عام آدمی کی تلاش
02 دسمبر 2018 2018-12-02

لطیفہ ہے کہ ڈالر مہنگا ہونے پر ایک صحافی نے پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت سے اس کے عام آدمی پر اثرات بارے پوچھا، جواب آیا، عام آدمی کو اس سے کیا غرض، فر ق تو امریکیوں کو پڑے گا جن کی یہ کرنسی ہے، سنا ہے کہ وہ کامرس رپورٹر اس تشریح کے بعد ابھی تک بے ہوش پڑا ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر کی وہ پریس کانفرنس سنی جس میں وہ ڈالر مہنگا ہونے کے فضائل بیان کر رہے تھے تو مجھے گل نوخیز اختر کا مہنگائی کے حق میں لکھا ہوا کالم یاد آ گیا، گل نوخیز اختر بھی عجیب ہے ، کہتا ہے کہ وہ مزاح نگار ہے اور غیر سیاسی کالم لکھتا ہے مگرنجانے کیوں اس کے مزاحیہ کالم او ر موجودہ وزراءکے بیانات ایک جیسے پرلطف ہوتے ہیں۔مجھے تسلیم کرنا ہے کہ مہنگائی ہونے سے بہت فائدہ ہوتا ہے کہ لوگ فضول خرچی سے باز آتے ہیں، مرغن کھانوں سے اجتناب کرتے ہیں، پیدل چلتے ہیں اور دوسری شادی کے بارے میںسوچتے تک نہیں۔ مدینہ کی ریاست میں ڈالر کے مہنگے ہونے سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ حج اور عمرہ مہنگا ہو گیا ہے اور جب آپ مکے، مدینے کے کرائے ، رہائش اور کھانے پینے میں ہزاروں روپے زیادہ ادا کریں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کو ہر اضافی روپے میں ہر پیسے کے بدلے اضافی نیکیاں ملیں گی، بھلا ثواب میں اس اضافے کے بارے کسی نے سوچا ہے؟

اس عام آدمی کی تلاش ہے جو آج بھی مرغیاںپال کر اورانڈے بیچ کے گزارا کرتا ہے ،امپورٹ کئے ہوئے پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے بجائے سفرکیلئے بھینس کے اس بچے کا انتخاب کرتا ہے جسے دیہات میںکٹا کہتے ہیں یقینی طور پریہی وہ آدمی ہے جو ڈالر کے مہنگے ہونے سے متاثر نہیں ہو گا مگراس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جسم پر پتے باندھتا ہو کیونکہ ڈالر مہنگا ہونے سے کپڑا بھی مہنگا ہوجاتا ہے۔ اینگرو فیم جناب اسد عمر نے بتایا کہ مفرور و مشکوک اسحاق ڈار نے انتہائی کرپشن اور نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر کنٹرول میں رکھا جو ایک معاشی اور اقتصادی جرم تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ دنیابھر میں دونوں نظرئیے موجود ہیں کہ اگر مقامی کرنسی کی قیمت کو گرایا جائے تواس کے نتیجے میں برآمدات سے وصولی بڑھ جاتی ہے اور ایکسپورٹر کے ساتھ ساتھ ملکی خزانے کو بھی فائدہ ہوتا ہے ، میں نے پوچھا کہ دنیا بھر میں کون سی معیشت بہتر سمجھی جاتی ہے جو اپنی کرنسی کو مستحکم رکھتی ہے یا اس کی قیمت گراتی ہے، جواب ملا جو اپنی کرنسی کو مستحکم رکھتی ہے۔ایک دلیل تھی کہ چین اور جاپان کی کرنسی بھی ڈی ویلیو ہے، میرا سوال تھا کہ کیا ہم روپے کی قیمت کم کر کے اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتے ہیں تو جواب تھا ، نہیں، ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وجہ سے نہیں بیٹھی کہ روپے کی قیمت مستحکم رہی بلکہ اس کے یونٹس بند ہونے کی وجوہات مشرف اور زرداری ادوار میں امن وامان کی فضا انتہائی ناگفتہ بہ رہنا اور توانائی کے شدید بحران رہے۔ ہماری ٹیکسٹائل کی انڈسٹری اس وجہ سے بیٹھ گئی کہ ہم لاگت اور قیمت میں چین، بنگلہ دیش اور انڈیا سمیت تمام دوسرے ممالک کا مقابلہ کرنے کے اہل ہی نہیں رہے۔ بیرونی سرمایہ کاری تو ایک طرف رہی ہمارے اپنے سرمایہ دار اپنا سرمایہ باہر لے گئے۔

ملکی معیشت کو اس وقت آئی ایم ایف سے ٹیکا لگوانے کی تیاری ہو رہی ہے اور حکومت ظاہر کرنا چاہتی ہے اس نے عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کو مانے بغیر ہی قرضہ حاصل کر لیا۔ آئی ایم ایف کی تین بڑی شرائط ہیںپہلی یہ کہ نواز شریف دور میں کم کی گئی شرح سود کو دوبارہ ڈبل ڈیجٹ پر لایا جائے اور یہ کام اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے گزشتہ روز کر دیا ہے ۔ سٹیٹ بنک کی شرح دس سودفیصد ہو گئی ہے یعنی کمرشل بنک بڑے قرضے تیرہ فیصد اور چھوٹے قرضے اٹھارہ فیصدتک پر دیں گے اور یقینی طور پر اس سے بھی عام آدمی متاثر نہیںہوگا جو انڈے بیچتا اور کٹے پالتا ہے۔ دوسری شرط ڈالر کی قیمت کو ڈیڑھ سو روپوں تک لانا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت ڈالر کی قیمت بڑھنے پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کے بجائے اس کے فضائل بیان کر رہی ہے، امکان ہے کہ یہ قیمت ایک سو چالیس روپوں سے اوپر ایک سوپچاس روپوں کے قریب پہنچا ئی جائے گی۔ تیسری شرط بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی ہے اور یہ شرط بھی باقاعدہ مذاکرات سے پہلے پوری کر دی گئی ہے ۔ اب کہا جائے گا کہ آئی ایم ایف سے قرض بغیر کسی شرط کے مانے لے لیا گیا ہے جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے یاد رہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں سے بھی عام آدمی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

وزیراعظم عام آدمی کو انڈوں اور کٹوں کے ذریعے غربت سے باہر نکالنا چاہتے ہیں اوراس کے لئے انہوں نے دو برس پہلے کا بل گیٹس کا ایک ٹوئیٹ بھی شئیر کر دیا ہے جس میں انہوں نے اپنی فاو¿نڈیشن کا بیفر انٹرنیشنل سے اشتراک کا اعلان کیا تھا جو دنیا بھر میں غریب خاندانوں کو لائیو سٹاک بطور عطیہ دیتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا سارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ان کی سوچ سوشل میڈیا اوراین جی اوز سے دائیں بائیں نہیں ہوتی۔ دنیا بھر میں این جی اوز اور حکومتوں کے کام کرنے کے طریق کار، مسائل اور سکوپ سب مختلف ہیں۔ حکومتیں این جی اوز کو معاون اور رفیق کار تو بناتی ہیں مگر کبھی انہیں فالو نہیں کرتیں۔ کیا عمران خان صاحب بتانا پسند کریں گے کہ کیا بل گیٹس نے کامیابی مرغیوں اور انڈوں کے ذریعے حاصل کی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے، میں نے گزشتہ روز انارکلی بازار میں اپنا پروگرام ریکارڈ کیا اور بلاشبہ آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ سینکڑوں دکانداروں سے گفتگو کی ۔ اس وقت صنعتکاروں اور تاجروں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے اور وزیراعظم بیرون ملک دوروں میں پاکستان کی منفی تصویر پیش کر کے سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید محدود کر رہے ہیں۔ ایک وزیراعظم کا وژن لائیو سٹاک کی کسی غیر اہم وزارت کے انچارج سے کہیں بڑا اور وسیع ہونا چاہئے۔ عام آدمی کی طرف آگے بڑھتے ہیںیہ وہ عام آدمی ہے جس کا فریج اور ٹی وی وغیرہ سے بھی سروکار نہیںہے اور کٹے پالنے کی وجہ سے یہ کسی قسم کی ٹرانسپورٹ بھی استعمال نہیں کرتا۔ اس کے بچوں کو ڈاکٹر وہ دودھ بھی لکھ کر نہیں دیتے جو امپورٹڈ ہوتے ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ عام آدمی برانڈڈ تو ایک طرف رہے لنڈے کے کپڑے بھی نہیں پہنتا کیونکہ لنڈا بھی برا ہ راست ڈالر کی قیمت سے جڑا ہوا ہے۔جب لنڈے کے کپڑوں کی لاٹ بیرون ملک سے سے آتی ہے تو اس کی ادائیگی ڈالروں اور پاو¿نڈز میں ہی ہوتی ہے۔ یہ وہ عام آدمی ہے جو درآمد شدہ کوئلے اور ایل این جی سے بنی بجلی بھی استعمال نہیں کرتا۔ آئیے مل کر اس عام آدمی کو تلاش کرتے ہیں جو مرغیاں پال کر اور انڈے بیچ کرامیر ہوجائے اور رہ گیا تیزی سے مہنگا ہوتا ڈالر اور قرضوںپر بڑھتی ہوئی شرح سود تو وہ اس عام آدمی کا مسئلہ نہ ہو ، مجھے یقین ہے کہ اس کا بسیر ا کسی درخت کی شاخ پر ہو گا۔


ای پیپر