آٹا چور، ہماری عدالتیں اور معاشرہ
02 دسمبر 2019 2019-12-02

ہمارے دوست رانا احسن سلیم گورنمنٹ کالج آف کامرس کے پرنسپل ہیں۔ ان کی اولین خصوصیات میں سے یہ خوبی بڑی اہم ہے کہ وہ شعر و ادب سے روشناس ہیں۔ انہوں نے درویش صفتی کو اوڑھنا بچھونا بنا یا ہوا اور عیاری و مکاری سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ منافقت اور غیبت جو آج کل معاشرے کا طرۂ امتیاز ہے۔ رانا صاحب کے دماغ کے نہاں خانوں میں بھی موجود نہیں۔ رانا صاحب کی حقیقی ، مجازی اور معنوی خوبی یہ ہے کہ وہ بلا تخصیص چھوٹے، بڑے، دوست ، غیر ، عزیز، رشتہ دار حتیٰ کہ دشمن کی بات اور مسئلہ کو بھی بڑے غور اور توجہ سے ہنستے ہیں اور بہتر سے بہترمشورے سے نوازنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رانا صاحب کے ہاں مایوسی، قنوطیت اور نا امیدی کو ذرا بھی عمل دخل نہیں ہے۔ وہ پیشۂ فرہاد چلانے کو بھی معمولی کار سمجھتے ہیں۔ اُن کے نزدیک کوہ کنی جوئے شیر لانے کے بھی مترادف نہیں۔ رانا صاحب کے ہاں واحد ’’راجپوتانہ‘‘ خوبی یہ ہے کہ انہیں اگر کہہ دیا جائے کہ دشمن پروار کرنا ہے اور اس کا سر بچانا ہے تاکہ دستار کی فضیلت بر قرار رہے تو رانا صاحب بالکل آپ کو مایوس نہیں کریں گے ۔ وار کرنے کی حد تک رانا صاحب آپ کے مشورہ میں شامل ہوں گے مگر وقت، حالات، و آلات کا بندو بست آپ نے خود کرنا ہو گا۔ میں رانا صاحب کو لالہ کہہ کر پکارتا ہوں (حالانکہ کہ میں ایک عرصہ سے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو حقیقی لالہ کہہ چکا ہوں) قارئین رانا صاحب کے خوبیاں اور فضائل اپنی جگہ الگ حقیقت اور مستند حیثیت کے حامل ہیں کہ جو واقعہ انہوں نے میرے گوش گزار کیا وہ الگ حقیقت اور سچائی پر مبنی ہے۔ ہوایوں کے کالج کے ہوسٹل کے باورچی نے دس کلو آٹا ، دو پلیٹیں اور چند چمچ چوری کر لیے ( حالانکہ جس قدر چمچے معمولی آفس سے لے کر حکومتی ایوانوں میں پائے جاتے ہیں وہ تھوک کے حساب سے بھی چوری کر لیے جائیں تو ان کو ختم ہونے میں صدیاں درکار ہوں گی)

ستم گر کو تو ستم گری کے لیے بہانہ چاہیے ہوتا ہے ۔ ان کی بلا جانے پس پردہ حقائق کیا ہیں؟ جرم کتنا ہے اور کیسا؟ چوری کے پیچھے چور کے مقاصد کیا ہیں ؟ آٹا چرانے والے چور کی نفسیاتی صورت حال کیا ہے ؟ ہمیںا ن تمام باتوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی ۔ ہمارے اندر کا مسلمان اور ایمان فوراً جاگ اٹھتا ہے اور اس بھوکے، مفلوک الحال ، کمزور اور نحیف چور پر ایسے چڑھ دوڑتے ہیں۔ جیسے پیاسے ہنس تلاب پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارے اندر کی انسانیت انسان کی عظمت و رفعت مکمل طور پر پردہ پوشی اختیار کر لیتی ہے اور ہم اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ملزم کو پکڑ کر پہلے تو طالب علموں نے مار مار کر بھیگی بلی بنا دیا اور اس کے بعد اسے ما بدولت پرنسپل کے حضور پیش کر دیا۔ پرنسپل صاحب کی زندگی میں شاید یہ پہلا واقعہ تھا کہ اسے اپنا غصہ جھاڑنے اور رعب دکھانے کا موقع ملا ہو۔ پہلے تو پرنسپل صاحب نے غریب اور مفلوک الحال آٹا چور کے خوب لتے لیے اور اس کے بعد تھانے فون کیا۔ پولیس فوراً دوڑی چلی آئی جیسے کوئی دنیا کا مہا ڈکیت، قاتل، منشیات فروش اور کسی خطرناک گروہ کا سر غنہ اور صیاد اپنے دام میں آپ آ گیا ہو۔ پولیس آئی اور پرنسپل نے واقعہ سنسنی انداز میں بیان کیا اور چور کو بنفس نفیس حوالہ پولیس کر دیا۔ پولیس نے چور کو گاڑی میں ڈالا اور تھانے جاتے ہی اس پر چوری اور ڈکیتی کی دفعہ لگا کر پرچہ کاٹ کے حوالات میں بند کر دیا۔ اگلے دن چالان صادر فرما کے ملزم کو جیل بھیج دیا۔ چند دن پرنسپل صاحب اپنے اس کارنامے پر اتراتے رہے اور نجی محفلوں میں اس واقعے کو فخریہ انداز میں سناتے رہے۔ بقول خیال امروہی:

دستار کی ہر تار کی تحقیق ہے لازم

ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا

ابھی اس واقعہ کو رونما ہوئے چند دن ہی گزرے تھے کہ ملزم کے اہل و عیال مفلوک الحالی اور کسمپرسی کی حالت میں پرنسپل صاحب کے حضور پیش ہوئے۔ انہوں نے تمام گلے شکوے بالائے طاق رکھتے ہوئے بھوک کا فلسفہ بیان کیا اور بتایا کہ بچے کئی دنوں سے بھوکے ہیں اور یہ دس کلو آٹا چرانے کی نوبت بھی اسی بھوک کے آسیب کی بھی وجہ آئی۔ پرنسپل صاحب کا دل ذرا نرم ہوا اور انہوں نے اپنی سوچ کو آسمان سے اتار کر اور اپنی دیانت اور امانت کی گھتیاں سلجھائے بغیر ملزم کو رہا کروانے کا حتمی فیصلہ تشکیل دے دیا۔ پھر اسی سلسلے میں ہمارے دوست اور شجر ہائے سایہ دار رانا صاحب کی خدمات مستعارلی گئیں۔ باہمی مشورہ اور پندو نصاع کے بعد ملزم کو رہا کروانے کے ہے ایک عدد وکیل صفائی کی خدمات لی گئیں اور بطور مدعی خاص کے معافی نامہ بھی تحریر کر دیا۔ یہ ابھی ابتدائے عشق کے مراحل تھے کہ اور آگے آگے کچہری اور جج صاحب بھی موجود تھے۔ کیس فائل ہوا تاریخ پر تاریخ پڑنے لگی اور میرے یہ احباب عدالت کے چکر لگا لگا کر ادھ موئے ہو گئے۔ بالآخر جج صاحب کی منت سماجت کی اور اپنے استاد ہونے کا حق جمایا تب جا کر جج صاحب نے دس سیر آئے دو پلیٹوں اور چند چمچہ چور کی ضمانت منظور کر لی۔ چور کو سپرد پولیس کرنے سے لے کر جیل کی سلاخوں سے باہر لانے تک پورے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا اور وکیل کی فیس، عدالت سے آنے جانے کا خرچ مال مسروقہ، سے کئی گنا زیادہ تھا اور اس کے علاوہ عدالتوں میں عزت نفس کا مجروح ہونا ایک عام سی بات اور واقعہ ہے۔ یہ توچشم دیدیگی پر مبنی ایک واقعہ تھا جو میرے لیے سوہان روح بن گیا۔ ملک عزیز میں لاکھوں کے اعتبار سے بے گناہ ، کمزور، لاغر اور مریض قیدی جیلوں میں پڑے پڑے عمر رفتہ کو آواز دیتے ہیں اور حال کی گھڑی میں آہ و زاری کرنے پر مجبور ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان کے لیے کیسی خوراک اور مشروب ( پانی ) دستیاب ہے، اس کی کسی کو کوئی پروا نہیں۔ ان کے پلیٹ لیٹس کم ہیں یا زیادہ ہمارا اس بات سے کوئی سروکار نہیں۔ان کے لیے عدالتیں اتوار کو لگیں یا نہ لگیں۔ انہیں اپنے جائز حق میں جائز فیصلے کی کوئی توقع نہیں۔ ان کے پسماندگان پر کیا گزرتی ہے۔ عدالتوں میں ان کے لیے رحم اور ترس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ۔ انسانی تقاضے ، آئین کی پاسداری اور آپ کا ایمان اس وقت دم توڑ جاتا ہے ۔ جب بڑے لوگوں کی سزا اور ہوتی ہے اور غریب پر ور معاشرے کو سزا اور دی جاتی ہے ۔ اس وقت پھر نہ ملک میں جمہوریت کی روح باقی رہتی ہے اور نہ ہی ملک کے آئین و قانون کی کوئی حقیقت باقی رہ جاتی ہے ۔ اسلامی ریاست ، اسلامی معاشرے اور ریاست مدینہ کے لیے ضروری ہے کہ چوری کرنے پر فاطمہ ؓ کے ہاتھ بھی کاٹ دیئے جائیں اور جنگ خندق جیسے موقعوں پر خود بھی پیٹ پر پتھر باندھ لیے جائیں۔ آٹا چور کو سزا دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ان حقائق کو جانا جائے جس کی بنا ء پر اسے آتا چوری کرنے کی نوبت آئی اور کسی کو بیرون ملک علاج کے لیے بھیجنے سے پہلے جانا جائے کہ اس کی بجائے اپنے معاشرے میں کتنے بیمار لوگوں کو سہولت دی جا سکتی ہے اور کتنی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔ کتنے گھر وں کا چولہا جل سکتا ہے اور کتنے کمزوروں کو سہارا مل سکتا ہے ۔تھر کے کتنے معلوم بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور کتنے بے گھروں کو چھت دی جا سکتی ہے ۔ کتنے معمار ان قوم کو سکول بھیجا جا سکتا ہے ۔ اور کتنے بچوں کو سہولتیں باہم پہنچائی جا سکتی ہیں۔ قارئین آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔


ای پیپر