عمل در آمد جناب وزیر اعظم 
02 دسمبر 2018 2018-12-02

قلم کار تو اپنی جانب سے ہفتہ گزشتہ کے دوران سو روزہ کارکردگی پر لکھ کر فارغ ہو چکا تھا۔لیکن یہ بھول گیا تھا کہ ابھی عشق کے ان گنت امتحان اور بھی ہیں۔ ابھی سو روزہ پرفارمنس پرتقریب خصوصی باقی ہے۔ ابھی جناب وزیر اعظم عمران خان کا کلیدی خطاب ہونا ہے۔ یہ بھی یاد نہ رہا کہ جناب وزیر اعظم کی تقریر موضوع کے مطابق ہو نہ ہو اس میں ایسے نکات ضرور ہوتے ہیں جو اگلے کئی روز تک موضوع بحث بن جاتے ہیں۔ بالخصوص سوشل میڈیا فورمز پر لطیفے بنتے ہیں۔ جگتیں تخلیق ہوتی ہیں۔ جوابی دلائل گھڑے جاتے ہیں۔ ہم ایسوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے کہ نامہ سیاہ کی تیرگی حسن کیسے کہلاتی ہے۔ قرض،پیکج کیسے بن جاتا ہے۔پروٹوکول کس طرح سکیورٹی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ غیر ملکی دورے کس طرح وطن کی خدمت کیلئے ناگزیر ہو جاتے ہی۔ ہیلی کاپٹر کا سفر سستا اور کار کا سفر کس طرح مہنگا ہو جاتا ہے۔ وہ چیز نواز شریف کے ہاتھ میں ہو تو کشکول اور کپتان کے ہاتھ میں ہو تو قوم کی نجات کا نسخہ مجرب ہو جاتاہے۔ کس طرح مودی، واجپائی کی آمد سکیورٹی رسک اور سدھو کی آمد امن کی جانب پہلا قدم بن جاتا ہے۔ہر تقریب طالب علم کیلئے لرننگ کا نیا تجربہ ہوتا ہے۔ ارادہ تو یہی تھا کہ دفتر میں بیٹھ کر ٹی وی سکرین کے توسط سے تقریر سن لیں گے اور پھر مستقبل کے انقلابی پروگرام کے ثمرات سمیٹنے کیلئے تیاریاں کرینگے۔ لیکن وزارت اطلاعات والے کہاں چین سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ کسی کرم فرما حبیب دیرینہ کا فون موصول ہوا کہ تقریب میں شرکت ضروری ہے۔ لب و لہجہ ایساتھا کہ اگر بندہ مزدور تقریب میں شریک نہ ہوا تو کوئی تقصیر سرزد ہو جائے گی۔ اگر خدانخواستہ سو روزہ کارکردگی پر کوئی حرف آیا تو اس کا ذمہ دار بھی یہ قلم، کیمرہ کا مزدور ہو گا۔ سو بھاگم بھاگ پہنچا۔ باقی جو کچھ بھی تھاروٹین کے مطابق تھا۔ وہی سب جو ایسی تقاریب کا معمول ہوتا ہے۔ جذباتی کارکنوں کی نعرے بازی، بیوروکریسی کی حاکمان وقت کو حلفیہ یقین دہانیاں،سر جو کچھ ہورہا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ نہ آئندہ ہو گا۔ یہ یقین دہانی کے سر آپ کا دیا انقلابی پروگرام عصر حاضر کا انوکھا چارٹر ہے۔ جو بنی نوع انسان کی تقدیر بدل دیگا۔ معانقے،تعظیم،تنظیم، پروٹوکول۔ وزیر اعظم نے حسب معمول غیر روایتی خطاب کیا۔ وزیرا عظم کی تقریر میں خواہشات (Intentions) تو تھیں لیکن ان خواہشات کی تکمیل کیلئے جس مواد (Content) کی ضرورت تھی وہ نہ ملا۔ ان کی تقریر میں وعدے، ارادے تو تھے لیکن وہ پورے کیسے ہوں گے۔ ان کا روڈ میپ کیا ہو گا۔اس کیلئے شائد مزید ایک روز کا انتظار کرنا ہوگا۔ چلیں ہم تیار ہیں۔ جب ہمارا وزیراعظم کہتا ہے کہ گھبرائیں نہیں۔ بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیڈر کی ساکھ اتنی تو ہونی چاہیے کہ وہ جو کہے قوم اس پر ٹرسٹ کرے۔ وزیر اعظم کی تقریر میں وڑن تو تھا لیکن عمل در آمد کا راستہ فی الحال انہوں نے نہیں دکھایا۔ اس میں بھی ضرور مصلحت ہو گی۔ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کیلئے 26 ممالک سے مفاہمتی یاداشت کی خوش خبری اچھی بات ہے۔ ضرورت تو نہ تھی۔انتخابی مہم میں جوان راعنا مراد سعید نے تو یقین دلایا کہ آتے ہی دو سو ارب ہماری جیب میں ہوگا۔ مراد سعید بھی تقریب میں موجود تھے۔ اپنی روایتی بزدلی کی وجہ سے کئی بار آمنا سامنا ہوا۔ لیکن سوال نہ کر سکا۔ہمت ہی نہ ہوئی ناراض ہو گئے تو خوامخواہ راندہ درکار ٹھہرائے جائیں گے۔ مہنگائی، بے روزگاری کے اس پر آشوب دور میں جرات رندانہ عادات منفی میں شمار ہوتی ہیں۔ چار پانچ مرکزی نکات تھے۔ اس شاندار خطاب میں اگر کوئی ستم ظریف مرغیاں، انڈے، بچھڑے پالنے کے حوالے سے کسی مزاحیہ گفتگو کی توقع کھائے بیٹھا ہے تو اس کو مایوسی ہو گی۔ بنگلہ دیش کا گرامین بنک اورپاکستان میں اخوت فاؤنڈیشن ایسے ہی ڈیڑھ سو چھوٹے کاروباروں کیلئے نرخہ جات فراہم کرکے غربت کے بوجھ تلے سسکتے ہوئے عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لا چکا ہے۔ شکر گڑھ کا وہ مرد دانا چوہدری انورعزیز یاد آتا ہے۔ جو سیاست کی اکیڈمی ہے۔ بس ستم یہ ہوا کہ غلط دھرتی پر غلط وقت پر پیدا ہوا۔ لیکن بہرحال اتنا ضرور ہوا کہ آج تک اپنے حصے کی شمع جلائے بیٹھا ہے۔ کارنامہ یہ ہے کہ مخالفت کی تند و تیز آندھیوں سے اپنا چراغ بچایا ہوا ہے۔ اسی شہر خرابات میں بقا کوئی معمولی کنٹری بیوشن تو نہیں۔تر دماغ انور عزیز تحصیل شکر گڑھ کے لہلہاتے گاؤں، دیہات میں نکلا۔ گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے در آمد شدہ مصری نسل کی چار دیسی مرغیاں، ایک مرغ فی گھر تقسیم کیے۔ گلی میں کھڑے کھڑے مختصر سا لیکچر دیا۔اپنا کام کرکے نکل گئے۔ 2002 میں یو ایس ایڈ نے باقاعدہ معاہدہ کیا۔ راولپنڈی کے پولٹری انسٹی ٹیوٹ کورقم فراہم کی۔ اگلے سال بھینسے پال سکیم پرویز الٰہی نے شروع کی۔ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو تو بس یاد دلایا۔ منزل تک پہنچنے کیلئے بڑی بڑی چھلانگیں نہیں ایک ایک کر کے چھوٹے قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کی جانب بڑھتے ہوئے قدم کے طور پر ہاؤسنگ اتھارٹی کی تشکیل۔ ملک بھر میں 10ملین درختوں کی کاشت۔ لیکن ٹھہریئے معلوم نہیں کہ کے پی میں کتنے درخت لگے۔تعداد کی بحث نہیں۔لیکن ذرا نطر ثانی کرلیں۔ شنید ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں سفیدے لگا دیئے گئے۔ جو زیر زمین پانی چوس جائینگے۔ اب بھی وقت ہے کہ فیصلہ واپس لے لیا جائے۔ قومی نصاب کونسل کا قیام،صحت کارڈ کون کہے گا مثبت اقدام نہیں۔ ایف بی آر میں اصلاحات سب درست لیکن عمل در آمد جناب وزیر اعظم عمل درآمد۔ ورنہ کاغذوں پر سب منصوبے بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔ سب حکمرانوں کے خطاب خوش کن ہوا کرتے ہیں۔ ہم تو عوام ہیں۔ ہمارا کام تو آپ کے شاندار خطاب پر تالیاں بجاتے ہیں۔ لیکن ہم تو حالات دعوؤں کے بر عکس ہیں۔ 

جناب عالی، ڈالر 144 کی شرح کو پہنچ چکا۔ پیٹرول سو روپے کے قریب ہے۔ گیس کی قیمت اب زہریلی گیس کی طرح معلوم ہوتی ہے۔بجلی کی قیمت سن کر ہی بجلی کا جھٹکا لگتا ہے۔ مارکیٹوں میں کہرام ہے۔ گھروں میں افراتفری، کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ عوام میں خوف ہے۔ قرض 600 ارب ڈالر بڑھ گیا ہے۔ شرح سود میں اضافہ ہو چکا۔ سو نے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوچکا۔سٹیٹ بینک کہتا ہے کہ مہنگائی کی شرح 5.9 فیصد بڑھ گئی ہے۔ معیشت ابتری کا شکار۔ڈالر کی قیمت میں راتوں رات اضافہ غیر معمولی اور غیر فطری ہے۔ تحقیق کرا لیں کہیں کوئی ایسا تو نہیں جس نے چپ چاپ آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل در آمد شروع کر دیا ہو۔ سو دنوں کی پر فارمنس کسی حکومت کی کامیابی ناکامی پر کہنے کیلئے کافی نہیں ہوتی لیکن جناب وزیر اعظم ہمیں نئی منزلوں کے خواب دکھانے کا شکریہ۔ اس منزل تک پہنچنے کیلئے راستے کا انتظار رہے گا۔ 


ای پیپر