دھاندلی اور سٹیٹس کو کی جماعتیں
02 اگست 2018 2018-08-02

اس وقت ملک کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے اور اسے اندرونی و بیرونی سازشوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں انتخابات اور اداروں کو متنازعہ بنا کر حالات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن اور اور نگران انتظامیہ نے انتخابات کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے ایسے میں سیاسی جماعتوں کو مفروضات پر الزامات لگانے سے گریز کرنا چاہئے۔ موجودہ انتخابات کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ خارجہ امور اور دیگر معاملات پر اب سے پہلے سیاسی و عسکری قیادت متفقہ اور ٹھوس ؤوقف پیش کرنے سے قاصر تھی جس سے دنیا کو یہ تاثر جا رہا تھا کہ ملک میں دو متوازی حکومتیں قائم ہیں جن کے مابین اختیارات کی جنگ جاری ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی بیان بازی کئی معاملات میں حد سے زیادہ بڑھ گئی جس سے ہمارے قومی اہمیت کے اداروں پر ساری دنیا انگلیاں اٹھانے لگ پڑی۔ نہ صرف میاں نواز شریف صاحب کے دورِ اقتدار میں بلکہ ان کے وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے فارغ ہونے کے بعد ڈان اخبار کو دئے گئے انٹرویو کی وجہ سے پاکستان کو بہت سے بین الاقوامی فورموں پر مشکلات اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کئی معاملات میں پیچیدگیاں بہت بڑھ گئیں۔ ایک وقت میں صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی تھی کہ عام آدمی کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس طرح کی غیر ضروری بیان بازی جس سے پاکستان کے عالمی وقار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے کی کیا ضرورت ہے اور یہ کس کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہے۔

حالیہ انتخابات میں تیکنیکی وجوہات کی بناء بروقت نتائج نہ دئے جانے کو بنیاد بنا کر دھاندلی کا واویلہ کیا جا رہا ہے اور افسانے گڑھ کر قومی اہمیت کے اداروں پر جانبداری کے بلا جواز الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ تحریکِ انصاف کو برتری کسی فوجی نے نہیں عوام نے اپنے آزادانہ ووٹوں سے دی ہے۔ انتخابات ہوئے سب جماعتوں نے حصہ لیا اپنی بساط کے مطابق انتخابی مہم چلائی اور عوام نے جس کو جس قابل سمجھا اس کو اتنے ووٹ دے دئیے، قومی سطح پر تحریکِ انصاف کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ تحریکِ انصاف کو عوام کی جانب سے ووٹ دئیے جانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی قیادت نے ملک کے کرپٹ نظام کو تبدیل کرنے کی نوید دی ہے اور اس نوید نے عوام کو عمران خان کا گرویدہ بنا دیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت نے اس قدر شور شرابے سے ملک میں چہروں کی تبدیلی کے منافقانہ کھیل کو ختم کر کے نظام کی تبدیلی کا نعرہ نہیں لگایا اور اس نعرے نے کراچی سے پشاور تک عوام کو متحرک کر کے بیدار کر دیا۔ اگر اس بیداری کو عقل و فہم ، منصوبہ بندی اور ؤوثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کیا گیا تو کوئی طاقت تبدیلی کو نہیں روک سکتی۔ تحریکِ انصاف کی ساری جد و جہد بظاہر اسٹیٹس کو توڑنے کے لئے ہے، عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسرِ اقتدار آ کر اسٹیٹس کو کی تمام قوتوں کو شکست دیں گے اور ملک میں کسانوں کی بہبود، کھربوں روپے کی لوٹ مار کا احتساب، انتخابی اصلاحات، بلدیاتی سسٹم کی ترقی اور موروثی سیاست کے خاتمے کے لئے کام کریں گے، یہی اسٹیٹس کو کے عناصرِ ترکیبی ہیں ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کی حامی جماعتیں ایک طرف کھڑی دھاندلی کا شور ڈال رہی ہیں جب کہ اسٹیٹس کو توڑنے کی حامی جماعت عمران خان کی قیادت میں حکومت بنانے کے لئے تیار ہے۔ یہی صورتحال 2013ء کے انتخابات کے بعد عمران خان کی دھاندلی کے خلاف شروع کی گئی تحریک میں بھی تھی جب تحریکِ انصاف ایک طرف تھی اور باقی تمام اسٹیٹس کو کی حامی جماعتیں حکومت کی سر پرستی میں ایک طرف کھڑی تھیں۔ ان انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام کی اکثریت اسٹیٹس کی حامی نہیں ہیں۔ یہ ایک منطقی بات ہے کہ 70سال سے طبقاتی استحصال، حکمران طبقات کی لوٹ مار، مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، امن و امان اور جرائم سے تنگ آئے ہوئے عوام ہر قیمت پر اس عوام دشمن سسٹم کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں معاشی انصاف، مساوات اور دولت کی منصفانہ تقسیم چاہتے ہیں۔ مختلف النوع سیاسی نظریات کی حامل سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو جاتی ہیں جہاں اپنے اپنے مقاصد، اہداف اور مفادات سامنے رکھتے ہوئے کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولے کے تحت حکومتی میز پر سب اتحادیوں کے حصے لگا دئیے جاتے ہیں۔ چونکہ عمران خان نے اس پورے استحصالی سیٹ اپ کو توڑنے کی بات کی ہے لہٰذا عوام کا سمندر عمران خان کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا کردار کوئی واضح نہیں رہا ہے یہ جماعتیں دیگر معاملات پر تو شور مچاتی رہی ہیں مگر انہوں نے اسٹیٹس کو توڑنے کی بات اس شد و مد سے نہیں کی ۔ انہوں نے نہ تو اصولوں کی پاسداری کے لئے کبھی حکومت پر دباؤ ڈالا اور نہ خود ان اصولوں کو سمجھنے اور اپنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی ۔ اس صورتحال کا ایک سبب فیوڈل ذہنیت بھی ہے، جو سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو اقتدار و اختیار کی مرکزیت قائم کرنے پر اکساتی ہے اور بہتری کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ایک بد ترین جرم ہے اور اس کے خلاف سیاست دانوں کو اٹھ کھڑے ہونا چاہئے لیکن اس کا نتیجہ بحر حال تصادم کی شکل میں نکلے گا اور جب کہ عمران خان نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اپوزیشن کے ساتھ مل کر دھاندلی کی تحقیقات کریں گے اور اپوزیشن جتنے حلقے چاہے گی وہ کھلوا دیں گے تو تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ عملی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی عمل کو آگے بڑھنے دیں۔ مہذب دنیا میں یہ عمل حیران کن نہیں ہوتا وہاں جمہوری عمل کا تسلسل قائم رہتا ہے اور اقتدار پر امن طور پر عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل ہوتا رہتا ہے۔ آج جب کہ فوج اقتدار سے دور ہے اور دو سویلین حکومتیں اپنے دورِ اقتدار پورا کر کے ماضی کا حصہ بن چکی ہیں اور ایک پارٹی اقتدار میں آنے کے لئے تیار ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو چاہئے کہ وہ فوج کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ فوج اس وقت بہت سے اندرونی اور بیرونی محاذوں پر سرگرمِ عمل ہے ۔ خدا نخواستہ یہی صورتحال رہی تو پھر اس کا آخری انجام تیسری قوت کی آمد کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے، 1968ء اور 1977ء میں اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ پاکستان ان دنوں سنگین معاشی بحران کے دور سے گزر رہا ہے۔ معیشت کی شرح نمو خطے میں سب سے کم ہے، اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری میں زیادہ سر گرمی نظر نہیں آتی۔ بجٹ اور بیرونی تجارت کا خسارہ بہت بڑھ گیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ توانائی کا شدید بحران بھی موجود ہے۔ ایسے اور بھی کئی عوامل ہیں جو کسی بھی طرح کی بھی انارکی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔


ای پیپر