سی پیک کو کالا باغ ڈیم بننے سے بچائیے…!
02 دسمبر 2019 2019-12-02

امریکہ کی طرح کبھی روس بھی فرعون تھا ہر بات پہ ٹانگ اڑانا وتیرہ، ہر ملک کے معاملات میں دخل اندازی کرتا تھا چودھراہٹ کے لئے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا ’’گر‘‘ جانتا تھا پھر ایک وقت آیا کہ سپر پاور نے افغانستان کی لڑائی گلے ڈال لی اور ایسا پھنسا کہ پاش پاش ہوگیا، آج امریکہ بھی اسی ڈگر پر ہے خصوصاً مسلمان ممالک کے داخلی معاملات میں اثرانداز ہو کر اپنے مفادات کو پروان چڑھاتا ہے، روس کا انجام بھول کر کہ کبھی یہی روش روس کی تھی پھر دنیا نے دیکھا کہ روس افغانستان کے پہاڑوں سے ٹکرا کر ریزہ ریزہ ہوگیا ، آج امریکہ بھی دوسرے ممالک میں سازشوں کے جال بن رہا ہے چاہے کوئی بھی معاملہ ہو ٹانگ اڑانے سے باز نہیں آتا ’’ سی پیک ‘‘ جب سے آیا ہے امریکہ کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیںامریکہ ہی نہیں دبئی بھی اس تکلیف میں شامل ہے کیونکہ ٹیڑھا کان پکڑنے میں وقت لگتا ہے اور تکلیف بھی ہوتی ہے چین سیدھا کان پکڑنے جا رہا ہے سی پیک کی آڑ میں پاکستان اس سے مستفید ہو گا بس یہی روگ ان طاقتوںکو کھائے جا رہا ہے اور وہ کالاباغ ڈیم کی طرح اسے بھی متنازع بنا کر اپنے مفادات کو پورا کرنا چاہتے ہے۔

امریکی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلزکی راتوں کی نیند حرام ہوگئی جب سے پاکستان میں سی پیک آیا ہے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے ایلس ویلز نے کہا ہے کہ چین مختلف ممالک کو ایسے معاہدے کرنے پر مجبور کر رہا ہے جو ان کے مفاد میں نہیں،پاکستان کو چین سے سی پیک منصوبہ کی شفافیت سمیت سخت سوالات کرنا ہوں گے۔ سی پیک گرانٹ کے طور پر لیا جا رہا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، سی پیک منصوبہ چین کے علاوہ دیگر ممالک کے مفاد میں نہیں ہے، چین دیگر ممالک کو قرضے فراہم کر تا ہے لیکن اس لین دین میں شفافیت کی کمی ہے،چین نے دیگر ممالک سے پانچ ٹریلین ڈالرز کے لین دین سے متعلق کہیں رپورٹ پیش نہیں کی، شفافیت کے نہ ہونے سے کرپشن کو فروغ ملتا ہے اور خودمختاری متاثر ہوتی ہے،جواب میں چینی سفیر نے سی پیک میں کرپشن کے امریکی الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا سی پیک پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے احتیاط کرے،نپے تولے منصوبے کے تحت چین کے پاور پلانٹ کم ترین ریٹ پر بجلی فراہم کر رہے ہیں۔

پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آیا تو ٹانگیں کھینچنے کی کوششیں شروع ہو گئیں، سی پیک دشمن کی آنکھ میں کھٹک رہا ہے لیکن ہمارے نادان سیاستدان کس کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں؟ سی پیک جیسے قومی منصوبہ کوصوبوں سے منسلک کرنا مذموم ایجنڈا کا حصہ ہے جسے ہر محاذ پر ایکسپوز کریں گے ،قومی منصوبوں پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں، ملکی حالات کسی قسم کی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے اورایسا کرنے والے عوامی شعوروطاقت سے خوفزدہ ہیں۔

آئے روز چینی شہریوں پرحملے اغواء،قتل کے پیچھے بھی امریکہ ،بھات اور اسرائیل کا ہاتھ ہے کہ جو مل کر پاک چین تعلقات اور خصوصاً سی پیک کو ہضم کرنے کیلئے تیار نہیں اور سمجھتے ہیںکہ اگر سی پیک پرعمل درآمد ہو گیا تو پاکستان کو اقتصادی خود انحصاری کی منزل پر پہنچنے سے روکا نہیں جا سکے گا، یہی وجہ ہے کہ کبھی چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی چینی سفارتکار اور قونصلیٹ ان کا ہدف بنتے ہیں اور اب کھل کر پاکستان دشمن سی پیک کیخلاف پراپیگنڈہ کر رہے ہیں جس طرح کبھی کا لا باغ ڈیم کیخلاف کرتے تھے اور آج کالا باغ منصوبہ مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے جہاں تک سی پیک کی پاک چین تعلقات میں اہمیت کا سوال ہے تو یہ سنگ میل ہے اس سے نہ صرف چین کے روابط دنیا تک وسیع ہوں گے وہاں پاکستان بھی ترقی و خوشحالی کے مراحل طے کرے گا اور یہی وجہ ہے کہ جب سے سی پیک کا معاہدہ ہوا امریکہ اور بھارت اس پر اپنے شدید تحفظات ظاہر کرتے نظر آئے ہیں

یہی وجہ ہے کہ امریکی آشیرباد سے بھارت اور افغان انتظامیہ مل کر علاقائی طور پر دہشت گردی اورشدت پسندی کو ہوا دے رہے ہیں، بھارت پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کیلئے پاکستان اقتصادی حوالے سے مضبوط ہوگا تو غربت، جہالت اور پسماندگی کا خاتمہ ہونے سے شدت پسندی و دہشت گردی ختم ہوگی،اگر حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور ادارے مل کر قومی مفادات کے تحفظ اور اپنی بقا و سلامتی کے حوالے سے یکسو ہوں تو مطلوبہ نتائج بھی مل سکتے ہیں اور ہم ترقی و خوشحالی کی منزل پر بھی پہنچ پائیں گے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اپنے سیاسی مفادات کے حوالے سے ایک ایک قدم پیچھے اور قومی مفادات کی جانب ایک ایک قدم آگے بڑھیں تو پاکستان کو درپیش ہر طرح کے خطرات سے پاک کیا جا سکتا ہے،جبکہ دوسری طرف سی پیک منصوبے پر پی ٹی آئی حکومت کے غیرذمہ دارانہ بیانات سے پہلے ہی کئی مسائل پیدا ہوچکے ہیں،کابینہ کے ارکان سی پیک منصوبوں کو متنازع نہ بناتے تو عالمی غلط فہمیاں پیدا نہ ہوتیں ، سی پیک منصوبوں کے لئے چین کے قرضوں کا کل حجم 18 ارب ڈالر نہیں تقریبات 5.8 ارب ڈالر ہے، اس قرض کی ادائیگی کی مدت بیس سے پچیس سال اور شرح سود اوسط دو فیصد ہے ،توانائی کے تمام منصوبے سرمایہ کاری کی شکل میں ہیں ،بلاشبہ یہ قرض نہیں بلکہ برادر ملک پاکستان کے لئے خصوصی رعایت ہے،حکومت عوام اور سیاستدانوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گااپنی آنکھیں کھلی رکھ کر کہ دشمن اپنی چال میں کامیاب نہ ہو اور ملکی ترقی کا منصوبہ سی پیک بھی کہیںکالا باغ ڈیم نہ بن جائے؟۔


ای پیپر