پس از کالم سوچ پر غورکیجئے
02 اگست 2019 2019-08-02

نئے پاکستان کے نقیب جناب عمران خان نے کہا، ’ بڑا پیسہ، پچھلے کمروں میں ہونے والی ڈیلزسینٹ کے الیکشن کی پہچان ہیں، کرپٹ حکمران کرپشن کے پہئے کو چلا رہے ہیں، پی ٹی آئی اس شیطانی چکر کو ختم کر سکتی ہے اور کرے گی‘، یہ بات انہوں نے دو مارچ2012کی دوپہر ٹھیک پونے ایک بجے کئے گئے ٹوئیٹ میں کہی اور پھروزیراعظم عمران خان کی حکومت میں یکم اگست 2019 کی سہ پہر وہی کچھ ہوا جس کو وہ سینٹ کے انتخابات کا ہال مارک کہہ رہے تھے۔ اپوزیشن کے پاس 64 سینیٹرز تھے جبکہ انہیں چئیرمین سینیٹ جناب صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کروانے کے لئے محض53 ارکان کی ضرورت تھی۔ یہ ارکان ایوان میںموجود تھے اور عدم اعتماد کی تحریک کی کھلم کھلا شور مچا کے حمایت کر رہے تھے مگر جب ووٹنگ ہوئی تویہ ووٹ پچاس رہ گئے۔

میرے بہت سارے دوستوں نے فتح کے شادیانے بجائے مگر میں حیران ہوں کہ وہ کس خوشی میں ناچ رہے ہیں اور کیا انہوں نے اسی نئے پاکستان کے لئے جدوجہد کی تھی جس میں لوٹاکریسی ہو، جس میں ضمیر فروشی ہو مگر وہ جائز، حلال اور محتر م ہو کیونکہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے حق میں ہو گی۔ اگر آپ اسے نیا پاکستان سمجھتے ہیں تو یہ تو اس وقت بھی موجود تھا جب ایوب خان نے محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں کامیابی حاسل کی تھی اور بہت سارے بی ڈی ممبرز نے اسی طرح کے کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔ عین ممکن ہے کہ جولوگ اس وقت ضمیر فروشی کر رہے ہوں یا اس پر شادیانے بجا رہے ہوں وہ انہی بی ڈی ممبرز کے پوتے، پڑپوتے ، نواسے یا پڑنواسے ہوں۔ اگر آپ اسے ہی نیا پاکستان کہتے ہیں تو یہ پاکستان تو عمران خان سے بہت پہلے میاں محمد نواز شریف نے ایک غیر جماعتی اسمبلی سے وزیراعلیٰ بنتے ہوئے بنا لیا تھا ۔ یہ پاکستان نوے کی دہائی میں اس وقت بار بار بنتا رہا جب ایک سیاسی رہنما کی سرپرستی کرتے ہو ئے دوسرے کو اقتدار کے ایوانوں سے نکالا جاتا رہا۔ یہ پاکستان اس وقت بھی بنا تھا جب پرویز مشرف کے ساتھ ملتے ہوئے میاں محمد اظہر نے مسلم لیگ قاف اور راو سکندر اقبال نے پیپلزپارٹی پٹریاٹ بنائی تھی۔ یہ نیا پاکستان پنجاب میں اس وقت بھی بنا تھا جب شہباز شریف نے سائیکل کی ٹکٹ پر جیتے ہوئے اتنے بہت ساروں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی کی قیادت پر اعتماد رکھنے والی قاف لیگ کی پارلیمانی پارٹی آدھی سے بھی کم رہ گئی تھی۔

یہ بات طے شدہ ہے کہ جو کچھ ہوا وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا اور یہی وجہ ہے کہ نمبرز گیم میں بہت پیچھے ہوتے ہوئے بھی چئیرمین سینیٹ نے مستعفی ہونا مناسب نہیں سمجھا۔ سینیٹ پاکستان کے وفاق اور استحکام کی علامت ہے۔ سیاسی جماعتیں وطن عزیز کے ایوان بالا کے لئے جن لوگوں کو ٹکٹیں جاری کرتی ہیں ان کی تربیت، کردار اور اخلاق بھی اعلیٰ ہی ہونے چاہئیں مگریکم اگست 2019 بروز جمعرات ثابت ہوا کہ سب کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ جو سینیٹر اتنے منافق ، کمزور اور چھوٹے کردار کے مالک ہیں کہ ایوان میں ایک قرارداد کے حق میں کھڑے ہوتے ہیں مگر اس جگہ جہاں ان کو اللہ رب العزت کی ذات کے سوا کوئی دوجا نہیں دیکھ رہا وہاں یوٹرن لے جاتے ہیں تو انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوان میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ میں نے اس ایک برس کے عرصے میں صادق سنجرانی کو مناسب طور طریقے والا شخص پایا ہے اور سوچ رہا ہوں کہ کیا وہ چوری کئے گئے اس مینڈیٹ کو اپنا مینڈیٹ سمجھیں گے،اس پر فخر کر سکیں گے۔ وہ پیپلزپارٹی کی حمایت کے ساتھ منتخب ہوئے تھے اور جب پیپلزپارٹی نے ان کی حمایت سے دست کشی اختیار کی تھی تو انہیں اخلاقی طور پر اپنے عہدے سے استعفا دے دینا چاہئے تھا مگر انہیں شائد پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ بڑا پیسہ اور پچھلے کمروں میں ہونے والی ڈیلز ہی چلیں گی، وہی شیطانی چکر چلے گا اوراس مرتبہ اس کرپشن کے پہئے اور شیطانی چکر کو خود اس کی مذمت کرنے والے دھکا دے کر چلائیں گے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کہتے ہیں کہ وہ شکست تسلیم نہیں کرتے اور وہ اس پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے مگر کیا انہیں سب سے پہلے اپنی منجی کے نیچے ڈانگ نہیں پھیرنی نہیں چاہئے۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ چودہ دھوکے بازوں اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے والوں کی شناخت ہونی چاہئے، ان کے نام سامنے لائے جانے چاہئیں مگر کیا یہ کام کوئی دوسرا کرے گا یا یہ کام خود پارٹی قیادت کے کرنے کا ہے۔ کیا یہ وقت نہیں آ گیا کہ اپوزیشن کے ہر سینیٹر کے ایک ہاتھ میں قرآن پاک پکڑا دیا جائے اوردوسرا ہاتھ اس کے بچوں کے سروں پر رکھ کر حلف لیا جائے کہ اس نے ضمیر فروشی تو نہیں کی، حلف کے الفاظ ہونے چاہئیں کہ اگر اس نے ضمیر فروشی کی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اور اس کی اولاد کو دنیا اور آخرت میں عبرت ناک انجام سے دوچار کرے۔ یہی وقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کی قیادت دوسروں کو الزام دینے کی بجائے اپنی اپنی پارٹی سے گندے انڈوں کو پہچانے اور نکال باہر کرے۔

پس از کالم سوچ : میری معذرت قبول کیجئے گا اگر آپ کو درج بالا پیراگراف جذباتی لگ رہا ہو۔ یقینی طور پرایک صحافی کو جذباتی نہیں ہونا چاہئے بلکہ زمینی حقائق کے مطابق بات کرنی چاہئے اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہم بطور قوم کرپشن کو جائز سمجھتے ہیں۔وہ چودہ ارکان یقینی طور پر اس وقت ان پچاس ارکان کو احمق اور گدھے سمجھ رہے ہوں گے جنہوں نے اپنی اپنی پارٹی کے ڈسپلن کی پابندی کی۔ یقینی طور پرحکمرانوں کو علم ہو گا کہ اپوزیشن کے فلاں فلاں سینیٹر کو خریدا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان سینیٹروں نے ضمیر بیچنے کی آفرزملنے پرقیادت اور میڈیا کو ہوا تک نہیں لگنے دی کہ ان سے رابطے کئے جا رہے ہیں۔ ان سینیٹروں نے یقینی طور پر اپنا ضمیر مفت میں نہیں بیچا ہو گا، اربوں نہیں تو کم از کم کروڑوں ضرور وصول کئے ہوں گے۔میں یہ کالم لکھنے کے بعد ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچ رہا ہوں کہ یہی چودہ سینیٹر ز وہ شخصیات ہیں جو ملک کو ترقی کی راہ پر لے جاسکتے ہیں ، کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں کیونکہ یہ دوسروں کی طرح احمق نہیں ہیں۔ میں اس معاشرے کا حصہ ہوں جہاں کامیابی صرف کامیابی ہے چاہے وہ کسی بھی طرح حاصل کی گئی ہو، جہاں دولت اور طاقت کو ہی رفعت اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا ہے تو ایسے میں ان سینیٹروں کو برا بھلا نہیں کہنا چاہئے بلکہ یہی وہ عظیم شخصیات ہیں جو پاکستان کے مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہمارے بچوں کے لئے سلیبس تیار کرنے چاہئیں، انہیں ہماری سنٹرل اور پراونشل سروسز کو تربیت دینی چاہئے، انہیں قوم کے لئے موٹیویشنل سپیکرز کے طور پر کام کرنا چاہئے اورہمیں انہیں ملک کے اعلی ترین اعزازات سے نوازنا چاہئے تاکہ بطور قوم یہ ہمیں غربت اور ناکامی کی دلدل سے نکال سکیں۔


ای پیپر