چینی قرضے،امریکی دھمکی اورپاکستان کا معاشی مستقبل؟
02 اگست 2018 2018-08-02

30جولائی2018ء کوامریکی وزیرخارجہ مائیک پوم پیو نے ایک بیان میں پاکستان کو خبردار کیا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کو ملنے والے 12ارب ڈالر کے متوقع مبینہ بیل آؤٹ پیکج کو چینی قرضے اتارنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔جواب میں چین نے کہا کہ امریکا آئی ایم ایف کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتا،جب کہ چین کی جانب سے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے 2ارب ڈالر کے نئے قرضے دینے کی مبینہ رضامندی بھی سامنے آئی ہے۔واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کے معاشی معاملات میں دخل اندازی پہلی بار نہیں ہوئی،بلکہ اس سے پہلے بھی کئی بار امریکا آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہاہے۔آئی ایم ایف کے مالیاتی اثاثوں کا17فیصد امریکا کا ہے۔آئی ایم ایف کے رول کے مطابق 15فیصدآئی ایم ایف کے مالیاتی اثاثے رکھنے والے ملک کو آئی ایم ایف کے قوانین اورپالیسیوں کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو معاشی مشکلات میں گھرا دیکھ کر ،سی پیک منصوبے میں چین کی بھاری انویسمنٹ اور چین امریکا معاشی رسہ کشی کی وجہ سے امریکا آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کو مزیددباؤ بڑھاناچاہتاہے۔اگرچہ تاحال نئی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالر ز لینے کی کوئی ٹھوس خبر سامنے نہیں آئی،مگرمعاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کودرپیش معاشی مشکلات کو حل کرنے کے لیے وقتی طورپر ضرور قرض لینا پڑے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرضے چاہے آئی ایم ایف سے لیے جائیں یا پھر چین سے یا کسی اور ملک سے،قرضوں سے ملک ہمیشہ تباہ ہوتے ہیں اور ان کی سلامتی مسلسل خطرات میں گھرتی چلی جاتی ہے۔چنانچہ قرضوں کے سہارے وقتی طورپر عوام کو خوشحالی کے خواب دکھانے والے بہت سے افریقی ملک آج عملاًآئی ایم ایف اور دیگر قرض خواہوں کے غلام بنے ہوئے ہیں۔پاکستان اگرچہ دفاعی لحاظ سے مضبوط ہے،مگر 91ارب ڈالرز سے زائد کے بیرونی قرضوں سے پاکستان کی آزادی،خودمختاری اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔چنانچہ ایک طرف پاکستان کی نااہل اور غیرذمہ دارحکومتوں نے آئی ایم ایف سے بے تحاشا قرضہ لیا،دوسری طرف گزشتہ 5سالوں میں آئی ایم ایف کے بعد چین سے لگ بھگ 19 ارب ڈالرز کا قرضہ لے لیا گیا۔چین اگرچہ پاکستان کا بہترین دوست ہے اور سی پیک جیسے تاریخی منصوبے پرپاکستان کا تعاون کررہاہے،لیکن چینی قرضے آئی ایم ایف سے زیادہ خطرناک ہیں۔ چینی قرضوں کے خوفناک خطرات سے پہلے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کی تاریخ کا مختصر جائزہ لے لیا جائے تو حقائق سمجھنا زیادہ آسان ہوگا۔

پاکستان اور چین کے باہمی تعلقات 1950 ء سے قائم ہیں۔پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جس نے چین کو سب سے پہلے آزاد ملک تسلیم کیا۔چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات 1951ء میں شروع ہوئے۔1956ء میں پہلی بار پاکستان کے

وزیراعظم حسین شہید سہروردی چین کے دورے پر گئے ۔اس دوران دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے پہلی بار دونوں ملکوں کے درمیان دوستی معاہدے پر دستخط کیے۔بعدازاں دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بڑھتے رہے۔قراقرم ہائی وے سے لے کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام سمیت دفاعی ، معاشی اور خارجہ امور میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کابھرپور ساتھ دیا۔چنانچہ پاکستان نے چین اور امریکا کے تعلقات میں اہم کردار ادا کیا۔ 1970ء میں پہلی بار امریکی صدر نکسن نے چین کا دورہ کیا جس کے لیے پاکستان نے پل کا کردار ادا کیا۔

سن 2002ء میں پہلی بار چین نے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر پورٹ بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔جس کا باقاعدہ آغاز 5جولائی 2013ء کو دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نے سی پیک معاہدے پردستخط کرکے کیا۔تقریباً62ارب ڈالرز کا سی پیک منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت مختلف منصوبوں کو2030 ء تک مکمل کیا جائے گا۔ان منصوبوں میں جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا اورگوادر سے کاشغر تک تقریباً 2442 کلومیٹر طویل راہداری بنانااورپاکستان میں توانائی،اورسڑکیں وغیرہ بنانا ہے۔دوسری طرف چین پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے مختلف اوقات میں قرضے بھی فراہم کرتارہاہے اور آئندہ بھی قرضے دینے کی حامی بھری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق چین پاکستان کو قرضے دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان پر واجب الادا 91ارب ڈالرزسے زائد بیرونی قرضوں میں 19ارب ڈالرز چین کا قرضہ ہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سال 2017ء کی رپورٹ کے مطابق چین کا پاکستان پر کل قرضہ 7.2ارب ڈالرز قرضہ تھا۔بعدازاں پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کو سنبھالنے کے لیے 1.2ارب ڈالرز کا قرضہ پاکستان کو دیا گیا۔رواں سال بھی پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر روکنے کے لیے چین نے 500ملین ڈالرز کا قرضہ پاکستان کو دیا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5سالوں میں چین سے 5ارب ڈالرز کا قرضہ لیا گیا۔جب کہ پرائیوٹ سیکٹرز میں چینی بنکوں سے لیا گیا قرضہ اس کے علاوہ ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ تجارت میں بھی پاکستان کو ہرسال اربوں ڈالرز کا خسارہ الگ برداشت کرنا پڑ رہاہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق چینی قرضوں میں شرح سود بہت زیادہ ہوتی ہے۔چین جہاں کہیں انویسمنٹ کرتاہے اس کا معاوضہ بروقت وصول کرتاہے۔چنانچہ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2024 ء تک پاکستان کو چین کی انویسمنٹ کے عوض 100ارب ڈالرز تک واپس کرنا پڑسکتے ہیں۔

چینی قرضوں کے حوالے سے دنیا بھر کے معاشی ماہرین ہمیشہ شکوک وشبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔چنانچہ بہت سے ممالک نے چینی قرضوں سے شروع کیے گئے منصوبوں کو روک دیا ہے۔جس کی ایک مثال نیپال ہے،جہاں چین نے ڈھائی ارب ڈالرز کے عوض ایک ڈیم بنانے کا معاہدہ کیا تھا،لیکن نیپالی حکومت نے اس معاہدے کو اس لیے ختم کردیا کہ اس سے نیپال کے مستقبل کو خطرہ لاحق تھا۔اسی طرح چینی قرضوں اور انویسمنٹ سے متاثر ہونے والے ممالک میں سری لنکا بھی ہے۔جہاں چین نے8ارب ڈالرز کا قرضہ 6فیصد شرح سود پر ہمبنٹوٹا نامی پورٹ بنانے کے لیے سری لنکن حکومت کودیا،مگر2016ء میں سری لنکن حکومت چینی قرضہ واپس نہ کرسکی تو بدلے میں چین نے سری لنکا کی ہمبنٹوٹا نامی پورٹ 99سال کے لیے چین سے لے کر بحیرہ عرب میں اجارہ داری قائم کرلی۔اسی طرح کرغیستان کو چین نے قرضہ دیا تو کرغیستان حکومت پر قرضہ جی ڈی پی کا70فیصد تک بڑھ گیا جس میں چین کا قرضہ 37سے 60فیصد بنتاہے۔2011ء میں تاجکستان حکومت سے چین نے جب اپنے قرضے کا مطالبہ کیا تو تاجکستا ن حکومت نے بدلے میں 1ہزار 1سو58کلومیٹرز زمین چین کے حوالے کردی جو چین کی مانگی گئی زمین کا صرف 5فیصد تھا۔اسی طرح وینزویلا میں چین نے 2008 ء سے 2014ء تک 52ارب ڈالرز انویسمنٹ کی۔وینزویلا کی حکومت جب یہ رقم واپس نہ کرسکی تو چین نے وینزیلا سے لاکھوں بیرل تیل سستے داموں خریدا۔

مختلف ملکوں میں چینی قرضوں سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر معاشی ماہرین پاکستان کو بھی چینی قرضوں سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔انتخابات2018ء کے بعد پاکستان میں بننے والی آئندہ حکومت کو معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔ان چیلنجز سے نکلنے کے لیے چین نے پاکستان کو2ارب ڈالرز قرضے دینے کی آفر کی ہے ۔اگر پاکستان نے آئی ایم ایف کی طرح چین سے بھی مزید قرضے لینا شروع کردیے تو نہ صرف پاکستان کی معیشت کونقصان پہنچے گا بلکہ پاکستان کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ا س لیے آئندہ حکومت کو نہ صرف چین بلکہ آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانے سے پہلے متبادل معاشی ذرائع پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔اگر آئندہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف اور چین وغیرہ سے قرضے لے کر ملک چلائے گی تو پاکستان مکمل طور پر دیوالیہ ہوجائے گا۔چنانچہ مارچ 2018ء میں آئی ایم ایف ہی نے دعوی کیا تھا کہ جون2019ء تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 103 ارب ڈالرز جب کہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق2023 ء تک 144ارب ڈالرز تک پہنچ سکتاہے۔گزشتہ تین ماہ سے جاری خسارے،بیرونی ذخائر میں مسلسل کمی اور قرضوں کے بے تحاشابوجھ کی وجہ سے جی ڈی پی اورقرضوں میں بہت بڑا 144گیپ آچکاہے۔قرضے اگر جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زائد ہوجائیں تو وہ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہوتے ہیں۔جب کہ پاکستان پر قرضے جی ڈی پی کے ستر فیصد کو کراس کرچکے ہیں۔مزید قرضوں سے پاکستان کی معیشت کا کیابراحال ہوگا اس کا اندازہ ہرپاکستانی اچھی طرح لگاسکتاہے۔


ای پیپر