لاہور ٹریفک مینجمنٹ میں 51 پوائنٹ کا اضافہ
02 اگست 2019 2019-08-02

کسی بھی شہر میں سڑکوں پر ہونے والی آمد و رفت کو دیکھ کر آپ اس شہر کے لوگوں کی زندگی میں پائے جانے والے ڈسپلن کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ ڈسپلن فطری چیز ہے مگر اس کی کمی ہو تو عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطر اس کو قوانین اور ضابطوں کے ذریعے قائم رکھنا ایک ناگزیر معاشرتی ضرورت ہے۔ راہداری یا راستے کا حق انسانی حقوق کے زمرے میں آتا ہے اور راستوں کو محفوظ اور آسان بنانا بھی ریاست کی ذمہ داری میں آتا ہے۔ آپ نے کامن سینس کا لفظ سنا ہو گا مغربی ممالک میں ٹریفک قوانین پر رضا کارانہ عمل کرنے کو Road sense کہا جاتا ہے اور اس کا فقدان ایک منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جو شہری ریڈ سگنل جمپ کرتا ہے اس کے بارے میں فرضی کر لیا جاتا ہے کہ اس کے اندر مجرمانہ سوچ پائی جاتی ہے جو موقع ملنے پر بڑے جرائم کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ضمنی وجوہات بھی ہوتی ہیں مثلاً نفسیاتی طور پر حکومت سے ناراض شہری اتھارٹی کو چیلنج کر کے اپنی زخمی انا کی تسکین کا سامان کر لیتا ہے۔ وہ روٹی اور پٹرول کی قیمت میں اضافے کا غصہ بھی ٹریفک سسٹم سے بغاوت کر کے کم کرنا چاہتا ہے اور ناقص سیوریج کی وجہ سے پانی میں ڈوبی سڑکوں پر سفر کرنے پر مجبور ہونے کو بھی ٹریفک پولیس کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے یہ ایک لامتناہی بحث ہے کہ لوگ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کیوں کرتے ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ ایک بین الاقوامی سروے کے بعد 2019ء کی ورلڈ ٹریفک انڈیکس رپورٹ کے مطابق دنیا کے 206 بڑے شہروں کی ٹریفک مینجمنٹ میں لاہور کا 82 واں نمبر ہے گویا اس سے پہلے فہرست میں 81 ممالک ایسے ہیں جن کا ٹریفک نظام لاہور کے مقابلے میں ناقص ہے۔ لاہور ٹریفک پولیس کے لئے اعزاز کی بات یہ ہے کہ ایک سال قبل یعنی 2018ء میں لاہور کا اس فہرست میں 31 واں نمبر تھا اس رپورٹ میں سب سے ناقص مینجمنٹ کو پہلا نمبر دیا گیا ہے جیسے جیسے نمبر بڑھتا جاتا ہے سمجھیں کہ کارکردگی گزشتہ شہروں سے بہتر قرار دی جاتی ہے یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ اس فہرست میں سری لنکا کا شہر کولمبو کا پہلا نمبر ہے دوسرا نمبر بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کا ہے تیسرے نمبر پر انڈیا کا شہر کلکتہ ہے جبکہ چوتھا نمبر امریکی شہر لاس اینجلس کا ہے گویا لاہور نے ان چاروں سمیت 81 شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس کا کریڈٹ لاہور ٹریفک پولیس کو جاتا ہے جس نے اس Ratingکو 31 سے اٹھا کر 82 تک پہنچا دیا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لاہور میں ٹریفک نظام میں بتدریج بہتری آ رہی ہے جس کی وجہ سے ماضی کی گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور ان سے ہونے والا پٹرول اور ڈیزل کا ضیاع اور کئی کئی گھنٹے ورکنگ ٹائم کی بربادی ایک معمول تھا۔ یہ محض لاہور یا پاکستان کی بات نہیں ہے امریکہ میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق ہر امریکی ایک سال میں مجموعی طور پر ایک ہفتہ ٹریفک میں گزارتا ہے جس سے ملکی معیشت کو 160 بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور 940 ملین ڈالر کا پٹرول ضائع ہوتا ہے۔

ورلڈ ٹریفک انڈیکس رپورٹ 2019 ء میں لاہور کے ٹریفک نظام میں بہتری کے اثرات اور اسباب کا جائزہ لیا یگا ہے جس کے مطابق ایک جگہ سے دوسرے جگہ جانے کے لیے ٹریولنگ ٹائم میں کمی آئی ہے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں اضافہ ہوا ہے پبلک کو محفوظ سفرس ے متعلق آگاہی ہوئی ہے اور حادثات کی شرح خصوصاً ہیڈ انجریز میں 83 فیصد کمی آئی ہے جس کی وجہ ہیلمٹ پہننے کو یقینی بنانا ہے۔

اس عمدہ کارکردگی پر چیف ٹریفک آفیسر لاہور ایس ایس پی کیپٹن لیاقت علی ملک اور ان کی پوری فورس کو کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہے جن کی شب و روز کی کوشش سے لاہور کا ٹریفک نظام پاکستان کے دیگر تمام شہروں کے مقابلے میں پہلے نمبر پر ہے۔ کیپٹن لیاقت علی ملک کے مطابق ہماری اس سال کی رینکنگ میں بہتری کی وجہ ادارہ جاتی اصلاحات پٹرولنگ کا مؤثر نظام۔ مانیٹرنگ، سیف سٹی کیمرہ کی مدد سے نگہداشت ، تجاوزات کے خلاف اقدامات، ون وے ٹریفک پر سختی سے عمل درآمد، غلط پارکنگ کا سدباب، لائسنس کے اجزاء میں شفافیت، چالان سسٹم میں میرٹ اور ٹرانسپیرنسی اور جوابدہی کا منظم نظام شامل ہیں۔

یہ ایک معروضی حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ٹریفک نظام عوام کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا کیونکہ ہر گلی کوچے میں ٹریفک پولیس مین کو تعینات کرنا امریکہ میں بھی ناممکن ہے مگر وہاں رات کے 12بجے سنسان سڑکوں پر بھی ڈرائیور ریڈ سگنل پر گاڑی روک کر اس کے گرین ہونے کا انتظار کرتا ہے کیوں کہ انسانی جان وقت سے زیادہ قیمتی ہے۔ ناکامی روڈ انفراسٹرکچر، پارکنگ پلازوں کی قلت، آئے دن احتجاجی ریلیوں کا انعقاد ، تیز رفتاریPoor driving habits کی وجہ سے ٹریفک مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے معاشرے میں پائے جانے والے عدم برداشت کی عکاستی ہوتی ہے تحمل برداشت اور دوسرے کے حق کا خیال کرنے والے معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔

لاہور کے ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو باقی شہروں میں Replicate کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کو دیگر بڑے شہروں میں بطور ماڈل اپنایا جا سکتا ہے۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانا ایک ریاستی ذمہ داری بلکہ مجبوری ہے اس میں پولیس کا کردار سب سے آخر میں آتا ہے۔ سکول کی سطح پر بچوں میں سماجی ذمہ داریوں کے باب میں ٹریفک قوانین کی پابندی لکھائی جانی چاہیے تا کہ ہماری آنے والی نسل ایک civilsed معاشرے کی صورت نظر آئے۔ یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ صحتمند اور مثالی معاشرے کے قیام کے لیے ہمیں پولیس کی نفری میں اضافے کی بجائے اپنے تعلیمی نظام پر توجہ دینا ہو گی جو سماجی ذمہ داری اور احتساب یا جوابدہی کے اصولوں پر استوار ہے۔


ای پیپر