الیکشن کی ٹینشن۔۔۔
02 اگست 2018 2018-08-02

دوستو، الیکشن کی ٹینشن ختم، نتائج بھی آگئے۔۔ حکومت سازی کے لئے جوڑتوڑ کا سلسلہ زوروشور سے جاری ہے۔۔ مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے لئے ایک ’’نااہل‘‘ سارے ’’اہل‘‘ جہاز میں بھربھر کر بنی گالہ پہنچارہا ہے۔۔ ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں، یہ پہلی حکومت بنے گی جو ’’ڈیزل‘‘ کے بغیر چلے گی۔۔ایک طرف دھاندلی ،دھاندلی کا شور مچا ہوا ہے تو دوسری طرف ’’نگران‘‘ کہتے ہیں کہ الیکشن بالکل صاف و شفاف ہوئے ہیں۔۔اور یہ حقیقت بھی ہے کہ الیکشن اتنے صاف اور شفاف ہوئے ہیں کہ ڈٹرجنٹ پاؤڈر بنانے والی چار بڑی کمپنیوں نے اس کا ’’فارمولہ‘‘ مانگ لیا۔۔رہی بات دھاندلی کی تو دھاندلی کا شور وہی مچارہے ہیں جنہیں ’’دھاندلی‘‘ کا موقع نہیں ملا۔۔آثار یہی بتارہے ہیں کہ وزیراعظم اس بار کپتان بنیں گے۔۔ لیکن اب عمران خان اور ان کی اہلیہ دونوں یہ سوچ رہے ہیں کہ وزیراعظم بننے کے بعد رہنا کہاں ہے؟ کیوں کہ جو وزیراعظم ہاؤس میں رہتا ہے وہاں کوئی اپنی مدت پوری نہیں کرتا اور بنی گالہ میں کوئی بیوی مدت پوری نہیں کرتی۔۔ ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں،عمران خان صاحب کی 22 سال خَجّل خواری اور پھر کامیابی دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ کامیابی بیوی کو پِیر و مْرشد مان کرہی ملتی ھے۔۔

ماحول چونکہ سیاسی بناہوا ہے اس لئے آج کچھ باتیں سیاست پر ہی کرنے کا موڈ ہے۔۔ پرانے وقتوں کی بات ہے کسی گاؤں میں ایک سیانابندہ رہتاتھا، جس کاکام تھا کہ لوگوں کو روزانہ تاریخ بتاتاتھا، اس وقت کیلنڈر وغیرہ توہوتے نہیں تھے۔ باباجی نے ایک برتن اور بکری کی تیس مینگنیاں رکھی ہوئی تھیں،روززانہ اس برتن میں ایک مینگنی ڈال دیتا، پھرجب کوئی تاریخ پوچھتا تو میگنیاں گن کرتاریخ بتادیتا۔۔ ایک دن ایساہوا کہ بکری نے اس برتن میں براہ راست مینگنیاں کردیں،جب ایک آدمی نے تاریخ پوچھی ،بابا جی حسب سابق اندرگئے ،گنتی کی اورپسینے میں شرابور باہر نکلے، فرمانے لگے۔۔ آج 82تاریخ ہے لوگ سن کرحیران رہ گئے ۔۔کہنے لگے بابا جی مہینہ تیس یا اکتیس دن کا ہوتا ہے آپ بیاسی تاریخ بتارہے ہیں،یہ کیسے ممکن ہے؟ ۔۔ بابا جی مغموم لہجے میں فرمانے لگے۔۔پُتر،یہ تو پھربھی میں نے بہت رعایت کی ہے ورنہ اصل گنتی کے اعتبار سے تو آج ایک سونوے تاریخ بنتی ہے۔۔

واقعہ کی دُم: مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، مجلس عمل اور دیگر جماعتیں شکراداکریں کہ الیکشن کمیشن کے باباجی نے رعایت کردی،ورنہ پی ٹی آئی کی اصل نشستیں تو پانچ سو سے بھی زائد بنتی ہیں،جتنی بڑی بکری نے مینگنیاں کی ہیں،اس حساب سے پی ٹی آئی کی ایک سو سولہ نشستوں پر بھی اظہارتشکر بنتا ہے۔

اب ایک اور واقعہ سنیں، کسی گاؤں کا درزی عید سے پہلے سارے کپڑے لے کر بھاگ گیا۔۔ لوگ اس کی دکان کے باہر کھڑے ہوکر اپنا اپنا نقصان گنوانے لگے۔ایک میراثی نے تو اودھم مچا ی، زمین پر لوٹتے ہوئے وہ رونے چلّانے لگا۔ لوگ پریشان ہوئے بھئی ایسا کیا نقصان ہوا؟ شاید درزی اس کی کوئی بہت قیمتی چیز لے اڑا ہو۔ سب نے تسلی دی پھر اس سے رونے کی وجہ پوچھی تو میراثی نے بتایا کہ درزی اس کا ناپ لے گیا ہے۔

واقعہ کی دُم: حالیہ الیکشن میں جن کے کپڑے چوری ہوئے وہ ابھی سوچ ہی رہے ہیں مگر’’ناپ‘‘ والوں نے پٹ سیاپا ڈالا ہوا ہے۔

جغرافیہ کی کلاس میں چھٹے میاں صاحب کو استاد نے کہا، شہباز نقشے میں امریکا کہاں ہے؟ انگلی رکھ کر دکھاؤ۔۔شہبازاعتمادسے گیا اور نقشے میں جہاں امریکاتھا وہاں انگلی رکھ دی، استاد جی نے شاباش دی پھر باقی کلاس سے پوچھا، بتاؤ بچو، امریکا کس نے دریافت کیا؟۔۔ بچے یک زبان ہوکر بولے، شہبازشریف نے۔۔بالکل اسی طرح الیکشن سے قبل ایک جلسے میں شہبازشریف نے شرکاسے پوچھا، بتاؤ ایٹم بم کس نے بنایا؟ پھر خود ہی جواب بھی دے دیا۔۔میاں نوازشریف نے۔۔اس لئے کہاجاتا ہے ترقی کرنی ہے تو تعلیم کی بنیادیں درست کرو۔۔ایک شخص نے کچھ دوستوں کو دعوت پہ بلایا۔ جب سب مہمان دستر خوان پر بیٹھ چکے تو اس نے نوکر کو الگ لے جا کر حکم دیا کہ سب کے جوتے بازار میں چپکے سے لے جا کر بیچ دے اور اس رقم سے کھانا خرید لائے۔نوکر نے حکم کی تعمیل کی ،لوگوں کے سامنے جب کھانا آیاتو انہوں نے تعریفوں کے پُل باندھنا شروع کردیئے،وہ شخص ہنستاجاتا تھااور کہتا تھا، حضور بھلا میں کس لائق ہوں،یہ سب آپ کی ہی جوتیوں کا صدقہ ھے۔ جب کھانا ختم ہوا اور مہمان جانے لگے تو انہیں اپنے جوتے غائب ملے۔۔اس ستم ظریف نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا،بھائی میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ سب آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔۔کچھ ایسا ہی ہماری ہی جوتیوں کا صدقہ ہمارے حکمران ہمارے منہ پہ مارتے ہیں۔ ہمارے ہی ٹیکسوں کے پیسے سے سڑکیں، اسپتال، موٹروے، پُل، میٹرومنصوبے بناتے ہیں ،پھر اس کااحسان ہم پہ ایسے چڑھاتے ہیں جیسے انہوں نے اپنے ’’کھیسے‘‘ سے یہ سب بنوایا۔۔

الیکشن میں فتح کے بعد خان صاحب نے شاندار اور جاندار تقریر کی ، جس کی مخالفین نے بھی تعریف کی ۔۔اس تقریر پر تبصرے سے پہلے صرف یہ واقعہ سن لیں پھر جو نتیجہ اخذ کرنا چاہیں آپ کی مرضی۔۔ایک سردار جی کی منگنی لکھنومیں ہوئی تھی ،بارات جانے سے پہلے ماں نے سمجھایا۔۔ بیٹا لکھنؤ کے لوگ بہت مہذب ہوتے ہیں۔ کوئی ایسی بات نہ کرنا جس سے جٹوں کی بدنامی ہو۔ سردارجی نے فرمانبرداری سے پوچھا۔ ماں جی، میں کرنا کی اے؟ماں بولی، بیٹا جب سسر ملنے کو آئے تو کہنا، ابا حضور آداب۔ ساس ملے تو کہنا، امی حضور آداب۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا۔ چھوٹے چھوٹے نوالے لینا اور پلیٹ میں بالکل تھوڑا کھانا ڈالنا۔ ایک اہم بات۔ لکھنؤ کے لوگ کھیر کو سویٹ ڈش کہتے ہیں، تم بھی سویٹ ڈش ہی کہنا۔بارات لکھنؤ پہنچی۔ سسر آیا تو دولھا بولا، ابا حضور آداب۔ سسر بہت خوش ہوا اور بولا، کتنا مہذب ہے ہمارا بیٹا۔ جب ساس سے کہا، امی حضور آداب تو وہ بھی بہت خوش ہوئی۔ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے اور آدابِ تناول پر میزبان عش عش کر اٹھے۔سسر سے نہ رہا گیا اور بولا۔۔ بھئی ہم نے تو سنا تھا کہ سکھ لوگ بس گنوار ہی ہوا کرتے ہیں، مگر تم نے ثابت کیا کہ ہمارا بیٹا تو بہت ہی مہذب ہے۔ سردارجی جذباتی انداز میں بولا۔۔ اووووئے ماں دیو دینیو، ہجے تْسی تہذیب ویکھی کتھے وے۔ ڈیلے تے تھواڈے اودوں پاٹنے نیں، جدوں میں کھیر نوں سویٹ ڈش آکھاں گا۔ ۔

اوٹ پٹانگ باتیں اپنی جگہ، پی ٹی آئی کی پوری ٹیم کو مبارکباد،اس امید پر کہ انشااللہ پاکستان ترقی کرے گا، بہت اچھا ہوا،اب ہمارا وزیراعظم بھی سائیکل پر آفس جائے گا۔اب قومی زبان اردو اور یکساں نظام تعلیم ہوگا۔اب کوئی بے روزگار نہیں ہوگا۔اب میرا ملک قرضہ نہیں لے گا۔اب ہم عافیہ صدیقی کو واپس لے آئیں گے۔اب کلبھوشن یادیو بھی پھانسی چڑھے گا۔اب مقابلے کا امتحان اردو میں ہو گا۔اب صرف امیر ٹیکس دے گا اور غریب کھائے گا۔اب بچے صرف سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے اور پرائیوٹ سکولوں کو تالے لگیں گے۔اب عالمی معیار کی یونیورسٹیاں بنیں گی۔اب کوئی بیمار بغیر علاج کے نہیں رہے گا۔ اب پوری دنیا ہمیں ڈالروں کے بدلے ماں بیچنے والے نہیں کہیں گے۔اب غیر ملکی پاکستانی ویزے اپلائی کریں گے۔اب پاکستان مدینے کی طرح کی ریاست بنے گا۔اب انڈیاہمارے کسی ایک فوجی کوبارڈرپر مار کر تو دیکھے۔اب غیر ملکی ہوائی اڈے پر ہمارے ملک کے وزیراعظم کا استقبال ملک کا سربراہ ہی کریگا۔اب ہمارے وزیراعظم اپنی مدت پوری کرینگے۔اللہ کرے یہ سب خواب ثابت نہ ہو، حقیقت کا روپ دھارے، آمین۔


ای پیپر