نصابی کتابوں میں غیر اسلامی تبدیلیاں
02 اگست 2019 2019-08-02

جب تحریک انصاف کی 2013 سے2018 تک خیبر پختون خوا میں جماعت اسلامی کے ساتھ مخلو ط حکومت تھی تو پی ٹی آئی کی حکومت نے سکولوں کے کتابوں میں مذہبی اور اسلامی اسباق اور مو ضوعات تبدیل کرکے اس میں ایسی تبدیلیاں لائیں جو ہمارے مذہب اسلامی اقدار اور شعائر کے خلاف تھیں کیا میں پوچھ سکتاہوں کہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ غیر اسلامی تبدیلیاں بچوں کے کتابوں میں ٹھیک کی ہیں۔ دوسرے مذاہب کے لوگ ہمارے دین کی پیر وی کر رہے ہیں اور اسلام کو تیزی سے قبول کر رہے ہیں مگر ہمارے حکمران اسلام سے ڈرتے ہیں ۔پتہ نہیں انکو ڈر کس بات کا ہے۔ دنیا میں اسلام کی شرح نمو میں 21فی صد اضا فہ ہوا۔ اس کے بر عکس عیسائیت میں 33 فی صد ،یہو دیت میں 4 فی صد تک کمی واقع ہوئی۔اسلام آشتی کا دین ہے۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو کسی جاندار کے لئے تکلیف دہ ہو۔اور ہمارے حکمرانو کو اس سے کوئی خطرہ ہو۔ آج کل معاشرے میں جو بگاڑ ہے وہ اسلام سے دوری سے ہے۔ خیبر پختون خوا کے ٹیکسٹ بورڈ نے سرکاری سکولوں میںجماعت اول سے لیکر آٹھویں جماعت تک کتابوں سے دین اسلام، انبیائے کرام ، قُر آنی سورتیں اور آیات ، احادیث، خلفائے راشدین ، صحابہ کرام، مشاہیر اسلام وپاکستان. بانی پاکستان محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے اسباق کاٹ کر کتابوں میں ایسے اسباق شامل کئے جس سے ایک بچے کے کردار سازی نہیں ہو سکتی۔ ایک طرف اگربچوں کے کردار بگا ڑنے میںانٹر نیٹ، کیبل اور موبائیل فون کردار ادا کررہا ہے تو دوسری طرف ٹیکسٹ بک والے بھیــ کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔بچوں کے سکول کے ٹیچرز اور تعلیمی سلیبس رول ماڈل ہوتا ہے مگر وہ اس سلیبس سے کیا سیکھیں گے اور ٹیچر اُسکو کیا پڑھائیں گے۔ علاوہ ازیں دسویں جماعت کی پاکستان سٹڈی کی کتاب کے ٹائیٹل صفحے پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو متنا زعہ علاقہ دکھایا گیا ہے۔ ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ ایک بچے کی کردار سازی میں پہلے 5سے10 سال اہم ہیں ۔اس عرصے میں وہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اسکی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ ماضی میں خیبر پختون خوا حکومت کی منفی پالیسی کی وجہ سے پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے 13 ہزار سکولوں نے گورنمنٹ ٹیکسٹ بو رڈ کے کتابوں کو اپنے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانے سے انکار کیا تھا ۔ اور مطالبہ کیا تھا کہ جماعت اول سے لیکر جماعت ہشتم تک نصاب کی کتابوںسے ـــــجو اسباق نکالے گئے ہیں اُنکو دبارہ بحال کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ ٹیکسٹ بک بو رڈ کس کا ایجنڈا پورا کررہا تھا اور کس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اور تحریک انصاف کی حکومت اور انکا وزیر تعلیم کیا کررہا تھا۔ پی ٹی آئی کے سابق دور میںصوابی اور انکے مضافاتی علاقوں میں بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے تھے جس پر عمران خان اور اسد قیصر کے قد آور تصاویر لگائی گئی تھیں جس میں کہا گیا تھاکہ خیبر پختو ن خوا کے سکول اور کالج کے نصاب میں کئی اسلامی مضامین اور ختم نبوتؐ شامل کئے گئے ۔ اگر ہم جماعت اول کی اُر دو کی سابقہ کتاب اور اُر دو کی تعلیمی سال 2016-17 کی کتاب کا تقابلی جائزہ لیں۔ پرانی کتاب میں ـ"آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا لکھا گیا تھا"۔ جبکہ 2016-17کی کتاب میں " آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"، حذف کیا گیا تھا اس کتاب میںکچھ اسباق مثلاً" قُر آن" ،"ایک ہے نام اللہ کا"،"نماز پڑھو "کے عنوان سے نظم حذف کئے گئے تھے۔ اس طرح کلاس دوئم کی پُرانی کتاب سے کچھ اسباق مثلاً "ہمارے پیارے نبیؐ کی پیاری باتیں"،"حضرت ابو بکر صدیقؓ"،"ہمارے قائد اور پاکستان"، "حج کا سفر"، "حضرت عمر فا روق " اور " دعا" کی جگہ سال 2016-17 کے نصاب کی نئی کتاب میں فضول قسم کے اسباق مثلاً "بنیادی پیشے"،" کھیلوں کی اہمیت"، "ریل گا ڑی کی کہانی"، "نینو کی کہانی"، "یا دگار سفر" اور" تصویری کہانی "شامل کئے گئے تھے۔اسی طرح سال سوئم کی پرانی کتاب میں " آئیں نماز پڑھیں"،" مل جُل کر رہنا ہے" ،" اللہ کی آخری کتاب"، "حضرت علی مُرتضی "ؓ،" ہمیشہ سچ بولو ( عبد القادر جیلانی)" اورعلامہ اقبال کی مشہور ترین دعا" لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" کو ختم کرکے اسکی جگہ" تصویری کہانی"، "لچو خرگوش"، "خط"، "سُنتی آنکھیں بولتے ہاتھ" اور"پولو "شامل کئے گئے تھے۔اسی طرح جماعت چہارم کی اردو کی کتاب میں "حضرت عائشہ صدیقہ"،" علامہ اقبال"،" ٹیپو سلطان "،" قائد اعظم "، "مینار پاکستان "، "حضرت فاطمہ "، "امام ابو خنیفہ" اور" دعا "کے اسباق تبدیل کرکے اس کی جگہ فضول اسباق جیسے" صحت صفائی"، "ہمارا ما حول" ، "ٹوٹ بٹوٹ کے مُر غے " اور" تصویری "اسباق شامل کئے گئے تھے۔اسی جماعت پنجم کی اُر دو کتاب میں "حضرت عائشہ "،" در گذر" ،" حضرت بلال "،" قائد اعظم "، "میرا خدا" ، "رابعہ بصری"،"مجاہدہ اسلام حضرت حولہ "، "میجر عزیز بھٹی"،" دو کم سن مجاہد" ، "محمد بن بختیار خلجی" ،" دعا لب پہ آتی ہے" کے عنوان سے اسباق تبدیل کرکے سال 2016-17کے کتاب میں " ہمارے پیشے "،" مُددوں کا نیلا"، "پاکستانی مسیحا" ،"ماحول کی آلودگی" جیسے اسباق شامل کئے گئے تھے۔ اسی طرح جماعت ششم کی عربی کی کتاب میں " حضرت محمدؐ "سے متعلق اسباق ،" سورۃ لفا تحہ" اور" سورۃ ابقرۃ" کی پو ری سورتیں ختم کر کے اسکی جگہ" ڈاک خانہ"،" با غیچہ"،" شالیمار باغ"، "دستر خوان"، انسانی اعضاء "با رش، "صفائی"، "درہ خیبر "، "صبح کاترانہ "اور" مکالمہ" جیسے کم اہمیت کے اسباق شامل کئے گئے تھے۔, اسی طرح جماعت ہفتم کے عربی کتاب میں جو پانچ سال پہلے تھی اس میں " رسولؐ کے اخلاق کے عنوان سے سبق، "احادیث شریف"،" جامع کلمات"، "الاخوۃ اسلامیۃ" ،" اللہ کی پہچان "اور" سورۃ آل عمران کا مکمل ترجمہ" ختم کرکے اسکی جگہ سال 2016-17 کے نصاب میں "موسم بہار"مکالمہ"،" بلو چستان ارض معدنیات"، "کرکٹ کا کھیل"،" چڑیا گھر"،" پاکستانی کھانے" "جدید لباس "دریائے سندھ"، "سکول کے استاد سے چھٹی کی درخواست"،"ترانہ" اور اسکے دوسرے فضول قسم کے مضامین اور اسباق شامل کئے گئے تھے۔ اسی طر ح آٹھویں جماعت کی انگلش کتاب میں "حضورؐ سچائی اور ایمانداری "سے متعلق اور" ڈاکٹر علامہ اقبال قومی ہیرو" کے عنوان سے اسباق ختم کرکے اسکی جگہ" خاتم طائی کے قصے "اور ایک انگریزمصنف "جوبتن سوفٹ کے فرضی سفرنامے" کو شامل کیا گیا تھا۔ اسی طرح آٹھویں جماعت کے عربی کے کتاب میں " سورۃ یوسف"، "سورۃ الحجرات" ، "سورۃ یٰس"، "سورۃ واقعہ" اور"مسلمان سائنس دانوں "کے عنوان سے اسبا ق ختم کرکے اسکی جگہ "شادی کی تقریب"، "پھل"، "صوبہ سندھ" ،" موسم گرما"، "شمالی علاقہ جات،" سردی "،" تا ریخی شخصیت" وعیرہ جیسے اسباق شامل کئے گئے تھے۔اب سوال یہ ہے کیا پبلک کے پر زور اسرار پر یہ چیزیں بچوں کی کتابوں سے ختم کی گئی ہیں۔جہاں تک سکول کے باہر ہم جنس پرستوں یعنی LGBTکا مونو گرام ہے وہ سکولوں کے باہر اور جماعت دہم کے بچوں کے کا رڈوں پر ابھی لگا ہے۔


ای پیپر