گھروں کا وعدہ....
02 دسمبر 2020 2020-12-02

یہ مشورہ سازوں کا کرشمہ ہے کہ ان کی اپنی ہی دانش اب کے”موصوف“ ایک ایسی قانون سازی کرنے جارہے ہیں جس کے مطابق والدین بچوں مع شریک حیات بے دخل کرسکیں گے جبکہ بچے انہیں اپنے گھروں سے نہیں نکال سکیں گے فروغ نسیم سے اس سلسلے میں ملاقات بھی ہوچکی....

حیرت اس امر پرہے کہ اچھی صلاحیت تو محض اچھی ہی ہوتی ہے اور اس کی افادیت یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہی ہوتی ہے جس طرح ساس بھی کبھی بہو ہے،اس طرح سارے بچے والدین بنتے ہیں خبرمیں کہا گیاہے کہ اس طرح حکومت کو بزرگوں کی دعائیں ملیں گی اپنی پوری صحافتی زندگی میں تمام تر پریس کانفرنسز اور تقاریر کے ابتدائیے میں میں ہمیشہ خوشگوار حیرت سے ملاقات کرتی ہوں جب بزرگ خودسامنے بیٹھے ہوﺅں کو میرے بزرگوں کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، مندرجہ بالا قانون سازی میں حکمرانوں کو یاد نہیں رہا کہ وہ سارے کے سارے کب کے بزرگ ہوچکے ہیں یہ الگ بات کہ ”بزرگی“ انہیں چُھوکر بھی نہیں گزری بجائے اس کے کہ کھوئی ہوئی اخلاقی قدروں کا احیا کیا جائے ایک دوسرے کو ”نکالنے“ کا کھیل قانون بنایا جارہا ہے یہ ذہنیت دیکھ کر یہ یقین تو ہوا کہ خواص عوام کے مسائل اُن کی اقدار اور رہن سہن کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے ....یہی وجہ کہ مسلم لیگ ن نے بھی مارنے اور گھروں سے نکالنے والے شوہروں کو پاﺅں ، کلائی میں کڑاڈالنے جیل میں رکھنے اور واپسی پر (Obvious)بیوی کی مزید پٹائی والا قانون بنایا تھا ایسے تمام قوانین جوزمینی روایات سے متصادم ہوتے ہیں کیسے پرورش پاسکتے ہیں۔ 

ویسے تو باقی ماندہ پارٹیاں بھی زمینی حقائق سے نابلد ہیں مگر پی ٹی آئی بطور خاص مقامی کلچر سے دور ہے ان کی اکثریت اپنی ہی پارٹی کی وفات وغم کی محفلوں سے گریزاں رہتی ہے اس پارٹی کے سارے بزرگ گلے میں سرخ ہرے مفلر ڈال کر ٹرالوں پر میوزیکل تقریریں کرتے رہے جوش جذبہ میڈیا وار انٹرنیٹ پر جوشیلے انداز خلاف لکھنے والوں کو سیدھی گالیاں جبکہ دیگر پارٹیاں قرینے سے انتقام لیتی تھیں بعدازاں مزاج پرسی بھی کرلیتی تھیں اس سلسلے میں متحمل مزاج عوامی طرز زندگی والے پرویز رشید صاحب بھی قابل ذکر ہیں مگر اعتراف کی ہردوممکنہ صورتیں موجود رہتی تھیں اب تو عجیب وغریب عبوری کلچر اور وہ بھی روبہ زوال کروڑوں نوکریوں کے وعدے اور سٹیل ملز کے بے روز گار لاکھوں مکانوں کا وعدہ تو شاید اولادوں کو بے دخل کرکے بزرگوں سے پورا ہو سکتا ہے۔ 

وعدہ تو لاکھوں مکانوں کا تھا یہ تو نہیں کہا تھا کہ نئے ہی بناکردیئے جائیں گے باپ کا چھین کر بیٹے کو بھائی کا بڑے بھائی کو داماد نکال کر سسر کو بہونکال کر ساس کو بڑے آرام سے وعدہ شدہ مکانوں کی گنتی پوری کی جاسکتی ہے ....

ہمیں تو اتنا پتہ ہے کہ اچھی صفت اچھی ہی ہوتی ہے جو باپ کے کام آتی ہے تو بیٹے کے بھی چشم تصور سے دیکھتی ہوں اسی(80) سال کا باپ بیٹے کو گھر سے نکال رہا ہے بزرگ گھروں میں اکیلے بیٹھے ہیں دوائی دارولانے والا کوئی نہیں محلے دار اکیلے بزرگوں پر تاک لگائے بیٹھے ہیں ایسے میں دعائیں ملیں گی کہ بددعائیں....؟

صدیوں کے پیدا کردہ مسائل مقامی ثقافتیں اور اخلاقی قدریں چٹانوں کی طرح سراُٹھائے کھڑی ہیں انہیں کوئی پانچ سالہ منتخب شخص کیسے چند برسوں کی دین کا قوانین سے توڑ سکتا ہے جس تعلیم اور جس تربیت کی بات کرتے تھے یا پھر وہ مشہور زمانہ ”وژن“ وہ ہی دراصل حل ہے اسی کو آزمانا ہوگا اور یہ ”کچی کچی“ باتیں چھوڑ کر حقیقی دانش کو ڈھونڈنا ہوگا، مگر اس کا آغاز ہی تب ہوتا ہے جب ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ یہ ہمارا شعبہ نہیں ہم اس میں مستند نہیں چند ووٹ ہمیں متعلقہ معاملے میں ایکسپرٹ نہیں بناتے، وطن کے بزرگوں کے لیے تڑپنا اچھی بات ہے کہ آپ خود بھی بزرگ ہیں کیسا اچھا سین ہوگا جب ایک بزرگ دوسرے بزرگ کو دعا دے گا البتہ دیگر بزرگوں اور آپ سیاست دان بزرگوں میں ایک فرق ضرور ہے کہ آپ سارے بزرگ بے حد امیر ہیں آپ میں ایک بھی غریب نہیں اور مقامی بزرگوں کی اکثریت معمولی پنشن ( جوکہ آگے بند ہورہی ہے) اور دوائیوں والی پرچی لیے اُن خدمت کارڈوں پر درج لاکھوں کے فری علاجوں کو ڈھونڈ رہی ہے....

یہ بھی محض اتفاق ہی ہے کہ آپ سب کی اولادیں بھی انتہائی امیر وکبیر ہیں لہٰذا کوئی کسی کو گھر سے نہیں نکالتا بلکہ اتنے بڑے گھر ہیں کہ دوتین سو ملازم بھی ہمراہ رہتے ہیں البتہ غریبوں کے گھروں میں ”باندرتماشہ“ لگوانا چار دن کی رونق ضرور لگاسکے گا۔ 

جب قدرت بندے کا تماشہ لگاتی ہے تو وہ وارسے نہیں بچ پاتا بندہ بندے کا تماشہ نہیں لگاسکتا اور نہ اسے ایسا کرنا چاہیے مگر آئے دن کا ”باندرکِلا“ وقت گزاری اور پنج سالہ مدت میں معاون تو ہوسکتا ہے مگر مہنگائی ایسا جن ہے جو لوگوں کو اس تماشے سے بیزار کردے گی، اشیاءکی قیمتیں اب دگنی نہیں تو تہائی بلندی پر ضرورہیں جبکہ تنخواہ دار طبقہ جانتا ہے سادگی اور بچت کے نام پر ان کی تنخواہوں سے الاﺅنسز کاٹ لیے گئے ہیں تجارتی اور کاروباری حلقوں کی ابتری تو دیدنی ہے تمام تر اصولوں کی (So called) قربانی کرکے یعنی یوٹرن لے لے کے بھی بات نہیں بنی انڈسٹری جتنی تباہ ہوئی اسے کس حدتک کرونا کے کھاتے میں ڈالیں گے کرونا بھی آخراتنا ہی ہے جتنا اُسے رب نے بھیجا آپ کی تمام تر برائیاں کوتاہیاں اور نالائقیاں اپنے پیچھے نہیں چھپا سکتا۔ 

یہ نہیں کہ باقی ماندہ پرخلوص ٹرکوں پر چڑھے ہیں وہ بھی نہایت امیر(باقی صفحہ 3بقیہ نمبر1)

 کبیر والدین کے بچے آئندہ کے ذریعہ آمدن کی چوکیداری پر لگے ہیں اُن کے باپ دادا نے جتنا کچھ اس شعبے میں کمایا کوئی سرکاری ملازم یا چھوٹے موٹے کاروبار میں سے نہیں کماسکتے تھے وہ جانتے ہیں سیاست سے بڑا ذریعہ آمدن (صرف ہمارے ملک میں) کوئی نہیں ہوسکتا وہ کیوں نہ اس کی حفاظت کریں ایسا شعبہ جس میں صرف نعرے لگاکر وعدے کرکے کھربوں کے اثاثے بن جاتے ہیں رہ گئے دیگر ادارے تو وہ بھی اپنے مفادات واختیارات کا تحفظ کررہے ہیں ایسے میں ایک نقشہ جو کسی کے دل پر بناتھا لوگوں کے لیے محض ترانے گیت گاکر پورا حق ادا کرڈالتا ہے وہ جذبہ دل سے دلوں تک نہیں پہنچا محض چودہ اگست اور تئیس مارچ کو مہنگے ترین اینکرز بٹھا کر بکے ہوئے جذبات سے ان لٹے پٹے لوگوں کا حق کیسے ادا ہوسکتا ہے جو گھروں سے نکلے تو پھر کہیں امان نہ ملے وہ جو پورے پورے خاندان تھے ادھورے آدھے گنتی میں کم ٹوٹے پھوٹے مسکنوں میں مکیں ہوئے یہ وقت کی کروٹ ہے جو گہرے نقصان کے بغیر سبق نہیں سکھاتی ۔


ای پیپر