دستور کے مطابق وفاقی حکومت کی تشکیل کس طر ح کی جاتی ہے

02 اگست 2018

اصغر خان عسکری

ملک میں 25 جولائی کو ہونے والے قومی انتخابات کے بعد وفاق اور تین صوبوں میں حکومت سازی کے لئے جوڑ تو ڑ کا سلسلہ عروج پر ہے ۔انتخابی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اکثریت حا صل ہے ،لیکن وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اکیلے حکومت بنا سکے۔مرکز میں حکومت سازی کے لئے تحریک انصاف کو دیگر سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی تائید درکار ہے ،جس کے لئے جہانگیر ترین بھرپور اور سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کو واضح بر تری حا صل ہے ۔پنجاب میں کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حا صل نہیں ،اس لئے حکومت سازی کے لئے سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں مقابلہ ہے ۔بلو چستان میں بلو چستان عوامی پارٹی(باپ) اور تحریک انصاف نے مل کر حکومت سازی کا فیصلہ کیا ہے ،جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ دستور میں وفاق میں حکومت سازی کا طریقہ کارکس طر ح بیا ن کیا گیا ہے ۔اس کا اجمالی خاکہ کچھ یوں ہے ۔
وفاقی حکومت کیا ہے :(Federal Government)
دستور کی دفعہ 90 کی ذیلی شق 1 کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے وفاق کا عاملانہ اختیار صدر کے نام سے استعمال کیا جائے گا،جو وزیر اعظم اور وفاقی وزراء پر مشتمل ہو گا،جو وزیر اعظم کے ذریعے کام کر یں گے جوکہ وفاق کا چیف ایگز یکٹیو ہو گا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا:(National Assembly Meeting)
دستور پاکستان کی دفعہ 91 کی ذیلی شق 2 کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس عام انتخابات کے انعقاد کے بعد اکیسویں دن ہو گا، تا وقتیکہ اس سے پہلے صدر اجلاس طلب نہ کر لے۔ دستور کے مطابق اب ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس 16 اگست سے پہلے بلایا جائے۔ جس میں تمام ارکان حلف لیں گے۔ اس کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی ااسپیکر کا انتخاب ہو گا۔
وزیر اعظم کا انتخاب :(Prime Minister Election)
آئین کی دفعہ91 کی ذیلی شق 3 کے مطابق اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن کے بعد ، قومی اسمبلی ،کسی بھی دوسری کارروائی کو چھوڑ کر ،کسی بحث کے بغیر ،اپنے مسلم اراکین میں سے ایک کا وزیر اعظم کے طور پر انتخاب کرے گی۔دفعہ 91 کی ذیلی شق 4 کے تحت وزیر اعظم قومی اسمبلی کے کل ارکین کی تعداد کی اکثریت رائے دہی کے زریعے نامزد کیا جائے گا۔مگر شرط یہ ہے کہ،اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں مذکورہ اکثریت حا صل نہ کر سکے تو،پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حا صل کر نے والے دو اراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود اراکین کی اکثریت رائے دہی حا صل کرلیتا ہے اس کا منتخب وزیر اعظم کے طور پر اعلان کیا جائے گا۔مزید شرط یہ ہے کہ اگر دو یا اس سے زائد اراکین کی جانب سے حا صل کر دہ ووٹ کی تعداد مساوی ہو جائے تو ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا،تا وقتیکہ ان میں کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حا صل نہ کر لے۔جو بھی رکن اکثریت حا صل کریگا صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالے کی دعوت دی جائے گی اور وہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے دستور کی جدول 3 میں بیان کردہ طر یقہ کار میں صدر کے روبرو حلف اٹھا ئے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے لئے میعاد کی تعداد پر پابندی نہیں ہوگی۔
وزیر اعظم کا عہدے پر فائز رہنا:
آئین کی دفعہ 91 کی ذیلی شق 7 کے مطابق وزیر اعظم صدر کی خو شنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا،لیکن صدر اس شق کے تحت اپنے اختیارات استعمال نہیں کرے گا،تا وقتیکہ اسے یہ اطمینان نہ ہو کہ وزیر اعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حا صل نہیں ہے ،جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کو طلب کر یگا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حا صل کرنے کا حکم دے گا۔
وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ:(Vote of No-Confidence)
دستور کی دفعہ 95 کی ذیلی شق 1 کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی قرارداد جسے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم 20 فیصد نے پیش کیا ہو،قومی اسمبلی کی طرف سے منظور کی جا سکے گی۔عدم اعتماد کی کسی بھی قرارداد پر اس دن سے تین دن کی مدت کے خا تمے سے پہلے یا سات دن کے بعد ووٹ نہیں لئے جائیں گے جس دن مذکورہ قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہو۔اسی طر ح عدم اعتماد کا قرارداد قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جائے گا،جب قومی اسمبلی سالانہ میزانیہ کے کیفیت نامے میں پیش کردہ رقوم کے مطالبات پر غور کررہی ہو۔اسی طر ح اگر قرار داد کو قومی اسمبلی کی اکثریت سے منظور کرلیا جائے گا تو وزیراعظم عہدے پر فائز نہیں رہے گا۔
وفاقی کا بینہ:(Federal Cabinet)
دستور کی دفعہ 92کی ذیلی شق 1 کے مطابق صدر وزیر اعظم کے مشورے پر مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ) کے ارکان میں سے وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کا تقرر کرے گا۔مگر شرط یہ ہے کہ ان وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کی تعداد جو سینٹ کے رکن ہوں کسی بھی وقت وفاقی وزراء کی ایک چوتھائی تعداد سے زیادہ نہیں ہو گی۔مزید شرط یہ ہے کہ کا بینہ کی کل تعداد ،بشمول وزرائے مملکت ،مجلس شوریٰ(پارلیمنٹ ) کے مجموعی ارکان کے گیارہ فیصد سے زائد نہیں ہو گی۔
مشیران:(Advisers)
آئین کی دفعہ 93 کی ذیلی شق 1 کے مطابق صدر وزیر اعظم کے مشورے پر،ایسی شرائط پر جو وہ متعین کرے،زیادہ سے زیادہ پانچ مشیر مقرر کر سکے گا۔آئین کی آرٹیکل 57 کا اطلاق مشیر پر بھی ہوگا۔جس کے مطابق وزیر اعظم کسی مشیر کو ایوان یا ان کے کسی مشترکہ اجلاس یا ان کی کمیٹی میں جس کا اسے رکن نامز کر دیا جائے گا،تقریر کرنے اور بصورت دیگر اس کی کارروائی میں حصہ لینے کا حق ہو گا،لیکن اس آرٹیکل کی بنا پر وہ ووٹ دینے کا حق دار نہیں ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قومی انتخابات کے بعد اکیس دنوں میں اسمبلی کا اجلاس بلانا آئینی تقاضا ہے ۔
آئین کے مطابق اکثریتی رکن وزیراعظم منتخب ہو گا۔
وفاقی کابینہ کی کل تعداد مجلس شوریٰ کے مجموعی ارکان کے گیارہ فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔
وفاقی کابینہ میں سینٹ کے ارکان کی تعداد وزراء کی ایک چوتھا ئی سے زائد نہیں ہو گی۔
وزیر اعظم کو پانچ مشیر مقرر کرنے کا بھی اختیار ہے ۔

مزیدخبریں