ہمارا تعلیمی نظام اور عصرِ حاضر کے تقاضے
02 دسمبر 2019 2019-12-02

گزشتہ ہفتے ملک کے تمام بڑے شہروں میں طلبا و طالبات نے طلبہ یونینز کی بحالی کے لیے ملک گیر مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں طالبعلموں کے ساتھ وکلاء صحافی، سول سوسائٹی اور ترقی پسند دانشوروں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ بنیادی مطالبہ تو طلبہ یونینز پر عائد اس پابندی کے خاتمے کا تھا جو 1980 ء کے عشرے میں لگائی گئی تھی۔ لیکن عملی طور پر اس پابندی کا اطلاق بائیں بازو کی تنظیموں پر ہوا۔ جب کہ دائیں بازو کی تنظیموں کو تعلیمی اداروں میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا پورا ماحول فراہم کیا گیا۔ یونیزپر پابندی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کی فیسوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولت کے فقدان کے خلاف بھی خوب نعرے بازی ہوئی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈ میں کی جانیوالی کمی کے خلاف بھی بڑی تعداد میں پلے کارڈ نظر آئے۔ ان مظاہروں کا مثبت پہلو یہ رہا کہ کسی بھی قسم کا منفی رویہ یا ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا ۔ ایک تو ہمارا تعلیمی نظام ہی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں اور اس پر بھی اگر فکری ارتقاء اور تربیت پر پہرے بٹھا دیئے جائیں تو پھر زوال کا رونا کیوں؟۔

حصول علم دین اسلام کا اولین تقاضا ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کا جو نصب العین بیان کیا ہے وہ جہالت اور ظلم سے نجات حاصل کرنا ہے اور جہالت سے نجات کا واحد ذریعہ علم ہے اور وہ عمل جو علم کی روشنی میں انجام دیا جاتا ہے وہ ہی ظلم و شر کی بیخ کنی کا سبب بنا کرتا ہے ۔ اس حوالے سے جب ہم اپنے موجودہ تعلیمی نظام کا جائزہ لیتے ہیں تو انتہائی درجے کی مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی نظام کو ایک جامع ، مربوط و موثر پالیسی اور تسلسل کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ جب کہ وطن عزیز میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں اول دن سے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں ہم آہنگ کرنے کا فقدان رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک کا تعلیمی ڈھانچہ تبا ہ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہمارے ملک کے تعلیمی نظام میں یوں تو بے شمار خرابیاں ہیں لیکن سب سے بڑی خرابی یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کا نہ ہونا ہے۔

بنیادی طور پر ہمارا تعلیمی نظام دو بڑے حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک دینی مدارس ، دوسرے د نیاوی تعلیم کی درس گاہیں۔ دینی تعلیم کے اداروں کو لیجیے۔ ان کی سب سے بڑی ’’خصوصیت ‘‘ یہ ہے کہ یہ تقلید کے اصول پر قائم ہوئے ہیں اور اسی بنیاد پر خود کو مختلف مسالک میں تقسیم کرلیا ہے۔

سوائے چند ایک کو چھوڑ کر ، جہاں تک ان مدارس کے نصاب کا تعلق ہے وہ ہماری علمی ، دینی اور عہد حاضر کی ضرورتوں کے پیش نظر کئی اضافی تبدیلیوں کا متقاضی ہے۔ کوئی بھی ایسی کتاب نہیں جو ان مدارس کے طلباء میں اجتہادی بصیرت پیدا کرسکے۔ جدید فلسفہ، نفسیات، علم اقتصاد، علم الافلاک، طبعیات، سیاسیات اور اسی طرح کے دوسرے علوم ابھی تک ان مدارس کی چوکھٹوں پر قبولیت کا’’ شرف‘‘ حاصل نہیں کرپائے ہیں۔

اس کے بعد عام دنیاوی تعلیم کی درس گاہوں کو لیجیے، یہ جس نظام پر قائم ہیں اس کی تعمیر میں ابتداء ہی سے خرابی کی بہت سی صورتیں مضمر رہی ہیں۔ اس کی بنیاد برصغیر کے برطانوی حکمرانوں نے رکھی تھی۔ ان درس گاہوں نے خود کو مختلف معاشی طبقات میں تقسیم کررکھا ہے۔ جس کے سبب یہ درس گاہیں ملک میں مستقبل کے معمار نہیں بلکہ اشرافیہ کے غلام پیدا کررہی ہیں ۔ ان درس گاہوں کی مسابقت تعلیمی معیار میں نہیں بلکہ :

رعنائی تعمیر میں رونق میں صفا میں ہے ۔ دنیاوی تعلیم کے مروجہ نظام کے بارے کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی فرماتے ہیں :

’’ ہمارا سیکولر تعلیم یافتہ گروہ دنیا میں سب سے زیادہ نکما، انتہائی غیر ذمہ دار اور مادی اغراض کے لیے کام کرنے والا ہے۔ یہ نظام تعلیم ایک فرسودہ اور بے مقصد نظام تعلیم ہے، جو اپنے سامنے کسی سماجی نیکی، جذبہ کی گہرائی اور ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے خود غرضی، بد عنوانی اور بزدلی جو آدمی کو قدم اٹھانے اور ہمت و جرات سے کام لینے سے روکتی ہے، کے سوا کچھ نہیں دیا‘‘۔

ان درس گاہوں نے علم کا اعلیٰ مقصد نظروں سے اوجھل کر کے علم کو فقط روزی کے حصول کا ذریعہ بنا دیا ہے، جو حصول علم کا ایک جزوی پہلو ہے۔ ان درس گاہوں میں اکثریت ان طلبہ کی ہے جو حصولِ علم کے شوق میں کم اور دنیاوی جاہ و منصب کی حرص میں زیادہ مبتلاء ہیں۔ سرکاری کا لج اور یونیور سٹیاں ’’ فارغ التحصیل ‘‘ ہونے والوں کی کھیپ پہ کھیپ تیار کررہی ہیں ، جن کی قابلیت کا یہ حال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر علم و تحقیق کا سکہ منوانا تو دور کی بات قومی سطح پر بھی کوئی قابل ذکر کارنامہ انجام نہیں دے پائے ہیں۔ یہ نظام مستقبل میں ملک کی باگ ڈور چلانے والی نسل کو ایک ایسی بے مقصد تعلیم د ے رہا ہے جس سے بے روزگاری میں اضافے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہورہا ۔ پیشہ وارانہ تعلیم کا یہاں فقدان ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہمیں ملک میں تیل اور گیس کی تلاش سے لے کر گوادر کی بندرگاہ کو چلانے کے لیے بھی دوسروں کا دست نگر ہونا پڑ رہا ہے۔

نجی تعلیمی اداروں کا حال یہ ہے کہ وہ بلند پایہ عالمی اداروں سے الحاق کے دعوے تو کرتے ہیں مگر درحقیقت یہ سارے کے سارے دعوے اور نعرے گلشن کا کاروبار چلانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ تعلیم کے نام پر ان کا مقصد صرف لوٹ مار کرنا ہے۔ ان میں چند ایک ادارے ہونگے جو عالمی سطح پر اچھی شہرت اور معیار رکھتے ہوں۔ مگر ان کی فیس ہے کہ آسمان کی بلندیوں کو چھورہی ہے۔ کیونکہ اس معاملے میں بھی حکومت کا کوئی اختیار ہے نہ ان اداروں کے ارباب اختیار کے پا س عقل سلیم۔ایسے اداروں میں متوسط اور غریب طبقے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اس صورتحال میں دینی مدارس کے طالب علم دنیاوی تعلیم سے ناآشنا ہیں اور دنیاوی تعلیم کی درسگاہوں کے طالب علم دینی علوم سے بے بہرہ اور لا علم۔ یہ اس ادھوری تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہے۔جس کے لیے ضروری ہے کہ ہر شعبے میں انقلابی اقدام اُٹھایا جائے ۔ مطالعہء تاریخ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اقوام کے زوال کی ابتداء اخلاقی انحطاط اور بے عملی سے ہوتی ہے، جس کا بنیادی سبب بے علمی ہے۔ لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ تقلید اور اونچ نیچ سے پاک ایسی تعلیمی پالیسی وضح کی جائے جو جدید دور کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرسکے ۔ جب کہ جب کہ ہمارا تعلیمی بجٹ بھی کہیں زیادہ اضافے کا متمنی ہے ۔ ہمارے پاس ایسے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو قوم کے لیے ایک غیر طبقاتی اور جدید نظام تعلیم کی منصوبہ بندی کرسکیں۔ ملک کے روشن مستقبل کا دارو مدار اسی پر ہے کہ ہم ساری توانائیاں نظام تعلیم میں پائے جانے والے واضح تفاوت، فرق اور امتیاز کو دور کرنے پر صرف کریں۔ اس کے لیے بانی پاکستان کے خطاب کا درج ذیل حصہ بھی ہماری بہتر رہنمائی کرسکتا ہے :

’’ ہم نے ایک ریاست حاصل کرلی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ تعلیم کے لیے ایک قابل عمل، تخلیقی اور ٹھوس پروگرام تیار کریں جو ہماری ضروریات کے عین مطابق ہو اور ہماری تاریخ اور ہمارے قومی مقصد کا ترجمان بھی‘‘۔


ای پیپر