سندھ کو کہاں کھڑا کیا جائے گا؟
02 اگست 2018 2018-08-02

قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز کے تقریبا برابر نشستیں حاصل کرنے والی جماعت تحریک انصاف تاحال ان تین مراکز میں حکومت سازی کی گتھی سلجھانے میں مصروف ہے۔ فی الحال سندھ کے معاملات پی ٹی آئی قیادت کی ترجیحات نہیں بن رہے ہیں۔ ماسواے اس کے کہ ایم کیو ایم کو پہلے سے ہی مخلوط حکومت کا حصہ قرار دے کر عمران خان انہی دعوت دے چکے ہیں۔ اور بعد میں ایم کیوایم کے اراکین اسمبلی کو لانے کے لئے جہانگیر ترین کو ذمہ داری دے دی گئی ہے۔

سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف 23 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے دوسری بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ اب اس کے پاس 166 کے ایوان میں 30 نشستیں ہیں۔ ایم کیو ایم تیسرے نمبر پر ہے اس کے پاس 21 نشستیں ، جی ڈی اے کے پاس مخصوص نشستوں کے بعد کل 15 نشستیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں 12 نشستیں ہیں۔ جن میں سے گیارہ کراچی میں ہیں۔محمد میاں سومرو تحریک انصاف کے اندرون سندھ سے منتخب ہونے والے قومی اسمبلی کے واحد رکن ہیں ۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کے لئے اسلم ابڑو جیکب آبادسے، شکور شاد لیاری سے، شہریار شر گھوٹکی سے ، اورمستنصرباللہ حیدرآباد سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر جیتے ہیں۔

تحریک انصاف سندھ میں اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت میں شامل کرنے کے بعد سندھ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ تحریک انصاف کو ملے گا۔ اس پر جی ڈی اے کو بھی کوئی بڑا اعتراض نہیں ہوگا۔ کیونکہ حالیہ انتخابات جی ڈی اے اور پی ٹی آئی نے مل کر لڑے تھے۔ اور دونوں کا رقیب پیپلزپارٹی ہے۔

سندھ میںیہ بحث چل رہی ہے کہ نئے سیٹ اپ میں سندھ کو کہاں کھڑا کیا جائے گا؟ یہ درست ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور وہی صوبائی حکومت بنائے گی۔ یہ سوال اپنی جگہ پر کہ موجود ہے کہ اقتدار میں سندھ کو کتنا اور کیسے اکموڈیٹ کیا جائے گا؟ سندھ سے تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کرنے والوں کے ساتھ پارٹی کیا سلوک کرتی ہے۔ ان اتحادیوں میں جی ڈی اے سب سے بڑا گروپ ہے جس کو قومی اسمبلی میں ایک اور صوبائی اسمبلی میں 15 نشستیں حاصل ہیں۔ ایم کیو ایم کے ساتھ پی ٹی آئی کا اتحاد بعد از الیکشن کی کہانی ہے۔ قوم پرست سیاست کی دعویدارسندھ یونائٹیڈ پارٹی کے پلیٹ فارم سے جیئے سندھ تحریک کے بانی کے دو پوتے سید جلال محمود شاہ اور سید زین شاہ امیدوار تھے۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی رسمی طور پرجی ڈی اے کا حصہ نہ بنی۔تاہم اس کو جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کی حمایت حاصل رہی۔ لیکن وہ کوئی نشست حاصل نہ کر سکی۔ 2013 کے انتخابات کے موقعہ پر سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے مسلم لیگ نواز سے ایک تحریری معاہدہ کیا تھا جس میں سندھ کے بعض اہم مطالبات کو اتحاد کی شرط بنایا گیا تھا۔ حالیہ انتخابات کے موقعہ پر اس جماعت نے پی ٹی آئی سے کوئی تحریری معاہدہ کئے بغیر اس کی حمایت کی تھی۔

بلدیاتی نظام میں تبدیلی جس کے لئے خیال کیا جاتا ہے کہ حالیہ نظام اور قانون پیپلزپارٹی نے اپنی حکمرانی کی

سہولت کے مطابق بنایا ہوا ہے۔ تھیوری میں یہ بات صحیح لگتی ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہو۔ لیکن ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں چیک اینڈ بیلنس کم ہو جاتا ہے اور مطلوبہ نتائج ملنے کے بجائے کرپشن نچلی سطح پر پہنچ جاتی ہے اور کارکردگی کی سطح بھی بہت نیچے چلی جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات دینے کے نتیجے میں ایم کیو ایم اور اس کی سیاست مضبوط ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ چار سال کے دوران کئے گئے آپریشن اور مختلف قدامات کے ذریعے جو حاصلات ہوئی ہے کہیں وہ ریورس نہ ہو جائیں۔ اور ایم کیو ایم ایک بار پھر مضبوط ہو جائے ۔ ایم کیو ایم کی فرمائش رہے گی کہ بلدیاتی اداروں کو مزید اختیارات ملیں۔

اصل میں پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ سندھ کو اپنے اقتدار میں کیا حصہ دینا چاہتا ہے؟ اپنی حکومت اور پارٹی کی پالیسیوں میں سندھ کو کیا مقام دے گی؟ ایک ماڈل وہ ہے جو مسلم لیگ نواز استعمال کرتی رہی ہے۔ یہ ماڈل کراچی فوکسڈ ماڈل ہے۔اور باقی پورے سندھ کو پارٹی اور حکومت کی پالیسیوں میں ثانوی درجہ کا سلوک کیا گیا۔ نواز لیگ کی جانب سے گورنر، وفاقی وزراء، صدر، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر کا معاملہ ہو یا مخصوص نشستوں یا سینیٹ ان سب میں ترجیح کراچی رہی۔ اس کے باوجود کراچی میں پارٹی سیاسی جگہ نہیں بنا پائی۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف کو الیکشن میں کامیابی کراچی میں ہو سکی۔ لیکن باقی سندھ میں سوائے مخدوم شاہ محمود قریشی اور محمد میاں سومرو کی دو نشستوں کے سندھ میں کوئی اور سنجیدہ اور مضبوط امیدوار میدان میں نہیں تھا۔ اس کے باوجود کہیں اگر پی ٹی آئی کے بہتر امیدوار تھے جیسے علی پلھ ٹنڈوالہیار میں تھے ان کو اچھے خاصے ووٹ پڑے۔

الیکشن میں پی ٹی آئی اور جی ڈی ایک چیز کے دو نام کی طرح تھے۔ سندھ میں تحریک انصاف چونکہ گراس روٹ سیاسی جماعت نہیں۔ اس کے اراکین اسمبلی کا تعلق بھی شہری علاقوں سے ہے جہاں پر ان کا مقابلہ ایم کیو ایم سے رہا ہے۔ لہٰذا اس کو اپنی سیاست ایم کیو ایم کے فریم ورک کو سامنے رکھتے ہوئے کرنی پڑے گی۔ اور اس طرح سے کہ ایم کیو ایم کو کھوئی ہوئی جگہ نہ مل سکے۔ ممکن ہے کہ بعض مطالبات اور پالیسیوں میں اسے ایم کیو ایم کی پچ کے قریب لے جائے ۔ ایم کیو ایم اور بعض دیگر قوتیں بھی چاہیں گی کہ پی ٹی آئی ایم کیو ایم کے مطالبات اور پچ پر آئے۔ اگر پی ٹی آئی نے ایسا کیا تو وہ باقی سندھ میں جگہ بنانا مشکل ہو جائے گا اور سندھ کی سیاست واپس شہری اور دیہی حصوں میں بٹی رہے گی۔ لسانیت ایک نئے نام کے ساتھ پروان چڑھنے لگے گی۔

سندھ کے پنجاب اور وفاق کے ساتھ بعض دیرینہ مطالبات پر تنازعات موجود ہیں۔ جن پر سندھ کے ہر مکتبہ فکر کی کوئی دو رائے نہیں۔ پانی کی منصفانہ اور 1991 کے معاہدے کے تحت تقسیم ، کالاباغ ڈیم کی تعمیر، قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اور اس کے تحت سندھ کے لئے مالی وسائل کا حصول، توانائی کے وسائل اور ان کی تقسیم اٹھارویں ترمیم جس کے تحت صوبوں کو زیادہ اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس کے بیشتر حصے پر عمل درآمد ہونا بھی باقی ہے۔

ماضی میں ان مطالبات کی بنیاد پر سندھ میں قوم پرست سخت احتجاج کرتے رہے۔ پیپلزپارٹی وقتا فوقتا یہ معاملات اٹھاتی رہی ۔بعض مواقع پر یہ بھی دیکھا گیا کہ سندھ میں موجود تمام جماعتیں بشمول جماعت اسلامی، اور جمیعت علمائے اسلام بھی ان مطالبات کی حمایت کرتی رہی۔ لیکن اٹھارویں ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ان سب مطالبات کو قانونی اور آئینی شکل میں تسلیم کیا گیا۔ جس کے بعد یہ تمام ایشوز پارلیمانی سیاست کے دائرے میں آگئے۔ لہٰذا قوم پرست اور دیگر جماعتوں نے ان مطالبات پر زور دینا چھوڑ دیا اور صرف پیپلزپارٹی ہی یہ مطالبات اٹھانے لگی۔ نواز لیگ کے گزشتہ دور حکومت میں پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدگی بھی رہی۔ سرکاری سطح پر خط وکتابت اور متعلقہ فورم میں معاملات اٹھانے کے ساتھ ساتھ تین چار مواقع پر پیپلزپارٹی نے خاص طور پر پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاج بھی کیا ۔ یہ سندھ کے ہاٹ ایشوز ہیں۔ جن پر حکومتی اور غیر حکومتی سطح پر مضبوط رائے موجود ہے۔ تحریک انصاف جو اپنے نقط نظر میں نواز لیگ سے بھی زیادہ مرکزیت پسند پارٹی سمجھی جاتی ہے، یہ جماعت کالاباغ ڈیم کی حامی رہی ہے، جبکہ دیگر ایشوز پر اس کی کوئی واضح پالیسی بیان نہیں کی جاتی رہی ہے۔ پیپلزپارٹی صوبے کی نمائندہ اور حکمران جماعت کے طور پر بہرحال یہ مطالبات اٹھائے گی۔ لہٰذا ایک طرح سے یہ مطالبات پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی یعنی صوبے اور وفاق کے درمیان تنازع اور تصادم کی وجہ بن سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی معاملات کو کس طرح دیکھتی ہے اور ان مزید الجھانے کے بجائے سلجھانے کی کوشش کرتی ہے۔


ای پیپر