طاقتور قانون اور مقدس گائے
02 دسمبر 2019 2019-12-02

تاریخ انسانی میں زمانہ قدیم سے ہر دور میں طاقتور کو برتری حاصل رہی ہے۔ بالخصوص ہمارا معاشرہ تو سمجھا ہی طاقتور کا جاتا ہے۔اس عمومی تاثر کی وجہ ہمارے سماج کے وہ چند طبقات ہیں جنھیں ہمیشہ سے مقدس گائے کا درجہ حاصل رہا ہے۔ پاکستان میں ” مقدس گائے “ کی اصطلاح محاورتاً استعمال کی جاتی ہے۔ مقدس گائے کا تصور ہندو مت سے لیا گیا ہے لیکن محاورتا اسے غالباً 18 ویں صدی کے آخر 19 ویں صدی کے اوائل میں انگریزی ادب میں برتا گیا۔امریکی صدر کیلئے جوپہلا طیارہ بنایا گیاتھا،اس کا نام بھی ” مقدس گائے “ رکھا گیا تھا۔ طیارے کا یہ نام رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اس طیارے کی ہر ممکن حفاظت کی جائے گی اور اسے کوئی بھی نشانہ نہیں بنا سکے گا۔ لغت میں ” مقدس گائے “ کا مطلب ایسا فردیا ایسی چیز ہے ، جسے طویل عرصے تک لوگ قبول کرتے رہے ہوںاور اس کی عزت کرتے رہے ہوں اور اس پر تنقید کرنے یا اس کے بارے میں سوال کرنے سے خوف زدہ ہوتے ہوں یا گریز کرتے ہوں۔ یعنی کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ جس پر تنقید یا اس کے بارے سوال نہ کیا جا±سکے اسے مقدس گائے سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر ملک کے سب سے طاقتور عہدے کی بات کی جائے تو اس میں ہماری مسلح افواج کے سربراہ شامل ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری عوام اپنی فوج سے بہت پیار کرتی ہے اور ہمیشہ مشکل وقت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہوتی ہے۔ تاہم اپنے ہی ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ کر اقتدار سنبھالنے والے جرنیلوں کے لئے کوئی بھی محب وطن پاکستانی ویسے جذبات نہیں رکھتا، جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ مقدس گائے کا روپ دھارنے والے یہ فوجی آمر جب بھی اقتدار میں آئے، انھوں نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو بند کیا۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی توسیع کے خلاف دائر ہونے والی درخواست پر سماعت شروع کی تو ایک دفعہ فاضل جج صاحبان کے خلاف بھی اسی پروپیگنڈے کا آغاز کر دیا گیا اور بعض حلقوں نے اسے فوج کے معاملات میں مداخلت قرار دینا شروع کر دیا۔ مگر عدالت عظمیٰ نے نہ صرف اس معاملے کو بڑی خوش اسلوبی سے نمٹایا بلکہ اپنے فیصلے کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اب یہاں کوئی مقدس گائے نہیں۔ سب سے طاقتور قانون ہے اور پارلیمنٹ تمام ریاستی اداروں پر بالادستی رکھتی ہے۔ ویسے تو اب تک کی عدالتی تاریخ کے اہم ترین مقدمے کی تمام جزئیات سامنے آ چکی ہیں لیکن ایک پہلو کا ذکر ضروری ہے جس کے بارے بات زیادہ واضح نہیں ہو سکی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے تمام قوانین کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 243 میں تعیناتی کا اختیار صدر مملکت کا ہے لیکن آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا قانون میں ذکر نہیں، آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ محدود یا معطل کرنے کا بھی کہیں ذکر نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی حد بندی کے اصول کے تحت ہم یہ معاملہ پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت پر چھوڑ رہے ہیں کہ وہ قانون سازی کرکے ہمیشہ کے لیے اس معاملے کو طے کر لیں۔ عدالت نے کہا کہ اس سے پہلے آرمی چیف کی تعیناتیاں روایتی طر یقہ سے ہوتی رہیں، تاہم جنرل قمر جاوید باجوہ کی یہ موجودہ تعیناتی بھی پارلیمنٹ کی قانون سازی سے مشروط ہو گی۔ تاریخ میں پہلی بار طاقتور ترین طبقے کی مدت ملازمت کے متعلق عدالت عظمیٰ میں ہونے والی اس کارروائی میں جو سب سے بڑا انکشاف ہوا کہ آئین پاکستان، پاکستان آرمی ایکٹ 1952، آرمی ایکٹ رولز 1954، آرمی ریگولیشنز 1998 میں چیف آف آرمی سٹاف یا کسی جرنیل کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع کا کوئی ذکر نہیں۔ حکومتی موقف کے مطابق قانون اس حوالے سے خاموش ہے اور یہ سب فوج میں چلی آ رہی ماضی کی روایات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اسی باعث عدالت نے یہ ریمارکس دیئے کہ ہمیں آرمی چیف کی مدت سے متعلق کچھ نہیں ملا۔ اس تاریخ ساز عدالتی فیصلے نے ماضی کے ان فوجی آمروں کے اقدامات پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں جنھوں نے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا اور اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر خود کو قانون نہ ہونے کے باوجود توسیع دیتے رہے۔ ماضی کے ان ڈکٹیٹرز کی فہرست کے مطابق جنرل ایوب خان ملک کے پہلے مقامی کمانڈر انچیف تھے۔ ا±ن دنوں کمانڈر انچیف کی مدت ملازمت 4 سال ہوا کرتی تھی۔ بوگرہ حکومت کے گھر جانے کے بعد ایوب خان کوسنہ 1955 میں بطور کمانڈر انچیف چار برس کی مزید توسیع مل گئی۔ یعنی یہ پہلا موقع تھا کہ جب فوج کے سربراہ کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع کی ناپسندیدہ روایت فوج میں متعارف کروائی گئی۔

جون 1958 میں جب دوسری توسیعی مدت ختم ہونے میں سال بھر باقی تھا، انھیں صدر سکندر مرزا کے دباو¿ پر فیروز خان نون حکومت سے مزید دو برس کی پیشگی توسیع مل گئی۔ جس کے بعد ایوب خان نے پہلے 7 اکتوبر 1958 کو پہلے مارشل لاءنافذ کر دیا اور اس وقت کی سیاسی حکومت کو چلتا کردیا۔ لیکن دنوں میں ہی اسکندر مرزا اور ایوب خان میں غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں اور جنرل ایوب خان نے فوجی افسران کی ایک ٹیم اسکندر مرزا کے گھر بھیجی۔رات گئے انھیں نیند سے اٹھایا گیا اور 27 اکتوبر 1958 کو بطور صدر ان سے استعفیٰ لے کر ایوب خان خود صدر بھی بن گئے۔ تاہم جنرل ایوب خان نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد فوج کے سربراہ کا عہدہ جنرل موسیٰ خان کو سونپ دیا۔ بعد ازاں 18 ستمبر 1966 کو یحییٰ خان اس عہدے پر فائز ہوئے۔ جنرل ایوب خان کی اقتدار پر گرفت کمزور ہوئی تو یحییٰ خان نے 31 مارچ 1969 کو انھیں گھر بھیج کر خود اقتدار پر قبضہ کرلیا۔جنرل یحییٰ خان خود اقتدار اور کمانڈر انچیف کی سیٹ پر جمے رہتے اگر 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بن جاتا۔ مشرقی پاکستان میں شکست نے 20 دسمبر 1971 کو یحییٰ خان کو گھر جانے پر مجبور کیا ورنہ آج شاید تاریخ میں ان کا نام بھی اپنے عہدے سے چمٹ کر توسیع لینے والوں کی فہرست میں شامل ہوتا۔ مجموعی طور پر پاکستان کی بری فوج کی قیادت اب تک 16جرنیل سر انجام دے چکے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف یا سپاہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ ہیں، جنہیں 29 نومبر2016 کو جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاک فوج کا 16 واں سربراہ بنایا گیا۔ اس سے قبل ازخود طور توسیع حاصل کرنے والے جرنیلوں میں سر فہرست اور ازخود توسیع کی بنیاد رکھنے والے جنرل ایوب خان تھے۔ ان کے بعد جنرل ضیاءالحق نے سب سے زیادہ مدت اس عہدے پر گزارنے کا اعزاز حاصل کیا اور تقریبا آٹھویں آرمی چیف کے طور پر ساڑھے بارہ سال اس عہدے پر براجمان رہے۔ ان کے بعد جنرل مشرف کا نام آتا ہے جو نو سال تک وردی میں رہے۔سول حکومت کی جانب سے توسیع پانے والے جرنیلوں میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اس وقت کے آئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشا شامل ہیں۔ ان دونوں جرنیلوں کو پیپلز پارٹی نے 2010 میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے پیش نظر مدت ملازمت میں توسیع کی تھی جو کہ سول حکومت میں توسیع کی واحد مثال ہے۔ آج سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ تمام فوجی آمر مدت ملازمت میں توسیع کا کوئی قانون نہ ہونے کے باوجود اپنے اقتدار کو دووام بخشتے رہے اور مولوی فضل الحق ، حسین شہید سہروردی ، خواجہ ناظم الدین ، حمید الحق چوہدری ، مسٹر منڈل ، سردار اورنگزیب ، میاں افتخار الدین ، سر غلام حسین ہدایت اللہ ، پیر الٰہی بخش ،چوہدری خلیق الزمان ، خان عبدالغفار خان اور دیگر کئی محترم اور جید رہنماﺅں کو غدار ، ملک دشمن ، کرپٹ اور بھارتی جاسوس قرار دیا گیا۔ تاہم ابھی اس کیس کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے جس میں عدالت اپنے سامنے آنے والے تمام آئینی و قانونی نکات کا بھرپور جائزہ لے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ یا عدلیہ ان کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ کرے گی۔ ماضی کے ان ڈکٹیٹرز کی طرف سے ملک و قوم کو پہنچنے والے نقصان اور جن محب وطن سیاستدانوں کو غدار قرار دیا گیا، کیا ان کا بھی ازالہ ہو سکے گا یا یہ ڈکٹیٹرز ماضی کی طرح مقدس گائے کے درجے پر ہی فائز رہیں گے۔


ای پیپر