نوجوان سڑکوںپر کیوں آئے ؟
02 دسمبر 2019 2019-12-02

عمران خان کو حکومت میں آنے کے ڈیڑھ سال تک یہ وہم و گمان میں نہ تھا کہ معاشرے کا ایک اہم طبقہ سڑکوں پر نکل آئیگا۔ ملک گیر طلباء کی ریلی سے صرف ایک ہفتے قبل اچانک حکومت کو اطلاع ملی کہ نوجوانوں کی جانب سے کچھ ہونے جارہا ہے۔ اس طبقے کو ’رشوت‘ دینے کے لئے حکومت نے ایک دو پروگراموں کا اعلان کیا ۔ لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی، یا ان پروگراموں پر موثر عمل درآمد کا شبہ تھا کہ وہ نوجوانوں کو مطمئن نہ کر سکا، اور وہ سڑکوں پر نکل آئے ۔ اس سے یہ مفروضہ بھی ٹوٹ گیا کہ عمران خان نوجوانوں کے لیڈر ہیں یا نوجوانوں کے ساتھ تحریک انصاف کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔

یہ احتجاج ملک گیر تھا اور طلباء کے حقوق کے لئے کیا گیا۔ جس سے ملک گیر متبادل قوت کی موجودگی کا پتہ چلا۔ پاکستان میں مہنگی اور غیر معیاری تعلیم اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کے حوالے سے طلباء کو متعدد شکایات ہیں۔ انہیں ایسی تعلیم دی جارہی ہے جو زمینی حقائق کے برعکس ہے، یا اس کا عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، جب طلباء ڈگری لے کر نکلتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی نہ کوئی مارکیٹ ہے نہ اہمیت۔ وہ خود کو معاشی و سماجی سیٹ اپ میں غیر متعلقہ سمجھتے ہیں۔ بظاہر امر باعث حیرت ہے کہ طلباء یونین کی بحالی کے مطالبے پر طلباء سڑکوں پر ٓئے۔ طلباء یونین کی بحالی بظاہر سیاسی مطالبہ ہے۔ یہ مطالبہ ’جمہوریت بحال کرو‘ کے مطالبے جیسا لگتا ہے۔ جس کو یہ معنی پہنایا جا رہا ہے کہ اس سے عام لوگوں کا کیا بھلا ہوگا؟ لیکن اس مطالبے کا مطلب ہے کہ یونیورسٹی کی انتظام کاری، فیصلہ سازی، میں طلباء شرکت چاہتے ہیں۔

یہ مطالبہ اپنے جوہر میں خواہ کتنا ہی سیاسی لگتا ہو، لیکن اس کے کئی ان دیکھے اور غیر محسوس فوائد ہیں۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ اس سے ملک کے مختلف شعبوں کے لئے متوسط طبقے کی قیادت پیدا ہوتی ہے۔نوجوانوں کی تربیت اور ایک دوسرے سے رابطے اور تعلق کو جنم دیتی ہے۔ ووٹ لینے کے لئے امیدوار کو مذہب، مکتبہ فکر، رنگ، نسل زبان کے امتیاز کو بالائے طاق رکھ کرہر قسم کے طلباء سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس سے طالب علم رہنما خود کو عام طالب علم کے سامنے خود کو ذمہ دار سمجھتا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سوشل اکائونٹبلٹی بھی کوئی چیز ہے۔ یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جس میں طلباء تنظیمیں خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، جیسا کہ ماضی میں سخت نظریاتی تنظیمیں کرتی رہیں، یونین کے عہدے کے لئے کسی مقبول چہرے کو ہی لے آتی ہیں۔ جو مختلف مکتب فکر کے لوگوں کو قابل قبول ہو، اس سے انتہا پسندی اور فکری تنگ نظری کے بجائے برداشت کا کادہ پیدا ہوتا ہے، یہی وہ عنصر ہے جو بطور مجموعی حاوی رہتا ہے۔

یہ درست ہے کہ طلباء یونین کی بحالی ان کے بنیادی مسائل کا حل نہیں، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ مجموعی طور پر یونیورسٹیوں کے ماحول میں طلباء کی حیثیت غیر اہم ہو گئی ہے، اس کی وجہ سے طلباء یونین کی بحالی از حد ضروری ہے۔ آج سرکاری یونیورسٹیوں میں گھٹن ہے یا پھر سرکاری اداروں کی مداخلت کے باعث طلباء آزادی سے نہ گھوم سکتے ہیں نہ بیٹھ سکتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں ان کی اپنی انتظامیہ کا نہیں کسی اور انتظامیہ کا راج ہے۔ صرف یونرسٹیوں کے گرد حصار نہیں بلکہ یونیورسٹیوں کے اندر طلباء اور اساتذہ بھی ذہنی طور پر اس حصار میں ہیں۔ دوسری طرف نجی شعبے میں یونیورسٹیاں ہیں جن کے نزدیک معاشرے یا نوجوان کی زہنی تربیت نہیں بلکہ تعلیم ایک کاروبار ہے۔ ، تعلیم ایک پراڈکٹ ہے۔ جو طلباء کو بیچی جارہی ہے۔ طلباء ان کے نزدیک صارفین ہیں۔ جتنے صارفین بڑھیں گے اتنی پراڈکٹ زیادہ بکے گی۔ اور اس سے منافع بھی اس نسبت سے ہوگا۔ صورتحال یہ ہے کہ سرکاری یونیورسٹی ہو یا نجی شعبے کی یونیورسٹی ، دونوں میں طالب علم کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ سرکاری یونیورسٹیاں تھانوں یا جیل خانوں کی طرح اورنجی یونیورسٹیاں فیکٹریوں کی طرح چلائی جاتی ہیں۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں جامعہ سے باہر کا دبائو وہ حکومت یا حکومتی ادارے کا ہو یا معاشرے کے کسی حصے کا ہو فوری طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی میں اصل فریق طالب علم ہیں، اس کا دبائو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ ملک کی یونیورسٹیوں میں گزشتہ برسوں کے دوران جتنے بھی ناخوشگوار واقعات ہوئے، ان پر یونیورسٹیوں نے صرف باہرکا دبائو ہی قبول کیا۔ طلباء یونینوں کی غیر موجودگی اور طلباء تنظیموں کے غیرفعال ہونے کی وجہ سے طلباء کی نہ کوئی آواز ہے اور نہ نمائندگی۔ طلباء تنظیموں کا تعلیمی اداروں سے خاتمہ ایک الگ اور مکمل موضوع ہے لیکن یہاں اتنا بتانا ضروری ہے کہ حکومتی اداروں کی مداخلت اور دبائو کے ساتھ ساتھ طلباء تنظیموں کے ’مدر آرگنائزیشن ‘ کا کنٹرول ختم ہونے کی وجہ سے صورتحال خراب ہوگئی۔ اور طلباء تنظیمیں الگ اور آزاد گروپکے طور پر عمل کرتی رہیں۔

جہاں تک اندرونی دبائو کا تعلق ہے، یونیورسٹیوں میں ملازمین اور اساتذہ تنظیموں کی جانب سے بھرپور انداز میں دیکھنے میں آیا۔ یہ دو فریق نہ صرف اپنے مطالبات منواتے رہے بلکہ حاوی رہے۔ اور بعض اوقات مسلسل احتجاج میں بھی رہے۔ اس پورے عرصے میں طلباء کا احتجاج کہیں بھی نظر نہیں آیا۔

پاکستان میں طالب علم اور نوجوان سیاسی تبدیلی کے اہم محرک رہے ہیں۔ پچاس کے عشرے کی کراچی کے طلباء کی تحریک ہو یا ڈھاکہ کے طلباء کی تحریک، دونوں نے ملک کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تحریکوں نے ایسا کیڈر پیدا کیا جس نے بعد میں اگر سیاست نہ کی تو بھی ، خدمت، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کو نہیں چھوڑا اور فکری و سماجی طور پر اپنا حصہ ڈالاتے رہے ،اس ضمن میں درجنوں نام گنوائے جاسکتے ہیں۔ چار مار چ 1967ء سندھ کے طلبا ء کے ابھار کا دن مانا جاتا ہے۔ گورنر مغربی پاکستان نواب آف کالا باغ اور کمشنر حیدرآباد مسرور حسن کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر حسن علی عبدالرحمٰن کو ہٹا دیا گیا ، تو یونیورسٹی کے طالب علم سراپا احتجاج ہو گئے۔ بعد میں طلباء تحریک یونیورسٹی آرڈیننس کے خامتے سے لیکر ون یونٹ اور ایوب خان کی آمریت کے خلاف تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ اس طرح ساٹھ کے عشرے کے آکر میں گورڈن کالج راولپنڈی سے رکھنے والی تحریک ایوب خان کے خلاف ملک گیر تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ ضیاء الحق کے خلاف بھی سب سے مضبوط آواز طلباء اور نوجوانوں کی تھی کہ ضیا نے طلباء یونین پر پابندی لگا دی۔

آج کی تبدیل شدہ صورتحال میں طلباء کے ابھار کی بڑی اہمیت ہے۔ دو بڑی جماعتیں مقدمات، سزائوں، سخت دبائو اور بعض اوقات مصلحت پسندی کے باعث اپنا بھرپور کردار ادا نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں طلباء کی تحریک ایک لبرل سوچ کی حامل نظر آتی ہے جو نوجوانوں اور طلباء کی اہمیت اور نظام میں شرکت کی آواز بن کر ابھر رہی ہے۔


ای پیپر