’’ہونہار بے بی کے اتنے لمبے ہاتھ‘‘
02 اگست 2019 2019-08-02

میں ہما کی سالگرہ میں جانا تو چاہتا تھا مگر اس ڈر سے کہ کہیں وہاں ’’ وہ ‘‘ بھی نہ آئی ہو اور گلے شکوے شروع ہو جائیں .... ویسے میں نے ’’اُس‘‘ کے گلے شکوے کا توڑ پہلے ہی کر رکھا ہے کیونکہ میں نے سُن رکھا ہے کہ وہ سال میں دو بار سالگرہ مناتی ہے مگر غضب خدا کا اِس بار ’’ اُس ‘‘ نے چار بار سالگرہ منا ڈالی....یعنی 2019میں اُس نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا اور ہر پارٹی میں مختلف ’’ لوگ‘‘؟.... ہونہار ’’ بے بی ‘‘ کے اتنے لمبے ہاتھ ؟۔ ( اب پلیز پرانے محاورے بھول جائیں تبدیلی کا سال مکمل ہوا چاہتا ہے)

ہے ناں... بُری بات؟!!

ویسے ہما کی سالگرہ بھی تو ایک سال میں دوسری بار ’’اٹینڈ‘‘ کر رہا ہوں ۔پچھلی بار وہ میرے گفٹ سے خوش نہ تھی۔مگر شکر گزار تھی کہ چلو... تم نے حسن عباسی کی کتب تحفے میں دے کر اِک نئے دوست کا اضافہ کر ڈالا۔سنا ہے جلد ہما کی شاعری کی کتاب بھی منظر عام پر آئے گی... ’’ بڑی تصویر کے ساتھ؟‘‘۔اکثر فنکار اب ڈانس کے ساتھ ساتھ گانا بھی تو سیکھ رہے ہیں؟

آپ نے کیا کہا... ’’ بڑی شاعری‘‘ ....وہ تو غالب، فیض اور فراز کر گئے۔ اب شاعری بڑی ہو نہ ہو تصویر تو بڑی دکھائی دیتی ہے اور لوگ تصویر دیکھ کر ’’ عشق‘‘ فرمانے لگتے ہیں ۔وہ تو بہت بعد میں پتا چلتا ہے کہ تصویر پچاس سال پرانی تھی۔ اِسی لیے یہ ’’ بزرگ‘‘ شاعر ایسی پر ستاروں سے ملتے ہوئے ڈر محسوس کرتے ہیں ۔(معاملہ فیس بک یا وٹس اب تک ہی رہے۔؟)

میں نے بھی اِک اٹھارہ سال پرانی اپنی تصویرنکال رکھی ہے کبھی اگرشاعری کی کتاب تیار ہو گئی تو یہ تصویر کتاب پر چسپاں ہوگی۔’’ مارکیٹ‘‘ کی تصویر ہے لوگوں کو تصویر پسند آئے گی۔ شاعری.... وہ آجکل لوگوں کی توجہ سے دور ہے.... نہ یقین آئے تو امجد اسلام امجد سے پوچھ لیں ۔ آپ کو مارکیٹ میں شاعری کی کوئی تازہ کتاب کسی بڑے شاعر کی ملے تو مجھے بھی بتائیے گا؟

ہما کی سالگرہ کی سب سے منفرد اور اہم بات یہ کہ وہ عمر کے حوالے سے جھوٹ نہیں بول رہی...حالانکہ وہ چالیس کی ہے مگر سالگرہ اٹھارویں ’’ شو‘‘ کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا ...کہ یہ جھوٹ تو نہیں ؟۔نہیں میری بیٹی حجاب کی عمر اٹھارہ سال ہی تو ہے ۔’’ آف دی ریکارڈ‘‘ آہستہ سے بولی۔

ویسے سالگرہ میں جھوٹ کی ایسی آمیزش چل جاتی ہے....کیونکہ شادی کارڈ پے لکھا ہوتا ہے...’’ تناول ما حاضر... 6 بجے‘‘... جبکہ ملک منظور کے بیٹے کی شادی پر ’’ روٹی‘‘ گیارہ بج کر چالیس منٹ پر کھلی تھی۔ وہ بھی ہمارے بڑے بھائی عابد پہلوان نے خود ہی ’’ روٹی کھل گئی جے ‘‘ کہہ کر’’ عوام ‘‘ کو کھانے پر ٹوٹ پڑنے کا حکم دیا تو انتظامیہ حواس باختہ ہوگئی کیونکہ ابھی ’’ مٹن کی دیگیں تو دم پر تھیں ؟‘‘۔

حیات بٹ صاحب نے ایک شادی پر اِس حوالے سے فائرنگ کا واقعہ سنایا...ذرا آنکھیں بند کر کے تصور تو کریں کہ حیات بٹ آف چوبرجی کیسے مزے لے لے کر فائرنگ کا واقعہ سنا رہے ہونگے۔( ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے؟)

ایسے ہی کارڈ پر لکھا تھا ’’تناول ماحضر 5 بجے‘‘ ...رات کے بارہ بج گئے (ہمسایہ قوم کے پتہ نہیں رات کو بھی بارہ بجتے ہیں یا نہیں ؟)۔ موتی گجر نے ایسے ہی بارہ بجے اعلان کر دیا .... ’’ روٹی کھل گئی جے؟... لوگ روٹی پر ٹوٹ پڑے.... انتظامیہ نے فائرنگ شروع کر دی ... موتی گجر گھبرا گیا ... گھبراہٹ کے باعث اس نے بھی اپنی ٹرپل ٹو کا بٹن دبا دیا ... ’’ ما ں جی ... ابھی ’’ پیر صاحب ‘‘ کے بارہ گن مین پہنچے ہیں جو اِسی بات کی علامت ہے کہ پیر صاحب ایک گھنٹے تک پہنچ جائیں گے... تو نے گھنٹہ پہلے ہی اپنا لچ فرائی کر ڈالا ہے‘‘!۔

میں نے مذاق میں پوچھا.... حیات بھائی، پیر صاحب کہاں مصروف ہیں؟۔اُنہوں نے اِک ’’ پھڈے والے‘‘ پلازے پر نیا نیا قبضہ کیا ہے... آج وہ اُس کا معائنہ کرنے گئے ہیں!۔دیگر ’’ عملہ‘‘ اُن کے ساتھ ہے۔

’’ کہیں گھاٹے کا سودا نہ ہوگیا ہو ‘‘۔میں نے پوچھا تو... حیات بھائی زور زور سے ہنسنے لگے !.... پھر آہستہ سے میرے کان کے قریب منہ کر کے بولے ... ’’ جاہل آدمی پیر صاحب کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے بلکہ وہ خود سودا کرتے ہی نہیں .... کیونکہ کبھی کبھی منصف بھی تو بن جانا پرتا ہے؟‘‘۔میرا موڈ اچھا تھا ....میں نے بر جستہ کہہ دیا.... ’’ ہما‘‘ تم آئندہ اپنی سالگرہ پر ٹکٹ لگائو اتنے وی۔ آئی۔ پیز؟.... میری اِس فرمائش پر ہنس دی... ابھی تو آدھے دوست اِس ڈر سے اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھے میری سالگرہ انجوائے کر رہے ہیں کہ کہیں کسی چینل والے سالگرہ کا آنکھوں دیکھا حال ڈائریکٹ ٹیلی کاسٹ نہ کر ڈالیں !۔(اور لینے کے دینے پڑ جائیں ۔؟!!نجم ولی خان نے لاہور کے ’’ ڈان ‘‘ کے حوالے سے اِک رپورٹ چلائی ہے ذرا ملاحظہ کر لیں؟)

ہما نے میرے کمزور سے ہاتھ پر اپنا وزنی سا ہاتھ زور سے مارتے ہوئے کہا... اور میں سوچنے لگا کہ سالگرہ کی تقریب ہال میں ہو رہی ہے اور بہت سے لوگ اپنی اپنی گا ڑیوں میں بیٹھے یہ سالگرہ کی تقریب انجوائے کر رہے ہیں... بھلا وہ کیسے؟۔میں دیر تک سوچتا رہا... جب کچھ سمجھ نہ آیا تو میںنے گاڑی سٹارٹ کی اور یہ غزل سنتا ہوا گھر کی طرف چل بڑا...

وہ خاک اُڑی یا روہم درد کے ماروں کی

ہنسی بے نصیبوں پہ بارات ستاروں کی


ای پیپر