میرے مسکین ہم وطنو!
02 دسمبر 2019 2019-12-02

وطن عزیز کے کچھ لوگوں کے رویوں، باتوں اور افکار سے لگتا ہے پاکستان 1947ء میں نہیں 1992ء میں معرض وجود میں آیا تھا حالانکہ موجودہ پاکستان 1970-71ء کا پاکستان ہے۔ 72 سالوں کی بات صرف طعنے کے طور پر کرتے ہیں جن میں 18 سال تو ایوب خان آرمی چیف جبکہ دس مکمل اقتدار اور پھر تین سال یحییٰ خان کی حکمرانی رہی جب اس حکمرانی کی ہنڈیا سے ڈھکن اٹھا تو مشرقی پاکستان الگ ہو چکا تھا۔ آج کے نوجوانوں کو 1977ء کی 5 جولائی سے آگے حالات و واقعات اور معاشرت کا علم نہیںکہ نظام مصطفی کے نام پر یوں جلسے جلوس ہوئے جیسے 1947ء سے پہلے تحریک پاکستان کے لیے تھے پھر ضیاء الحق کے 11 برس نے جو نئے خاندان پیدا کیے اُن میں میاں برادران اور چوہدری برادران و دیگران نے سیاست میں اپنی جگہ بنائی مگر میاں برادران میں نواز شریف 1994ء میں بھٹو مخالف قوتوں کے رہنما ٹھہرے۔ 1977ء سے لے کر 2019ء دیکھ رہے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میرے وطن کی غیور فوج دنیا کی انتہائی قابل ذکر طاقتور ترین افواج میں پہلی 5 افواج میں ہے مگر دنیا میں بھی اور اپنے وطن میں مقبول ترین ادارہ ہے۔ اس قدر مقبول ترین کہ میرا خیال ہے امریکی، بھارتی، روسی، فرانسیسی، انگلستان وغیرہ کے عوام اپنے ملک کے آرمی چیف کا نام نہیں جانتے ہوں گے مگر الحمد للہ ہمارے آرمی چیف کو دنیا جانتی ہے جبکہ وطن عزیز میں لوگ تو میجروں کے نام تک بھی جانتے ہیں یہ ان کی مقبولیت ہے۔ فوجی راج میں تو ہوا مگر جمہوری ملک میں کہاں کوئی کسی فوجی آفیسر کا نام جانتا ہے۔ یہی حالت عدلیہ کی مقبولیت کی ہے ہمارے جج صاحبان کو دنیا جانتی ہے جبکہ اندرون ملک تو عالیہ اور عظمیٰ دونوں عدالتوں کے سربراہان اور عہدیداران کے سارے خانوادے کو لوگ جانتے ’’محبت کرتے‘‘ ہیں۔ یہی حالت بیورو کریسی کی ہے۔ ایس پی کیا SHO سے اوپر اے سی کیا ٹپوری سے اوپر کوئی آفیسر ہو لوگ اس کا شجرہ نسب تک جانتے ہیں۔ یہ مقبولیت کے درجات ہیں جو انہوں نے بڑی محنت اور قومی خدمات سے حاصل کیے ہیں عوام ان سے بہت خوش ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت ان کی آئندہ زندگیاں، منزلیں بھی آسان کرے اور درجات بلند کرے۔

مسکین ہم وطنو ! آپ بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کہ آپ لوہے کہ اعصاب کے ساتھ پیدا ہوئے ایسے سخت جان لوگ شاید دنیا کے کسی اور خطہ کو نصیب نہ ہوں۔ ریڈیو پاکستان پر اور پی ٹی وی پر اعتبار نہیں تو رات دس بجے بی بی سی کی اردو سروس ریڈیو پر رضا عابدی کا سیر بین پروگرام لگا کر دکانوں، بازاروں اور گھروں میں سے سننا شروع ہو گئے کہ سچ سن سکیں یہ سلسلہ جناب بھٹو کے خلاف جعلی مقدمہ سے چلا آ رہا ہے۔ آج سیکڑوں چینلز ہیں پھر بھی سچ کی آواز ناپید ہے۔ اعلیٰ عدالتی حوالے سے چلتے چلتے ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک ملک سعید حسن ہوا کرتے تھے آج بھی ہائی کورٹ بار میں سب سے زیادہ آباد ہال اُن کے نام سے ہے۔ ضیا کے وقت ہائی کورٹ کے جج تھے ایک دن عدالت آئے معمول کے مطابق جو وکلاء کھڑے ہوئے تب تک عدلیہ کا دل سے عوام احترام کرتے تھے کیونکہ ڈکٹیٹروں کے حق میں فیصلے تو آتے رہے مگر ابھی تک کسی مقبول قیادت کو عبرت نہیں بنایا گیا تھا۔ جج صاحب بیٹھے وکلاء بھی بیٹھ گئے۔ عدالت شروع ہونے لگی انہوں نے عملے کو مقدمات کی کارروائی شروع کرنے سے روک دیا۔ جج صاحب نے اپنا استعفیٰ ٹائپ کروایا کہ آئین قانون اور ضمیر کے خلاف فیصلے نہیں دیئے جا سکتے۔ دستخط کر کے بذریعہ رجسٹرار چیف جسٹس کو بھیجنے کا کہا کمرہ عدالت میں بیٹھے ہوئے وکلاء سے کہا آؤ چلیں بار روم چائے پیتے ہیں دوسرا کیانی ہال ہے اٹھارہ سال سے زائد عرصہ آرمی چیف اور 10 سال مطلق العنان حاکم رہنے والے ایوب خان کے دور کی قیامت خیز شروعات کے دن ہیں۔ ایک بریگیڈیئر صاحب تشریف لاتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے پروٹوکول آفیسر سے کہتے ہیں کہ وہ تمام عدالتوں کا دورہ کرنا چاہتے ہیں چیف جسٹس مغربی پاکستان ہائی کورٹ رستم خان کیانی کے پاس پروٹوکول آفیسر آتے ہیں اور جناب بریگیڈیئر صاحب کی خواہش سے آگاہ کرتے ہیں کیانی صاحب نے کہا کہ بریگیڈیئر صاحب کو بلائیں وہ یہاں تشریف لائیں بریگیڈیئر صاحب آئے کیانی صاحب نے پوچھا انہوں نے حاکمانہ خواہش کا اظہار کیا، کیانی صاحب نے کہا جناب بریگیڈیئر آپ کے پاس 5 منٹ ہیں ہائی کورٹ کے احاطہ سے باہر چلے جائیے ورنہ آپ ہائی کورٹ کی لاک اپ میں ہوں گے۔ بریگیڈیئر صاحب کو خودہ پتہ نہ چلا اور پانچ منٹ کا عرصہ 5 سیکنڈ میں مکمل کیا بعد ازاں ایوب خان گورنر ہاؤس آئے چیف جسٹس بھی ملنے گئے۔ ایوب خان نے جیسے سرراہ ہوتا ہے پوچھا کہ سنا ہے یہ واقعہ ہوا تھا کیانی صاحب بولے جناب وہ تو بریگیڈیئر تھا جناب بھی ہوتے تو یہی ہوتا۔ یہ لوگ جسٹس کیانی جسٹس سعید حسن جسٹس کارنیلیئس، جسٹس شبیر صاحبان نے قوم کو خراب کیا۔ عوامی رہنماؤں میں ذوالفقار علی بھٹو ان کے بعد ان کی بیٹی نے قوم کا وقت ’’برباد‘‘ کیا۔ ان کے بعد زرداری اور نواز شریف نے بھی یہی کوشش کی اور خود برباد ہوئے۔ یہ فیض احمدفیض، جالب، وارث میر، منو بھائی، لوگوں نے میرے مسکین ہم وطنو ! آپ کو بہت خراب کیا۔ آپ کی مثال اس مزدور جیسی ہے جو شام کے وقت برسات کے دنوں میں گندم کی بوریاں صحن سے سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر چڑھا رہا تھا۔ چڑھاتے چڑھاتے شام ہوئی چلی تو چوہدری نے جیب سے ماچس نکالی ایک ہی تیلی تھی اس نے ماچس سے تیل جلائی۔ روشنی ہوئی برسات کے موسم کی وجہ سے تیلی نم تھی مزدور اندھیرے میں بوریاں اوپر چڑھا رہا تھا۔ مسکین ہم وطنو ! اندھیرے میں چلتے چلتے روشنی کی طرح ہی راستے یاد ہو جاتے ہیں۔ اندھیروں میں بھی روشنی کی طرح کا معمول بن جایا کرتا ہے۔ اس اندھیرے میں لمحہ بھر کی روشنی آنے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے تو تیرگی میں شدت سے اضافہ ہو جایا کرتا ہے جو اندھیرے سے اجالے کا کام کرنے والے مسکین حقیقی اندھیروں میں واپس جائے تو اس کے احساس میں اضافہ ہو جاتا ہے جب چوہدری کی تیلی نمی کی وجہ سے فوراً بجھ گئی تو مزدور نے کہا چوہدری جی تسی تے ساڈھا ہنیرہ وی گوایا جے۔ میرے عزیز ہم وطنو ! ہم 1977ء کی 5جولائی سے دیکھ رہے ہیں آپ امیدیں باندھ لیتے ہیںآپ کو یقین کر لینا چاہیے جسٹس کیانی، سعید حسن ملک، جسٹس کارنیلیئس، جسٹس شبیر ، جناب ذوالفقار علی بھٹو محترمہ بے نظیر بھٹو، فیض، جالب، وارث میر، منو بھائی لوگ آپ سے ’’زیادتی‘‘ کر گئے آپ کا اندھیرا خراب کرکے چلے گئے۔ آپ کسی فیصلے، کسی حکم، کسی دعوے کا اعتبار نہ کیا کریں۔ آپ حکمران طبقوں کے چڑھے ہوئے سورج کی تپش اور تقدیر کے اجتماعی گھٹاٹوپ اندھیرے میں سر گرا کر زندگی کے دن پورے کریں اور اللہ رب العزت کے فیصلے کا انتظار کریں جو چڑھے ہوئے سورجوں کو ڈوبتے سورجوں کی لاشوں میں بدل دیتا ہے ، سورج مکھیوں کی پیروی بند کر دیں۔ موجودہ عدالتی فیصلے میں جو گیند اسمبلی میں پھینکی گئی ہے۔ اسمبلیوں میں موجود لوگوں کی حکمرانوں کو اتنی اکثریت ہر وقت میسر رہتی ہے کہ حکمرانی کا حصہ بننے کی خاطر وہ ہر بل منظور کر دیں گے۔ میرے مسکین ہم وطنو ! کسی پر امید مت باندھوں حضرت علیؓ فرماتے ہیں لوگوں سے ناامیدی آزادی ہے۔ حقیقی آزادی تو بس نصیب نہیں ہوئی لوگوں سے آزادی ہی حاصل کریں۔


ای پیپر