حکو مت کے 100دن 
02 دسمبر 2018 2018-12-02

ایک مرتبہ جنگل میں جا نو رو ں کا تقر یر ی مقا بلہ ہوا۔ مو ضو ع تھا سب سے اچھا جا نور کو ن ہے۔ ایک جانور،جس نے کبھی کو ئی اچھا فعل سر انجا م نہیں دیا تھا، اپنی بار ی آ نے پہ اٹھ کھڑا ہو ا اور چلا نے لگا،’میں اچھا، میں اچھا، میں اچھا۔۔۔ قا رئین کرا م ، کیا ایسی ہی صو ر تِحا ل سے آ پ کا سا بقہ آ ج سے چا ر رو ز قبل تحر یکِ انصا ف کے چیئر مین اور پا کستا ن کے مو جو دہ وز یرِ اعظم عمرا ن خا ن کی اس تقر یر کے دوران نہیں پڑا جس میں انہو ں نے اپنی حکو مت کی 100روزہ کا ر کر گی بیا ن کر نے کی کو شش کی؟وا ئے نا کا می کہ اب خود ستائشی بھی ایک سیاسی مجبوری بن چکی ہے ۔ بعض حلقوں، خصوصی طور پر اپوزیشن کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ اکثر بلکہ تمام معاملات میں دعوے تیاری اور منصوبہ بندی کی حد تک ظاہر تھے۔ ظاہر ہے کام تو اسی وقت شروع سمجھا جاتا ہے جب عملدرآمد شروع ہو۔ لیکن معاملات زبانی جمع خرچ تک محدود رہیں تو نتائج کیسے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟ میں اچھا ،میں اچھا ، کے دعوے اپنی جگہ، لیکن تین، سوا تین ماہ کی کارکردگی کو جانچنے کا ایک اور صرف ایک ہی معیار ہے۔ یہ کہ کیا حکومتی پالیسیوں، فیصلوں اور اقدامات کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی میں پہلے کی نسبت کوئی بہتری آئی ہے؟ اس کے حقوق اسے پہلے سے زیادہ اور بہتر انداز میں ملنا شروع ہوگئے ہیں؟ کیا 18 اگست 2018ء کے مقابلے میں آج ان کی زندگی پہلے کی نسبت آسان یا کم مشکل ہوئی ہے؟ آیا روزگار کے مواقع بڑھے ہیں، مہنگائی میں کمی ہوئی ہے، تعلیم، صحت، پینے کے پانی، صفائی، پبلک ٹرانسپورٹ، امن عامہ کے معاملات پہلے کی نسبت عام آدمی کی زندگی میں سکون اور سہولتیں پہنچانے کا باعث ہیں۔ پہلے جیسے ہی ہیں یا پہلے سے بدتر ہوگئے ہیں؟ بڑے جوش و خروش کے ساتھ منعقد کی گئی اس تقریب سے ہمیں اور اس ملک کے ہر عام آدمی کو مندرجہ بالا تمام سوالات کے جوابات جاننے کی خواہش تھی لیکن وہ تشنہ ہی رہے۔ جس روز عام آدمی کی جانب سے کیے گئے ان سوالات کے جوابات آنا شروع ہوں گے اسی روز حکومت کی کارکردگی کھل کر سامنے آئے گی۔ بہرحال تحریکِ انصاف کی طرف سے حکومت کے پہلے 100 دنوں کے لیے دیئے گئے پروگرام میں ایک ہدف کی عدم موجودگی بہت کھٹکتی ہے۔ وہ ہے عام آدمی کا ذکر۔ یعنی 20 کروڑ پاکستانیوں کا تذکرہ کہ اُن کے چھوٹے چھوٹے روزمرہ کے معاملات کو بہتر یا کم مشکل کیسے بنانا ہے۔ دوسرا معاملہ جو اہداف کی فہرست میں نظر نہیں آتا، ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا ہے۔ ممکن ہے یہ ذکر ہوتا تو افغانستان اور ایران کے ساتھ معاملات میں حالیہ بہتری اور اب کرتارپور کوریڈورپاکستان تحریکِ انصاف کے کھاتے میں سنہرے حروف میں لکھے جاتے۔بھارت کرتارپور پیش رفت سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے ایک نئے سفر کا آغاز کرسکتا تھا لیکن بوجوہ ایسا نہ ہوسکا۔ جس کا پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بھارتیوں کو بھی قلق ہے۔ بھارت کے روکھے پن میں بین الاقوامی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں۔ اس میں بھارت کے سیکولرازم کی نئی شکل کا عمل دخل بھی ہے۔ بھارت میں سیکولرازم کے بارے میں ہمارے پہلے بھی تحفظات تھے اور اب بھی ہیں، کیونکہ یہ حقیقی سیکولرازم نہیں ہے۔ بھارت میں بسنے والی اقلیتیں اس سیکولرازم کو جس طرح بھگت رہی ہیں اس کے بارے میں پوری دنیا میں آئے روز کے واقعات سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ سکھ ایک نہایت اہم اقلیت ہیں۔ بھارتی معیشت میں، بالخصوص زراعت، صنعت و تجارت کے علاوہ مسلح افواج میں سکھ اپنی تعداد کے تناسب سے کہیں بڑھ کر نمایاں ہیں۔ ماضی میں ریاست کے ساتھ حالتِ جنگ میں رہے اور اس وقت باقی اقلیتوں کی طرح سیکولرازم کی نئی شکل کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اگر بھارت کی حکومت اس موقع سے فائدہ اٹھاتی تو سکھ برادری میں اس کی ساکھ یقیناًبہتر ہوجاتی۔ یہ کیوں نہ ہوسکا، بھارت کی حکومت اپنی ترجیحات ہم سے بہتر جانتی ہے۔ بہرحال پاکستان کو بھارت کے ساتھ حالات اور معاملات کو اعتدال پر لانے کے لیے کوشش جاری رکھنا چاہئیں۔ دونوں ملکوں کے مابین موجود دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بھی صرف یہی ایک راستہ ہے۔ کرتار پورراہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر بھارت کے رویے سے مایوس ہونا آسانی سے سمجھ آنے والی بات ہے لیکن اس مایوسی کے سبب اتنے بڑے اور اتنے اہم ہدف کو پرے نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں ملکوں کی آبادی ڈیڑھ ارب سے متجاوز ہے۔ دونوں ممالک بہت سے ایک جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ سب سے بڑھ کر غربت اور اس سے جڑے ہوئے ان گنت دوسرے مسا ئل ۔ جب تک ہم حالات کو ایک نئے معمول کی طرف موڑ کر نہیں لے جاتے نہ تو بھارت اپنے مسائل کو حل کرسکتا ہے اور نہ پاکستان۔ پاکستان میں اس وقت ایک نایاب اور بیش قدر کھڑکی کھلی ہے۔ ایک نئی حکومت آئی ہے۔ ریاست کا ہر ادارہ، جن میں افواجِ پاکستان پیش پیش ہیں، امن کی طرف پیش قدمی کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے تمام ادارے بھرپور انداز سے ایک نئے مستقبل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، جس میں امن کو یقینی بنایا جاسکے۔ صرف اسی صورت میں دو طرفہ مسائل کے حل کی کوئی صورت نکل سکتی ہے کہ یہ کھڑکی کھلی رہے۔ ایک دن آئے گا کہ بھارت بھی ایسی ہی کھڑکی کھولنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آئندہ نسلوں سے اسے معافی ملنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ بھارت کے ساتھ معاملات طے ہوتے رہیں گے، فی الحال تو عوام کے ذہن اور سوچ اس نکتے پر مرکوز ہیں کہ گزشتہ 100 دنوں میں ان کے ہاتھ کیا آیا؟ مہنگائی میں اضافہ ہوا یا تخفیف؟ روزگار کے مواقع بڑھے یا کم ہوئے؟ عام آدمی کی قوتِ خرید بڑھی یا کم ہوئی؟ دیکھتے ہیں، عوام حکمرانوں کے 100 روز کی کارکردگی کے بارے میں دعووں سے مطمئن ہوتے ہیں یا نہیں!مگر ان حا لا ت میں کیسے ہو ں گے؟ کیو نکر ہو ں گے؟ کا لم کے اختتا م سے پہلے یہ میسیج پڑھیے۔

’’بھوکے کو فلسفہ نہیں روٹی چاہیے‘‘ مرنے سے پہلے میں نے اسے خودکشی سے بہت روکا، اس نے کہا: کھانا لائے ہو؟ میں نے کہا کہ زندگی سے ہارنا بزدلی ہے۔ اس نے کہا: میرے بچے کئی روز کے بھوکے ہیں۔ میں نے کہا :زندگی بہت خوبصورت ہے۔ اس نے کہا: جب بھوکے بچوں کی چیخیں سماعتوں سے ٹکراتی رہیں تو زندگی بدصورت بن جاتی ہے۔ میں نے اسے کہا: دیکھو خودکشی حرام ہے۔ اس نے کہا: جب زندگی حرام ہوجائے تو خودکشی حلال ہوجاتی ہے اور وہ لٹک گئی..... تب مجھے مارکس کی کہاوت یاد آئی کہ جب پیٹ خالی ہو تو زندگی کا کوئی فلسفہ اثر نہیں کرتا....مستقبل کے حسین نغمے سنانے والے ہمیشہ شکم سیر معدے والے ہوتے ہیں اور بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر کر بھوکوں کو صبر کا درس دے کر پھراس اپنے روشن محل میں جاکر آرامدہ ہوجاتے ہیں، یہ در اصل اس سرمایہ دارنہ نظام کے ایجنٹ ہیں۔


ای پیپر