دیسی آنڈے....نیا”کٹا“ کھل گیا
02 دسمبر 2018 2018-12-02

گناہ گار:آج میں نے ایک مرغی چرائی ہے پادری صاحب!

پادری:انتہائی بری حرکت ہے اس کی پاداش میں تمہیں دوزخ میں جلنا پڑے گا۔

گناہ گار:”اجازت ہوتو میں وہ مرغی آپ کی خدمت میں پیش کردوں ؟“

پادری :”ہرگز نہیں، جس کی مرغی ہے اسے واپس کردو ورنہ ....“

گناہ گار:”لیکن اگر میں نے وہ مرغی اسے پیش کی ہو اور اس نے لینے سے انکار کردیا ہوتو ؟“

پادری:”تو ایسی صورت میں، جبکہ اس کی رضا شامل ہو، تب تو وہ مرغی تمہارے لیے جائز ہے۔“

گناہ گار:بے حد شکریہ پادری صاحب!خداحافظ ۔

اس مختصر مکالمے کے بعد جب پادری صاحب اپنے گھر پہنچے تو انہیں معلوم ہوا ان کی اپنی ایک مرغی غائب ہے“۔

عزیز قارئین! ہمیں مرغی اس لیے یاد آگئی ہے کہ اگلے روز پی ٹی آئی حکومت کے سوروز مکمل ہوئے تو وزیراعظم صاحب نے بہت ”نپی تلی “ تقریر کی اور قوم کو اگلے منصوبے بیان کیے۔ ہمیں بہت اچھا لگا تقریر اس قدردلچسپ اور شگفتہ تھی کہ حاضرین میں بیٹھے ہوئے حکومتی وزراءاور عمران خان کے رفقاءبھی محظوظ ہوتے رہے۔ ہماری اداس قوم کا وزیراعظم ایسا ہی ہونا چاہیے۔ کبھی کبھی دکھی قوم کی دلجوئی بھی کرنی چاہیے۔ عمران خان سے سوائے اپوزیشن کے ساری قوم محبت کرتی ہے وہ سادگی سے بعض اوقات ایسے واقعات بھی بیان کردیتے ہیں کہ آپ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کوئی اور شخص اپنی ”سادگی “ بیان کرکے خود پر نہیں ہنس سکتا ۔ مثلاً کون سا ایسا حکمران ہوگا جو ایسا اعتراف کرسکتا ہے جس سے اس کی سبکی کا پہلو نکلتا ہو۔ عمران نے مسکراتے ہوئے کہا کہ گھر میں ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے جب کوئی ”ظالم سین“ دیکھتا ہوں تو میں بیگم سے کہتا ہوں :”دیکھو کس قدر ظلم ہورہا ہے “ تو بیگم کہتی ہیں :”آپ خود وزیراعظم ہیں !“

یہ سن کر عمران خود بھی ہنسنے لگتے ہیں اور کہتے ہیں اصل میں بائیس برس اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے وہ عادی ہوگئے ہیں۔ اب تک بھول جاتے ہیں کہ وہ خود وزیراعظم ہیں۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

عمران خان کی تقریر میں ایسی کئی شگفتہ باتیں تھیں۔ مثلاً انہوں نے بھینس کا ذکر کیا بھینس کے کٹڑے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھینس کی بیٹی کو تو خوشی سے پال پوس کر گھر میں رکھ لیا جاتاہے تاکہ وہ بھینس بن کر دودھ دے لیکن ”کٹا“ بے چارہ مارا جاتا ہے اسے جوانی سے قبل ہی ذبح کر لیا جاتا ہے۔“ ہم کسانوں کو کٹا پالنے کے لیے بھی سکیم بنائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔

عمران اصل میں قوم کو ”کٹا پال، دیسی مرغی پال سکیمیں“ شروع کراکے انہیں کم پیسوں سے کاروبار کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں۔ ایک زمانے میں انگریز نے لوگوں میں گھوڑا پال مربع سکیم رائج کی تھی اچھی نسل کے گھوڑے یا گھوڑیاں پالنے کے لیے باقاعدہ زمینیں الاٹ کی گئی تھیں۔

مویشیپال سکیمیں کبھی خسارے میں نہیں جاتیں۔ عمران خان بھی سستے کاروباری منصوبوں کی ترغیب دے رہے ہیں۔ وہ دیسی مرغیاں بھی پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے برائلر کی بات نہیں کی۔ دیسی مرغیوں کے کاروبار کی بات کی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ برائلر کھانے سے کینسر کی بیماریوں کی باتیں بھی ہونے لگی ہیں۔ پھر سردیاں بھی آگئی ہیں، دیسی انڈوں کی طلب میں اضافہ ہونے والا ہے۔ وہ نوجوانوں کو دیسی انڈے اور دیسی مرغیاں پالنے کا مشورہ اس لیے بھی دے رہے تھے کہ اس پر زیادہ رقم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کاش ہماری سست اور کاہل قوم ان مشوروں کو ہنسی میں اڑانے کے بجائے غوروفکر کرے۔ بعض اوقات ہنسی ہنسی میں کام کی باتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ مگر ہماری قوم تو اس لطیفے والے سست بچے کی طرح ہے جس کا باپ اسے سمجھا رہا تھا :

”میں تمہارے لیے ایسا انتظام کروں گا کہ تم بٹن دباﺅ گے تو ہر چیز تمہارے سامنے آجائے گی۔ بٹن دباﺅ گے تو کھانا آجائے گا ، بٹن دباﺅ گے، کپڑے جوتے آجائیں گے، بٹن دباﺅ گے باتھ روم آجائے گا :“

سست اور کاہل بیٹے نے کہا لیکن ابا جی !یہ بٹن کون دبائے گا ؟“

عزیز قارئین! ہم عوام بھی کسی حدتک کاہلی کا شکار ہیں۔ ہربات کے لیے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں۔ بعض باتیں لوگوں کے کرنی ہوتی ہیں۔ یہ درست ہے سودنوں میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا ۔اپوزیشن چیخ چیخ کر عام آدمی کی اجیرن زندگی کی باتیں کررہی ہے مگر اس سے قبل یہی اپوزیشن پارٹیاں حکومتوں میں رہی ہیں انہوں نے عام آدمی کے لیے کیا اقدامات کیے؟؟ سودن میں کچھ نہ کچھ حکومتی پالیسیاں سامنے ضرور آئی ہیں۔ اگر سابقہ حکومت خزانے میں ”جھاڑو“ پھیر کر نہ جاتی تو موجودہ حکومت کو یہ طعنے نہ سننا پڑتے کہ مہنگائی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوتے جائیں گے۔ ہمارے ہاں قوانین تو موجود تھے ان پر عمل نہیں ہورہا تھا، تجاوزات کے خاتمے کے لیے کئی بار کوششیں کی گئیں۔ ملاوٹ اور جعلی خوراک وادویات کے لیے چھاپے مارے جاتے رہے مگر اثرورسوخ والوں کو معافی ملتی رہی۔ اب کراچی سے پشاور تک بغیر کسی سفارش آڑے آنے کے ، تجاوزات کا خاتمہ ہورہا ہے۔ جعلی بینک اکاﺅنٹس کا خاتمہ ہورہا ہے۔ قبضہ مافیا سے سرکاری زمینیں چھڑائی جارہی ہیں۔

کرتار پور بارڈر کھول کر بھارت کو سفارتی سطح پر مات دے دی گئی ہے۔ ٹرمپ کو آج تک کسی وزیراعظم نے جواب نہیں دیا، موجودہ وزیراعظم نے امریکہ کو آئینہ دکھادیا ہے۔ کرپٹ لوگ کٹہرے میں ہیں۔ کچھ کوتاہیاں بھی ہوں گی مگر عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا وہ کسی احساس کمتری کا شکار نہیں۔ وہ پشاوری چپل اور شلوار قمیص میں بڑے بڑے ملکی سربراہوں سے ملنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ مہنگی گھڑیاں، ٹائیاں، سوٹ اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ زلزلہ آیا تو وہ کابینہ کے اجلاس میں تھا سبھی اٹھنے لگے مگر اس نے کہا باہر جانے سے کیا ہوگا؟ بیٹھ جاﺅ۔ سب بیٹھ گئے۔

اسی طرح وہ کسی کو کرپشن بھی نہیں کرنے دے گا کیونکہ وہ خود کرپٹ نہیں۔ اس کے ساتھیوں کو بھی کرپشن کا سوچتے حیا ضرور آئے گی۔ عوام بھی بالآخر قوانین پر عمل کرنا شروع کردیں گے آخر کو ہمیں درست ہونا پڑے گا۔ جب سب لوگ ٹریفک اشارے کی پابندی کریں گے تو ٹریفک میں بہتری ضرور آئے گی۔ آپ کو کچھ وقت تو دینا ہی پڑے گا سو دنوں کو لے کر باتیں کرنے والے اپوزیشن رہنما یا تجزیہ نگار حکومت کو اپنا دورانیہ مکمل کرنے دیں پھر بھلے تنقید کریں۔ فی الحال بے آسرا غریبوں کو پناہ گاہوں میں دیکھ کر کچھ داد تو دیں۔ ہاں بلاتبصرہ یہ بھی سن لیں:

”ایک عورت نے گھریلوجھگڑے میں اپنے شوہر سے کہا :

”مجھ سے زیادہ تم اپنے کتے سے محبت کرتے ہو

شوہر نے جواب دیا : کیوں نہ کروں تمہارے مقابلے میں وہ مجھ پر کم بھونکتا ہے۔“


ای پیپر