شریف خاندان نے ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھجوایا: شہزاد اکبر
02 اگست 2019 (17:59) 2019-08-02

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے ہنڈی حوالہ کے ذریعے مال باہر بھجوایا ، مریم نواز کی ٹرانزیکشن کی دستاویزات سامنے آگئی ہیں، حمزہ اور سلمان شہباز کا سارا معاملہ ٹی ٹیز پر کھڑا ہے، ماضی میں ٹی ٹی کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی، منی لانڈرنگ کرنیوالوں نے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، ماضی میں عوام کو بے دردی سے لوٹا گیا، شہباز شریف اور بچوں کے اثاثے ٹی ٹی کے ذریعے بنے، لندن کی عدالتوں میں جانے کا منتظر ہوں۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا جے آئی ٹی میں جو نشاندہی کی گئی اس کے مطابق تحریر آئی ہے جس سے فیک اکائونٹ سے سرکاری مال نے پیسے جمع کرانے کا کہا وہاں سے ساری اکائونٹ اومنی کے زیر استعمال تھے جعلی بینک اکائونٹس سے تعلق ایک اور پلی بارگین ہوئی ہے ، عوام غریب سے غریب تر جبکہ امیر ، امیر تر ہو گئے ، پہلے شہباز شریف اور ان کے خاندان کی ٹی ٹیاں سامنے آئی تھیں،90کی دہائی سے شروع ہوتا ہے اور ایک خاندان اقتدار میں آتا ہے وہ خاندان جب اقتدار میں آیا تو انہوں نے ایک قانون بنایا جس سے ٹیکس کی بنا پر کوئی سوال و جواب نہیں ہوتا،90کی دہائی میں اس خاندان نے بہت مال کمایا اور دیگر معاملات کی بنا پر منی لا نڈرنگ بھی ہوتی رہی ۔

انہوں نے کہا کہ اس خاندان نے ہنڈی حوالہ کے ذریعے پیسہ باہر بھجوایا اور اسی مال سے باہر جائیدادیں بنائیں، جب آپ باہر منی ٹریل دینے سے محروم رہے تب آپ کے پاس کوئی منی ٹریل نہیںتھا، شہباز شریف کے خاندان جن میں سلمان صاحب کی جائیداد ٹی ٹیوں کے ذریعے کھڑی ہیں ، حمزہ شہباز کا کارنامہ ٹی ٹیوں پر کھڑا ہے اور شہباز شریف کا سارا معاملہ ٹی ٹیوںسے اٹھاتے ہیں ، پوری دنیا میں پانامہ آیا یہاں سے شروع نہیںہوا ، ہل میٹل کا فیصلہ اسلام آباد کی جانب سے آیا اور ہل میٹل سے متعلق ایک چیز سب کیلئے آئی ہل میٹل کے اعلانیہ پرافٹ کی85فیصد رقم نواز شریف کو جاتی ہے اور اس کا80یا85فیصد حصہ اپنی صاحبزادی مریم نواز کو گفٹ کرتے رہے ۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ  اس کیس میں نواز شریف ، حسین نواز شریف اور حسن نواز شریف اس میں شامل ہیں اور نواز شریف کا ہتھک کیس اس میں شامل کیاجا چکا ہے اور انہیں اس کیس میں 7سال کی سزا ہو ئی اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی میں کچھ رقوم کی نشاندہی ضروری ہوئی ہے مریم نواز شریف کی طرف لیکن اس میں تفصیل نہیں تھی وہ بینکنگ ٹرانزیکشن نہیں تھے جس سے تمام چیزیں سامنے آئیں جبکہ کچھ ڈاکومنٹس دستیاب ہوئے ان ڈاکومنٹس میں ٹی ٹی شہباز شریف کے بعد ایک نئی ٹی ٹی سامنے آئی اس میں 14 ملین کی ٹرانزیکشن ہے ،2008 میں ہل میٹل سے آئی ہے اور ایم سی بی بینک میں مریم نواز کے اکائونٹ میں جاتی ہے ، ایک اور ڈاکومنٹ میں 17 ملین کی ٹی ٹی میں مریم نواز کے دستخط بھی موجود ہیں ایک اور ٹی ٹی10 ملین کی مریم نواز کے اکائونٹ میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ  یہ وہ قیمت ہیں جو نواز شریف نے مریم نواز کو گفٹ کی بلکہ یہ وہ قیمت ہے جو مریم نواز آف فارم کے مطابق اعتراف کر رہی ہیں کہ یہ انویسٹمنٹ کر کے آئی ہے، ایک اورٹی ٹی 7 ملین کی مسلم کمرشل بینک میں آئی ہے اس میں بھی مریم نواز کی انویسٹمنٹ شامل ہے، ایک اور ٹی ٹی جو2008-09 میں حبیب بینک جاتی امرا میں شریف ایجوکیشن سٹی کی برانچ میں9.9 ملین کی ٹی ٹی ہے جو ہل میٹل سے آئی جو دکان بند ہونے سے پہلے اس کاسلسلہ جاری رہا، یہ ایک ڈاکومنٹری ثبوت تھا کہ ایک ایسی چیز ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ جے آئی ٹی اکائونٹیبلٹی کورٹ پروسیڈ آف کرائم تھا اس کی آج تک منی ٹریل نہیں آئی، یہ تمام معاملہ ہم نے نیب کی عدالت میں پیش کیا کہ اس میں مزید کاروائی کی کوئی ضرورت ہے یا نہیں، ہمیں امید ہے کہ جو بھی مزید تحقیقات کریں گے اور جو قانونی چارج ہے اس پر عمل پیرا ہوں گے۔


ای پیپر