Important information, self, Dr. Azhar Waheed, Nai Baat, Pakistan
02 دسمبر 2020 (11:44) 2020-12-02

متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک نوجوان محمد سلیم کی واٹس ایپ کال تھی،کال کیا تھی، سوالات کا ایک انبار تھا، سوالات سے اندازہ ہوتا تھا کہ افکار و احوال پر نوجوان کی گرفت ہے، مرشدی حضرت واصف علی واصف ؒ کی تعلیمات کا بے حد دلدادہ ، تعلیم میں اگرچہ کم لیکن تسلیم میں زیادہ… نوجوان پوچھتا ہے کہ نفس پر کنٹرول کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے، کہتا ہے ‘ میں نے یہ سوال بہت سے دانشوروں اور مذہبی اسکالرز سے فرداً فرداً بھی پوچھا لیکن تسلی بخش جواب ندارد! فون کال پر طویل بات کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا اور یوں بھی کلینک میں مریضوں کے درمیان مریدوں کی کال لیناکارِ دشوار ہے۔ اس سے وعدہ کر لیا کہ اس موضوع پر کچھ تحریر کرنے کی کوشش کروں گا۔ 

 نفس اور ترغیباتِ نفس کے حوالے سے راقم کچھ احوال رقم کیے دیتا ہے، تاکہ سند رہے اور اس حوالے سے کسی بھی طالب علم کے لیے مستمد و معاو ن ہو سکے۔ زما نۂ طالب علمی میں لکھا تھا… ویسے تو یہ زمانہ کبھی ختم نہیں ہوتا، نہ طلب ختم ہوتی ہے ‘ نہ زمانہ… لکھا تھا نفس کی برمودا ٹرائی اینگل کے تین زاویے ہیں۔۔دولت ، شہرت اور عورت! دولت کی کشش ایک جمالیاتی ذوق رکھنے والے کے لیے بہت جلد ختم ہو جاتی ہے، وہ مقدار کے بجائے معیار کا قائل ہوتا ہے، جیسے جیسے اس کاذوق ترفیع کی طرف ہجرت کرتا ہے‘ وہ مقدار کی دنیا سے نکل جاتا ہے،وہ دولت کو ایک واجبی سی ضرورت سمجھتا ہے، کہ اپنی ضرورت پوری کی اور آگے نکل گئے۔شہرت کے باب میں بھی ایسا ہے، معمولی سا روحانی ذوق رکھنے والا شہرت کی پھندے میں بھی زیادہ دیر تلک گرفتار نہیں رہتا۔ وہ جانتا ہے کہ شہرت دوسروں کے دیکھنے کی چیز ہے، نفس اس سے تسکین ضرور پاتا ہے لیکن نفس کی پہچان کے لیے یہ کبھی بھی معاون ثا بت نہیں ہوئی۔ نفس کی پہچان‘کنجِ تنہائی میں میسر آتی ہے۔ شہرت دوسروں کا منظر ہے‘ اپنا نہیں۔شہرت کی مثال ایک ایسے سائن بورڈ کی طرح ہے‘ جس کی اصل حیثیت ایک بے قیمت پلاسٹک یا زنگ آلود ٹین کی چادر کی سی ہے،عالمِ رنگ و بو میں قدرتِ کاملہ نے کسی حکمت کے تحت اس کے اوپر رنگ و روغن سے رنگ برنگ چند نشانات کھینچ دیے ہیں تاکہ مخلوق کے لیے وہ بورڈ کسی منزل کی نشاندہی کر سکے … بس یہ کل حقیقت ہے شہرت کی۔ سنگ میل کسی سنگ کا امتیاز نہیں، سنگ تو سنگ ہی رہے گا…وہ بھی اگر کسی کے سنگ رہا تو!! 

مرغوبات ِ نفس میں صنف ِ نازک کو سب سے زیادہ طاقتور ترغیب کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ جمالیاتی ذوق سے متصف فنونِ لطیفہ سے منسلک کوئی معتبر شخصیت ہو ْ یا روحانیت کے سنگھاسن پر براجمان کوئی پیرِ فرتوت‘ اس ترغیب کے سامنے 

سب بے بس نظر آتے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے‘ اکثر اولیااللہ کے مزاروں پر بھی لکھا ہوتا ہے’’ عورتوں کا داخلہ منع ہے‘‘۔ یہ داخلہ انہوں نے زندگی میں بھی منع کر رکھا ہوتا ہے۔ معدودے چند ہوتاکوئی مردِ قلندر … جسم کی قید سے یکسر آزاد ، روح کی بے سمت فضاؤں میں پرواز کرنے والا… جس کے لیے مرد و عورت کی تخصیص ختم ہو کر رہ جاتی ہے… وہ جسموں سے نہیں ‘ روحوں سے مخاطب ہوتا ہے۔ 

غور طلب بات یہ ہے کہ مرغوباتِ نفس سے بچنے کیلئے جتنے کلیے اور نصاب اب تک لکھے گئے ہیں‘ وہ سب عمومی فارمولے ہیں، جبکہ نفس اورتحریصِ نفس کے معاملے میں ہر شخص کاکیس جداجدا ہے۔اس لیے اپنے نفس کے عارضے کی تشخیص کے لیے کسی مردِ حاذق طبیبِ باہنر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اپنے طور پر اگر ہم کسی طور سب کے سب کلیے یاد بھی کر لیں، تو سب سے آخر میں ایک سوال پھر باقی رہ جاتا ہے …کہ ان کلیات پر عمل درآمد کب اور کیسے کرنا ہے… یعنی بلی کے گلے میں گھنٹی کس نے باندھنی ہے… یہاں آکر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ 

نفس اور مرغوبات ِ نفس سے بچنے کی ترغیب جس نظامِ فکر نے دی ہے‘ اسے دین کہتے ہیں، وگرنہ مادی نظامِ فکر سے دیکھا جائے تو روح اور نفس کی کیا حقیقت ہے؟… جو کچھ ہے ‘ سب مایا ہے، مادہ ہے…۔ جسم اور جسمانی جبلتیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ مادی جبلتوں کی زد میں آ کر ایک دوسرے سے لوگ زخم خوردہ نہ ہوں‘ اس کے لیے ریاست ہے اور ریاست کا قانون ہے… اور بس !! یعنی غلطی کی حیثیت جرم ہے، گناہ نہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ اس معاملے میں خوب راہنمائی فرمائی کہ جرم اور گناہ میں فرق ہوتاہے، جرم ملکی قانون کی خلاف ورزی ہے ، اور گناہ اللہ اور رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ یعنی عین ممکن ہے ایک چیز گناہ ہو لیکن کسی ریاست میں جرم نہ ہو، مثلاً بہت سی ریاستوں میں جوا، شراب نوشی اور مرد وعورت کا بغیر نکاح ایک چھت کے نیچے رہنا ، بچے پیدا کرنا جرم نہیں۔ گناہ کی توبہ کر لی جائے تو اس کی سزا ٹل جاتی ہے، جرم کی توبہ کا کوئی تصور نہیں‘ جرم اگر ثابت ہو جائے تو اس کی سزا اس وعدے کے ساتھ موقوف نہیں کی جاتی کہ آئندہ یہ جرم سرزد نہیں ہوگا۔  

ہم نے جب اللہ اور رسولؐ کو تسلیم کیاتو اُن کے حکم کو بھی تسلیم کیا۔ مرشد کا قول ہے کہ وہ شخص اللہ کو نہیں مانتا جو اللہ کاحکم نہیں مانتا۔ نفس ہمارے باطن میں ایک آزادانہ روش اختیار کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عبارت ہے۔ ہم مان لینے کے بعد جس قوت اور اختیار کے ساتھ حکم کا انکار کرسکتے ہیں ‘ اسی کا نام نفس ہے۔ اس باب میں شیطان کو ملامت کرنا عبث ہے…شیطان کو ہمارا سرکش نفس ہی دعوت ِ عام دیتا ہے۔ پہلے نفس آمادہ معصیت ہوتا ہے ‘ ، پھر شیطان اس کی معاونت کے لیے آ جاتا ہے۔ دل میں حکم عدولی کا خیال پہلے آتا ہے ‘ انسان شیطان کے پیچھے بعد میں چلتا ہے۔ 

انسان نفس پرستی ‘ خدا پرستی کے مقابلے میں کرتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو معصیت ایک بغاوت ہے … سہو چیزے دگر ہے۔ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اطاعت کے حکم سے نکلنا ایک بغاوت ہی تو ہے۔ نفس کی اطاعت دراصل حکمِ الٰہی سے بغاوت کا حکم رکھتی ہے۔ معصیت ایک مصیبت ہے … اور اس مصیبت سے نکلنے کا شافی حل صرف توبہ سے میسر آتا ہے…اور توبہ توفیقِ الٰہی سے میسر آتی ہے۔ توفیق حاصل نہیں کی جاتی بلکہ مانگی جاتی ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کا فرمان ہے کہ توبہ کا خیال ایک خوش بختی کی دلیل ہے، کیونکہ جو اپنے گناہ کو گناہ نہ سمجھے ‘وہ بدقسمت ہے۔ کوئی علم و ہنر ، کوئی ریاضت ، کوئی ذہانت اور فطانت نفس کے شر سے نہیں بچا سکتی ہے۔ یہاں تعلیم سے زیادہ تسلیم کی ضرورت ہے۔ انسان کی اپنی تدبیر اسے اپنے نفس کے شر سے نہیں بچا سکتی ، کیونکہ نفس اس کی تدبیر ہی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرلیتا ہے۔ کشف المحجوب میں حضرت علی بن عثمان الجلابی المعروف داتا گنج بخش ؒ فرماتے ہیں کہ نفس کی عیاریوں کی کوئی حد نہیں۔ نفس کی عیاریوں سے بچنے کے لیے بیرونِ خانہ ایک کمک کی ضرورت ہوتی ہے‘ اور اس کمک کو توفیقِ الٰہی کہتے ہیں۔ یہ وہ قوت ہے جسے نفس سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے ، اوریوں خطرہ ٹل جاتا ہے۔توفیقِ الٰہی ہمارا استحقاق ہے نہ استعداد… یہ سراسر منشائے ایزدی پر موقوف ہے۔ 

 معصیت سے نکلنے کا واحد راستہ توبہ ہے۔ توبہ نئے سرے سے تسلیم کا نام ہے۔ جب دائرہ تسلیم کے اندر داخل ہو گئے تو باہر نشاطِ رنگ و بو کی کشش ختم ہو گئی۔ نفس کے شر کا مقابلہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے بچا جاتا ہے، اس سے پناہ طلب کی جاتی ہے، اور پناہ حاصل کرنے کا طریقہ تعوذ اور توبہ ہے۔دائروں کی کشش ہو ‘ یا دولت و شہرت کی…اس سے بچنے کے لیے جس قلعے میں پناہ گزیں ہونا ہوتا ہے ‘ اس کا نام شریعت ہے۔ قلعے سے باہر نکلنے والے سپاہی کسی اندھے تیر کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

طاعت و تسلیم ایک خوش بو ہے ، معصیت ایک بدبو !! خوشبو کا ذوق رکھنے والا کسی بدذوقی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خوشبو کے مسافروں کو گوناگوں کشش ہائے رنگ و بو سے بچ کر ہی سفر کرنا ہوتا ہے۔ دامِ نفس میں گرفتار‘ نفس کی معرفت نہیں پا سکتا… اور بغیر معرفت ِ نفس کوئی اپنے رب کی معرفت نہیں پا سکتا!

نشاطِ رنگ و بو سے بے نیازِ آرزو ہو کر

ہم اپنے روبرو آئے‘ تمہارے روبرو ہو کر


ای پیپر