امڈتا سیاسی طوفان
02 اگست 2018 2018-08-02

یہ پرانی نہیں نئے عہد کی سیاست ہے۔ 88 میں بینظیر کو ہرانے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد بنا تو نوے میں غلام مصطفی جتوئی کو لانے کے لیے جنرل اسد درانی نے ایک آپریشن کیا مگر پنجاب میں شاندار کامیابی نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ تک پہنچا دیا۔ رقم تقسیم ہوئی ثابت ہونا ہے، 2014ء سے نواز شریف کو مائنس ون کرنے کا منصوبہ بنایا وہ کامیاب ہو گیا سب کے سامنے چیف جسٹس کے فیصلے درست اور جائز تھے مگر ان فیصلوں سے ایک جماعت کو پری پول نقصان ہوا۔ نواز شریف کے بارے میں کہا گیا وہ ایک این آر او لے کر بھاگ جائے گا پمز ہسپتال میں دل کے شعبے سے یہ آواز بھی آئی کہ علاج کے لیے لندن بھیجا جائے مگر نواز شریف کا فیصلہ ہے کہ وہ لندن نہیں اڈیالہ جیل جائیں گے۔ الیکشن سے پہلے زرداری کے فیصلے رک گئے مگر نواز شریف کو جیل بھیجنا ضروری تھا نتائج آ چکے دھاندلی جس انداز سے ہوئی اس کی کچھ جھلکیاں سوشل میڈیا پر نظر آ رہی ہیں۔ فیصل صالح حیات کی گنتی اس لیے روک دی گئی کہ وہ آگے جا رہا تھا ’’آر اوز‘‘ کو خدشہ ہے اگر دو حلقوں کا نتیجہ الٹ گیا تو پورا انتخابی عمل مشکوک ہو جائے گا۔ 1977ء میں انتخاب میں دھاندلی ہوئی دو دن کے اندر ایئر مارشل اصغر خان نے دھاندلی کا پول کھول دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے آج تین اگست ہو گئی 10 روز ہو گئے گنتی ابھی جاری ہے تحریک انصاف کے علاوہ ملک کی تمام جماعتیں مطالبہ کر رہی ہیں الیکشن کمیشن ناکام ہو گیا پورے کا پورا کمیشن مستعفی ہو جائے۔ کمیشن کو سوچنے کا مقام ہے غور و فکر کرنا چاہیے۔ اسے جذباتی ہو کر ملک کی تمام جماعتیں جس کی اکثریت میں ہے غور و فکر کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی فوٹج بتاتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر بھی گہرے سوال اُٹھ رہے ہیں چارسدہ میں اے این پی کے کارکنوں کے نعرے سنے افسوس ہوا، مجیب غدار ہو سکتا ہے مگر 160 حلقوں کے عوام تو اس کے ساتھ تھے اس وقت بھی ایسٹرن کمانڈ کے انچارج صاحبزادہ یعقوب علی خان اور ایڈمرل ایس ایم احسن بھی سمجھتا تھا ووٹ کو عزت ملنی چاہیے مگر نہیں ملی پھر کیا ہوا یہ الگ کہانی ہے آپ کو درست تاریخ لکھ نہیں سکتے۔ تازہ منظر نامے میں جو کچھ ہوا ہے پاکستان ایک نئے سیاسی بحران میں داخل ہو چکا ہے ملک میں ایک بار پھر سیاسی تحریک شروع ہونے والی ہے۔ یہ تحریک کیماڑی سے خیبر تک چلے گی۔ کل آل پارٹیز کے جو فیصلے ہوئے ہیں اس میں کپتان کو وزیراعظم آسانی سے نہیں بننے دیا جائے گا مقابلہ ہو گا ایک ایک سیٹ پر ہو گا۔ ایک تحریک چلتی نظر آ رہی ہے۔ چیف جسٹس صاحب اور جناب قمر الزمان باجوہ صاحب آگے بڑھیے ایمپائر بنیں۔ اب کی بار ’’روم‘‘ کو جلنا نہیں چاہیے۔ اگر کپتان کو کسی نے لاڈلا بنا کر یہاں تک راستہ دیا ہے یہ نا انصافی جمہوری معاشروں میں قبول نہیں ہوتی۔ اب چیئرمین سینیٹ کے جانے کا لمحہ آ گیا ہے تمام اپوزیشن جماعتیں دو تہائی اکثریت سے بھی آ گے ہیں۔ اب اپوزیشن کی مرضی کا نیا چیئرمین سینیٹ بننے میں کوئی دیر نہیں ہے۔ گرینڈڈیمو کریٹک الائنس جس کے پاس دو نشستیں ہیں وہ دوبارہ انتخاب کے لیے ڈٹ گیا اس نے بھی آج سندھ بھر میں مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نے دھاندلی کے خلاف 6 اگست کو لاہور میں طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے ابھی اس کے سامنے دو آپشن ہیں۔ دھاندلی کے خلاف ریلی نکالی جائے یا پھر اس کے ساتھ دھرنا بھی دیا جائے۔ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ فیض آباد کی تاریخ دہرائی جائے گی۔ قیادت کا کہنا ہے کہ ’’وہ اُن قوتوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں جنہوں نے انہیں الیکشن سے باہر کیا ہے‘‘۔ جن لوگوں کو جہازوں میں بھر کر بنی گالہ لایا گیا اب وہ ایک ہوٹل میں قیدی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسی کا نام ہے نیا پاکستان۔ جس کے لیے کپتان نے طویل انتظام کیا۔ مگر اب بھی یہ کام آسان نہیں بہت کچھ بدل چکا
ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی جس کے قیام کو 90 دن بھی نہیں ہوئے قدوس بزنجو اور جام کمال میں بٹ چکی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں احتجاج میں جا رہی ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف کے اتحادی آپس میں الجھ پڑے ہیں ۔ یہ لڑائی کھل کر میڈیا پر آ گئی ہے۔ معاملہ اس وقت الجھا جب لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلیٰ جام قادر کے پوتے اور جام یوسف کے بیٹے جام کمال نے بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات کی جہاں انہوں نے الیکشن سے قبل پر اسرار طور پر قائم ہونے والی نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر جام کمال کو بلوچستان میں نئی حکومت سازی میں اپنا امیدوار قرار دیا۔ اعلان ہوتے ہی تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سردار یار محمد رند نے بنی گالہ کے فیصلے کو مسترد کر دیا اور تحریک انصاف کا امیدوار لانے کا اعلان کیا اب بنی گالہ کا فیصلہ کالعم ہو چکا ہے۔ بلوچستان میں تحریک انصاف کی حکومت نہیں آئے گی بلوچستان عوامی پارٹی ہی حکومت بنائے گی۔ اس پارٹی میں موجود بڑے بڑے لیڈر جس کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا اس میں شامل ہیں۔ جن لوگوں نے ’’باپ‘‘ کو تخلیق کیا تھا اُن کا خیال تھا کہ یہ جماعت بلوچستان کی سب سے بڑی پارٹی بنے گی مگر اس کی توقعات پوری نہ ہو سکی۔ قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے اسے صرف 4 مل سکی ہیں۔ جبکہ صوبائی میں اسے 15 نشستیں مل سکی ہیں قومی اور صوبائی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بننے کا خواب پورا نہیں ہو سکا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی میں اس کے بڑے بڑے لیڈر پٹ گئے۔ ’’باپ‘‘ کے وہ لیڈر جن کی شکست کا سوچا بھی نہیں جا سکتا چاروں شانے چت ہو چکے ان میں اس جماعت کے بانی اور پرانے مسلم لیگی سعید احمد ہاشمی، میر عاصم کردگیلو، سرفراز بگٹی جو زین بگٹی سے قومی اور کہرام بگٹی سے صوبائی، عبدالکریم نوشیروانی اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری منظور کاکڑ کا نام ہے۔ یہ اس پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ بلوچستان میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، متحدہ مجلس عمل، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ جن کے پاس قومی اسمبلی کی تین قومی نشستیں ہیں وہ بھی مرکز میں اہم کردار ادا کرے گی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اختر مینگل سے ملاقات کی ہے جس کے پاس قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی کی سترہ نشستیں ہیں۔ دوسری جانب ان کی عمران کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہے۔ کپتان کے لیے نہ صرف مرکز میں بلکہ صوبوں میں بھی کافی مشکلات ہیں۔ آزاد ارکان الیکشن کمیشن کو ایک تحریری طو رپر بتاتا ہے کہ اب وہ فلاح پارٹی میں شامل ہو گیا ہے مگر یہاں تو علیم خان اور جہانگیر ترین کے طیاروں کو رکشا بنا دیا گیا ہے لوگوں کو بھر بھر کر بنی گالہ لایا جا رہا ہے۔ یہ منظرنامہ اپوزیشن تو الگ بات نیا پاکستان بنانے والوں کو بھی پسند نہیں آیا۔ بلوچستان میں سیاسی بحران 1988ء کی پوزیشن پر چلا گیا ہے جب میر ظفر اللہ جمالی نے بلوچستان کی حکومت جس دھونس اور دھاندلی سے بنائیء تھی اکثریت نہ رہی تو اسمبلی ہی توڑ ڈالی طویل عدالتی کارروائی کے بعد جمالی کا اقدام ناجائز ٹھہرا اُن کی جگہ اکبر بگٹی وزیر اعلیٰ بن گئے محمد خان جونیجو نے جمالی کو مسلم لیگ سے ہی خارج کر دیا 2018 ء میں جمالی خاندان نے پھر قلا بازی کھائی اور وہ مسلم لیگ ن سے بے وفائی کی اقتدار میں آنے کے لیے تحریک انصاف کو دیکھا اور اس میں شامل ہو گئے۔ بلوچستان کے سردار نا دیدہ قوتوں کی مدد کے با وجود سیاست سے سائٹ لائن نہیں ہونے اکبر بگٹی کے پوتے شازین بگٹی جمہوری وطن پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہو گئے ہیں۔ بگٹی خاندان نے آکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف آواز اٹھانے پر بڑا صدمہ اٹھایا ہے ۔ مگسی خاندان بھی بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوا ہے مگر وہ سیاست اپنی مرضی سے کرتا ہے خالد مگسی 2013 ء میں آزاد کامیاب ہو کر مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے آخری لمحے پر پارٹی کو چھوڑ دیا۔ ان کے ایک بھیوئی عامر مگسی سندھ سے کامیاب ہوئے ہیں ان کا مفاد پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے وہ بھٹو خاندان سے مل کر سیاست کرتے ہیں۔ زہری خاندان کی سیاست دو الگ نظریات پر مبنی ہے۔ ثناء اللہ زہری کو نواز شریف کی سیاست کی سزا ملی ہے وہ دونوں قومی نشستوں سے ہارے ہیں مگر بڑی مشکل سے جیتے ہیں۔ سردار یار محمد رند، بھی ہار گئے ہیں خاصی گھمبیر صورت حال ہے پشتون بیلٹ سے محمود اچکزئی ، مولانا عبد الغفور حیدری، ڈاکٹر حامد اچکزئی، اس وقت بوچستان میں متحدہ مجلس عمل بڑی قوت بن کر ابھری ہے اس کے 5 ارکان ہیں ، بلوچستان عوامی پارٹی 4، تحریک انصاف 2 ، جمہوری وطن پارٹی ایک، مینگل کی 3 جبکہ اسلم بھوتاتی آزاد ہے۔ جبکہ ایم کیو کیو جن کے قائدین عمران خان اور عمران خان ایم کیو ایم کے خالف جو کچھ کہتے رہے اب وہی عمران خان ’’زہرہ آپا‘‘ کا قتل بھول کر ایم کیو ایم کے قدموں میں جا گرے ہیں ۔ قیادت اپنی مرضی اور اپنے قدموں پر چل کر گئی ہے اور چھ ووٹوں کی بھیک مانگی جو انہیں مل گئی ہے۔ مبارک کا قیام ہے کیونکہ اسی کا نام سیاست ہے پیار سے عمران خان کو حمایت ہی نہیں وزیراعظم کے لیے پورے چھ ووٹ دینے کا اعلان ہو چکا۔ مطالبات منوائے جا چکے مگر اس اعلان کے باوجود دھانلی کے خلاف کل احتجاج ہو چکا کہ احتجاج برائے راست عمران خان کے خلاف تھا۔ دھاندلی کا فائدہ تو تحریک انصاف کو ہوا ہے مگر یہ دھاندلی کس نے کی کھل کر بات کرنی چاہیے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کا نام ہے تو کھل کر بات کرو اگر کھل کر بات نہیں ہو گی تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ منظرنامہ تو بتا رہا ہے کہ کسی کو ملک کی فکر نہیں ہر کوئی تماشا دیکھ رہا ہے نیب نے ایسے وقت میں پھر سر اٹھایا ہے جب پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کی قیادت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ توہین عدالت پر (ن) لیگ کا سیاست دان نا قاہل ہو رہے۔ یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا اداروں کے خلاف تو بولنے پر توہین عدالت لگتی ہے مگر اداروں کی حدود کیا ہے اہم سوال ہے؟


ای پیپر