100دن : کٹے اور مرغی پال سکیم
02 دسمبر 2018 2018-12-02

تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی حکمرانی کے پہلے 100 دن مکمل کر لیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد فرمایا تھا کہ جو لوگ ان کی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو وہ 100 دن تک انتظار کریں البتہ جو لوگ تعریف کرنا چاہیں تو وہ ہر وقت یہ کام کر سکتے ہیں اس کے لیے 100 دنوں کے انتظار کی ضرورت نہیں ہے۔ 100 دنوں کی تکمیل پر تحریک انصاف نے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں میلا سجایا جس میں ایک بار پھر تقریروں کا شوق پورا کیا گیا۔ ان گنت تشکیل پانے والی ٹاسک فورسز اور کمیٹیوں کو حکومتی کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا۔ 

تحریک انصاف کی حکومت اور حامی دانشوروں کا یہ کہنا درست ہے کہ 100 دنوں کی بنیاد پر کسی حکومت کو کامیاب پانا کام قرار نہیں دیا جا سکتا مگر 100 دنوں کا سنگ میل تو حکومت نے خود ہی مقرر کیا اتھا اور نقادوں کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی دعوت دی تھی۔ اقتدار کے پہلے 100 دنوں میں اگر پوری کارکردگی سامنے نہیں آتی تو کم از کم حکومت کی ترجیحات ، ایجنڈا اور پالیسیاں بہت حد تک واضح ہو جاتی ہیں۔ ان ترجیحات اور پالیسیوں کی بنیاد پر یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ اگلے عرصے میں حکومت کیا کچھ کرنے والی ہے۔ حکومت کی پالیسیاں کس قسم کی ہوں گی اور ان کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ پہلے 100 دنوں کے اقدامات ، ترجیحات اور پالیسیوں کی سمت کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حکومت نے کس راستے کا چناؤ کیا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے خوش کن وعووں، نعروں اور اصلاحاتی ایجنڈے کا اعلان کیا تھا۔ اصلاحاتی ایجنڈے کو ہی حکومت نے پہلے 100 دنوں کے پروگرام کی بنیاد بنایا تھا۔ تحریک انصاف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے اور تبدیلی لانے کے لیے انتظامی ڈھانچے، عدالتی نظام، سول سروس ، پولیس اور معیشت میں اصلاحات نافذ کریں گے مگر پہلے 100 دنوں کی ترجیحات اور پالیسیوں کے نتیجے میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ حکومت کو بنیادی نوعیت کی سنجیدہ اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت جن اقدامات کو اصلاحات سمجھتی ہے وہ دراصل معمولی نوعیت کی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ ظاہری تزئین و آرائش ہے جس کا مقصد بدصورتی کو چھپانا ہے۔ حکومت نے سیاسی، معاشی اور انتظامی ڈھانچے میں سنجیدہ نوعیت کی بنیادی اصلاحات متعارف کروانے کی بجائے مصنوعی اور آرائشی اقدامات کا سہارا لیا ہے۔ پہلے 100 دنوں کی واحد نظر آنے والی تبدیلی یہ ہے کہ تمام بڑے سیاسی عہدوں پر براجمان چہرے بدل گئے ہیں۔ یوں چہروں کی واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے اور دیکھی جا سکتی ہے۔ مصنوعی اقدامات ، نعرے بازی، بڑھکیں اور سابقہ حکومتوں پر پراپرٹی کا ملبہ ڈالنا ہی پہلے 100 دنوں کی بڑی کامیابی ہے۔ 100 دنوں کی کارکردگی نے تحریک انصاف کی قابلیت، اہلیت، پہلے سے کی گئی تیاری اور ہوم ورک اور پالیسی سازی کے حوالے سے موجود ابہام کو پوری طرح عیاں کر دیا ہے۔ حکومت سنبھالنے سے پہلے تحریک انصاف نے اعلان کیا تھاکہ حکومت سنبھالتے ہی حکمرانی، فیڈریشن، معیشت اور سکیورٹی کے دیرینہ مسائل کو حل کرے گی اور ان مسائل پر تیز رفتاری سے کام ہو گا۔ اس منصوبے میں دیگر باتوں کے علاوہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام، قبائلی علاقوں کا KPK میں مکمل انضمام، بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا حل، پبلک سروس ڈلیوری میں بہتری ، معیشت کی بحالی اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات شامل تھیں۔ 

پہلے 100 دنوں میں تھانہ کلچر اور پولیس کے نظام میں تبدیلی کے لیے کوئی بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ 25 جولائی کے عام انتخابات کی مہم کے دوران ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ حکومت کے پہلے 100 دنوں کے دوران ہی جنوبی پنجاب صوبے کا قیام عمل میں آجائے گا مگر اب کوئی جنوبی پنجاب صوبے کی بات نہیں کر رہا۔ سب سے دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے چیمپئن اب وزارتوں اور حکومت کے مزدے اٹھا رہے ہیں اور اس تحریری معاہدے کے بارے میں بھول گئے ہیں جوکہ انہوں نے تحریک انصاف کے ساتھ کیا تھا۔ ابھی تک نئے صوبے کا معاملہ کمیٹیوں کی تشکیل کی حد تک ہی محدود ہے۔ 

حکمران طبقہ دو طرح کے حالات میں سنجیدہ نوعیت کی بنیادی اصلاحات متعارف کرواتا ہے۔ پہلی صورت میں اگر حکمران طبقہ یہ سمجھے کہ اپنے نظام کو بہتر طریقے سے چلانے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ اصلاحات حکمران اپنے مفادات کو مزید محفوظ بنانے اور اپنے نظام کو لوگوں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں حکمران طبقہ، محنت کش عوام اور درمیانے طبقے کی طرف سے پڑنے والے بے تحاشا دباؤ کے نتیجے میں اصلاحات متعارف کرواتا ہے۔ یہ اصلاحات محنت کش عوام اور درمیانے طبقے کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں اور انہیں وقتی طور پر ریلیف مل جاتا ہے۔ ایسا صرف اسی صورت میں ہوتا ہے کہ جب محنت کش ، کسان، طلباء نوجوان اور درمیانے طبقے کی ریڈیکل پرتیں سڑکوں پر نکلتی ہیں اور عوامی طاقت کے عظیم الشان اظہار کے ذریعے حکمرانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات اور پالیسیاں متعارف کروائیں جس کے نتیجے میں عوام کی زندگی میں بہتری آئے۔ پاکستان میں اس وقت دونوں حالتیں ہی موجود نہیں ہیں۔ اس لیے حکمرانوں پر سنجیدہ نوعیت کی اصلاحات کے لیے دباؤ موجود نہیں ہے۔ 

ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں ہونے والی ریڈیکل اصلاحات عوام کی عظیم الشان تحریک اور تحرک کے نتیجے میں پڑنے والے دباؤ کا نتیجہ تھیں۔ 

موجودہ صورت حال میں ایسا کوئی دباؤ موجود نہیں جس کے نتیجے میں حکمران ایسی اصلاحات متعارف کروانے پر مجبور ہو سکیں جو کہ موجودہ سسٹم میں ایسی تبدیلیاں برپا کر سکیں جس کے نتیجے میں عوام کی زندگیوں میں خوش گوار تبدیلی آ سکے۔ ایسی اصلاحات کے لیے حکومت کو مضبوط ارادہ اور سیاسی لگن کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مفاداتی گروہوں اور گروپوں کے مفادات کے خلاف اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں جو کہ سٹیٹس کو سے فائدہ اٹھانے والے ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت جاگیرداروں، ریاستی افسر شاہی، سرمایہ داروں، صنعت کاروں، قبائلی سرداروں اور دیگر بالادست قوتوں اور گروہوں کے خلاف ایسے اقدامات اٹھا سکتی ہے جن سے ان کے مفادات کو گزند پہنچے۔ میرے نزدیک تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت ان بالاددست طبقات اور گروہوں کے معاشی، سماجی اور سیاسی مفادات کے خلاف اقدامات لینے کی نہ تو خواہش رکھتی ہے اور نہ ہی وہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ایسا کر سکے۔ 

تحریک انصاف پاکستان کے بالادست حکمران طبقات کے مفادات کی ترجمانی کرتی ہے اور ان کی محافظ ہے جو کہ 71 سالوں سے اس نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت دائیں بازو کے نظریات رکھتی ہے اور سٹیٹس کو کی حامی ہے۔ اس لیے جہاں اصلاحات اور تبدیلی کی بات کرتی ہے تو اس سے مراد دراصل یہ ہوتی ہے کہ وہ حکمران طبقے کے وہ گروہ یا افراد جو مسلم لیگ (ن) یا پیپلزپارٹی کی حکومتوں میں حصہ دار نہیں تھے تو انہیں اقتدار میں حصہ ملے۔ دائیں بازو کی اصلاحات کے نتیجے میں ہمیشہ سٹیٹس کو طاقتور اور مضبوط ہوتا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں حکمران طبقہ مضبوط ہوتا ہے۔ 

تحریک انصاف جو کہ دائیں بازو کی پاپولسٹ جماعت ہے وہ جس قسم کی پالیسیاں، ترجیحات اور اقدامات اٹھائے گی اس سے پاکستان کے بالادست طبقات کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ غربت، افلاس، بیروزگاری ، استحصال، ظلم و جبر اور سماجی و معاشی نا انصافی اور طبقاتی تفریق کے شکار عوام کے لیے کٹے اور مرغی پال سکیمیں ہی بنیں گی۔ اگر مرغیاں پالنے سے غربت دور ہوتی ہو تو افریقہ کی دیہی آبادی میں غربت کب کی ختم ہو گئی ہوتی۔ 


ای پیپر