پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہـ۔۔!
02 اگست 2019 2019-08-02

وزیر اعظم جناب عمران خان کی منظوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جس کے تحت پٹرول 5.15روپے فی لٹر ، ڈیزل 5.65 روپے فی لٹر اور مٹی کا تیل 5.38 روپے فی لٹر مہنگا ہو گیا ہے ۔ پٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لٹر، ڈیزل کی نئی قیمت 132.47 روپے فی لٹر اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 103.84 روپے فی لٹر ہو گئی ہے۔ 8 روپے 90 پیسے فی لٹر اضافے کے بعد لائٹ ڈیزل کی قیمت 90.52روپے فی لٹر ہو چکی ہے۔ یکم اگست رات بارہ بجے سے ان قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے۔ دریں اثنا اوگرا کی سفارش پر ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی قیمت میں بھی 19 روپے 11پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے 11.5کلو گرام کے سلنڈر کی قیمت 1330 روپے سے بڑھ کر 1350روپے ہو چکی ہے۔ ہمارے ہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں تاہم اس کے لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا جواز ہونا بہر کیف ضروری ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پچھلے ایک آدھ ماہ یا ڈیڈھ دو ماہ میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ ہوا ہے یا نہیں۔ یقینا اس دوران خام تیل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا نہ ہی پاکستان میں خام تیل کی پیداوار میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ پاکستان کی ریفائنریاں بھی چل رہی ہیں۔ سعودی عرب سے اُدھار ملنے والے خام تیل کا جہاز بھی پچھلے دونوں پاکستان پہنچا ہے اس کے باوجود پٹرولیم مصنوعات پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں فی لٹر 5 روپے سے زیادہ اضافے اور لائیٹ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے کے لگ بھگ اضافے کا کوئی جواز نظر نہیں آتا۔

یہ کون نہیں جانتا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اور بہت ساری چیزوں کی قیمتوں اور اخراجات میں اضافہ ہو جا تا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں ۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ کے آنے جانے کے لیے زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ لوکل ٹرانسپورٹ اور بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹوں پر چلنے والی گاڑیوں کے مالکان پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر کرایوں میں من مانے اضافے کر دیتے ہیں جن کا بوجھ عام آدمی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پنڈی 22 نمبر چونگی سے میرے گاوں (یہاں سے تقریباً 33،34 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے) تک چلنے والی ویگنیں چند ماہ قبل تک 40 روپے کرایہ لیتی تھیں۔ اب کچھ دن قبل تک 60روپے فی سواری کرایہ وصول کر رہی تھیں۔ شاید اب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 60 روپے کرایہ میں بھی اضافہ کر دیا ہو۔ پنڈی پیر ودھائی موڑ سے ہری پور کے لیے کرایہ 120روپے تھا۔ عید الفطر کے لگ بھگ اسے 160روپے کر دیا گیا۔ دو تین ہفتے قبل میں نے ٹکٹ خریدا اور 160روپے دیئے تو ٹکٹ بابو نے کہا کہ 10 روپے اور دیں ۔ اب یکم اگست سے پٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافے کے بعد ویگن والوں نے یقینا کرایوں میں اضافہ کر دیا ہوگا۔ ذاتی معلومات پر مبنی یہ مثالیں پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے ایک سال سے بھی کم دورِ حکومت میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 40فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کے کرایوں پر ہی نہیں پڑتا اس سے مال برداری اور اشیاء کے ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے لیے استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ ٹرالرز ، ٹرکوں ، مزدا اور چھوٹی گاڑیوں کے کرایوں میں بھی اضافہ سامنے آتا ہے۔ اس کا لامحالہ نتیجہ اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کاش اربابِ حکومت کو ان باتوں کا احساس ہو اور جنابِ وزیرِ اعظم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کی منظوری دینے سے قبل یہ سوچنے کی زحمت گوارا کر لیتے کہ وہ اپنی حکومت کے دس گیارہ ماہ کے عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی کتنی بار منظوری دے چکے ہیں اور ان قیمتوں کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ میں پورے یقین سے تو یہ نہیں کہ سکتا کہ تحریک انصاف کے دس گیارہ ماہ کے حکومتی عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہو چکا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ 40 روپے فی لٹر کے لگ بھگ یا تھوڑا بہت کم اضافہ ضرور ہو چکا ہے تاہم یہ بات میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ پٹرول کے 117.23روپے فی لٹر نرخ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دنوں کے ادوارِ حکومت کے مقا بلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو 2013 میں حکومت ملی تو پٹرول 108 روپے فی لٹر اور ڈیزل تقریباً110 روپے فی لٹر تھا۔ مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت میں ستمبر 2014 میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا اور مارچ 2016تک تقریباً 18 ماہ کے عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بحیثیت مجموعی اوسطاً 47فی صد کمی ہوئی جس کے نیتجے میں مارچ 2016 میں پٹرول کی فی لٹر قیمت62.77 روپے فی لٹر ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 71.12 روپے فی لٹر ، لائیٹ ڈیزل کی قیمت 37.97 روپے فی لٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت 43.25 روپے فی لٹر پر آن پہنچی۔ یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی تھی جس کی مثال نہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں ملتی ہے اور نہ ہی موجودہ حکومت کے دور میں ملتی ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں پچھلے چند ماہ میں عالمی منڈی میں اضافہ نہ ہونے کے معاملے کی مزید وضاحت کے لیے میں سیئنر صحافی، نامور کالم نگار اور اینکر پرسن محترم نُصرت جاوید کے یکم اگست کو ایک قومی معاصر میں چھپنے والے کالم کا حوالہ دوں گا۔ (یہ کالم 31جولائی کی صبح کو لکھا گیااس وقت تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کانوٹیفیکیشن سامنے نہیں آیا تھا)۔جناب نُصرت جاوید لکھتے ہیں ـ"تیل کی قیمت کے ضمن میں اگرچہ سینہ پھُلا کر وعدہ ہوا کہ اگر عالمی منڈی میں اس کے نرخ کم ہوئے تو پاکستانی صارفین اسے شیئرکرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اوگرا نے تیل اور ڈیزل کی قیمت بڑھانے کے لیے جو سمری تیار کی ہے اس کا جو حصہ اخباروں میں چھپا ہے اس میں ان وجوہات کا ذکر نہیں جن کی بناء پر نرخ بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ وجوہات سے لاعلم ہوتے ہوئے مجھ جیسا عام آدمی فقط عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے رجحان کو نگاہ میں رکھنے کو مجبور ہوا۔ وہاں سے غیر معمولی اضافے کی خبر نہیں آئی۔ کئی مہینوں سے بلکہ یہ نرخ ایک مناسب سطح پر جامد ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہ سوال اُٹھانا لہٰذا واجب تھا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں اضافہ نہیں ہوا تو اوگرا نے پٹرول اور ڈیزل کی فی لٹر قیمت کم از کم 5 روپے بڑھانے کی تجویز کیوں دی ہے؟"۔


ای پیپر