سازو سامان فروخت کیا2013میں یہی برآمدات سوملین تک پہنچ گئیں 2016 سے میانمار جیسے ممالک سے جے ایف تھنڈر طیارے فروخت کرنے کے معاہدے شروع ہو چکے ۔ 2018میں دفاعی برآمدات 210ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں لیکن 2019کے دوران پہلی بار ملک کی دفاعی برآمدات کا حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا جو اِس لحاظ سے بھی خوش آئند ہے کہ ملک کی زرعی و صنعتی برآمدات لاگت میں اضافے سے عالمی سطح پر مقابلے کی پوزیشن میں نہیں رہیں اِس لیے دفاعی برآمدات سے ملکی معیشت بہتر بنائی جا سکتی ہے مضبوط دفاع سے قوم کا مورال بلند رہتا ہے اور دشمن کو حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔

بھارت کی حملہ کرنے میں پہل کی پالیسی پٹ چکی 1989میں پاک فوج نے دفاعی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی اور دشمن کو سبق سکھانے کے لیے ہمہ جہت تیاریوں پر توجہ مرکوز کی اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے عسکری ماہرین صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کررہے ہیں کارگل جنگ میں بھارت کے پاس دورمار توپوں کا گولہ بارود ختم ہو گیا مگر پاکستان ایمونیشن ،گولہ بارود میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ دیگر ممالک کی ضروریات پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے قبل ازیں پاکستان کے پاس بغیر رکے دس روز جنگ کی صلاحیت تھی اب یہی صلاحیت چالیس روز ہوگئی ہے لیکن بہتر سے بہتر کی جستجوجاری رہنی چا ہیے تاکہ کسی دشمن کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہ ہو یادرہے تیاری ہو تو یا جنگ نہیں ہوتی اگر جنگ ہو تو شکست نہیں ہوتی آذربائیجان کی فتح تازہ ترین مثال ہے آج نہیں تو کل ہمیں بھی ایسی صورتحال پیش آسکتی ہے کشمیریوں کی مدد اہلِ پاکستان کا فریضہ ہے کسی عالمی ادارے کا نہیں اور یہ فریضہ تیاری کے بغیرادانہیں ہو سکتامسلح افواج کے لیے میزائل ،گولہ بارود ودیگر ہتھیاروں کے ساتھ جدید ریڈار ٹیکنالوجی ،جی پی ایس ٹیکنالوجی ،اینٹی میزائل شیلڈ،نائٹ ویژن عینکوں ،بلٹ اور بم پروف آلات پر بھی توجہ دی جائے نصر میزائل اور ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار جارح دشمن کوحملہ کرنے میں پہل کرنے سے روکنے کا باعث بنے لیکن دشمن پر حاوی 


ای پیپر