عمران خان صاحب کے وعدے اور حقائق کی دنیا
02 اگست 2018 2018-08-02

فلسفے کے معلم اول افلاطون نے ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا جسے یوٹوپیا کہا جاتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ افلاطون کی یوٹوپیا میں ریاست کا تصور اتنا عظیم الشان ہے کہ اس پر فلسفہ کی زبان میں کوئی عقلی اشکال نہیں کیا جا سکتا مگر یہ ریاست آج تک کسی بھی خطہ زمین پر وجود میں نہیں آ سکی۔کیا وجہ ہے کہ یہ ریاست ہزاروں سال گذرنے کے باوجود آج تک قائم نہ ہو سکی؟ اس کے جواب میں اہل فلسفہ کہتے ہیں کہ اس کا زمینی حقائق سے کوسوں دور ہو کر فقط و فقط اعلی و ارفع ہونا ہی اس کی آج تک وجود میں نہ آنے کا باعث بنا ہے۔اس لیے ماہرین اسے فقط ذہنی عیاشی کے طور پر ڈسکس ضرور کرتے ہیں مگر اس کو قائم کرنے کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کرتا۔

اپوزیشن کرنا بہت آسان ہوتا ہے اخبار سے ایک خبر پڑھی اور الزام دھر دیا، اب تو خیر اخبار پڑھنے کا کا تکلف بھی ختم ہو گیا ہے کہ اہل سیاست کے پاس پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا بس سوشل میڈیا پر خبر دیکھی اور بیان دھر دیا کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے یا حکومت نااہل ثابت ہوئی ہے،اب حکومت کا کام ہوتا ہے کہ وہ اس کی وضاحتیں دیتی رہے۔ عمران خان صاحب نے یہ کام خوب کیا بلکہ اس میں کئی نئے ٹرینڈ سیٹ کیے۔ابھی عمران خان صاحب کے سامنے سب سے بڑا چیلنج حکومت بنانے کا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی یہ شدید خواہش ہے کہ مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی حکومت بنائے ظاہری طور پر یہ لگ رہا ہے کہ جہانگرین ترین صاحب کی مسلسل پروازیں اسے کامیابی کے قریب لے آئی ہیں۔جس طرح سے آزاد امیدواروں کی خرید و فروخت ہوئی اب مستقبل کی سیاست میں چھانگا مانگا کی جگہ جہانگرین ترین کے جہاز کی مثال دی جائے گی۔ عمران خان صاحب ماضی میں یہ کہتے رہے ہیں کہ آزاد امیدوار پیسہ خرچ کر کے جیت جاتے ہیں اور پھر سیاسی جماعتوں سے اس کی قیمت وصول کرتے ہیں اور ان میں شامل ہو جاتے ہیں میں کبھی بھی ان کی خرید و فروخت نہیں کروں گا۔ عمران خان صاحب آزاد اراکین کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے کیونکہ ان کے بغیر نہ وہ مرکز میں حکومت بنا سکتے ہیں اور نہ ہی پنجاب میں حکومت بنا سکتے ہیں۔ بائیس سال کی محنت کے بعد اگر کوئی سیاسی جماعت نمبر گیم میں اتنی ہی دوری پر ہو جتنی پر آج تحریک انصاف ہے تو وہ ضرور اسی طرح کرتی جس طرح پی ٹی آئی نے کیا۔یہ عملی طور پر بہت کڑوے گھونٹ ہیں کہ جن کو کل تک ڈاکو اور قاتل کہا جائے آج انہی سے ہاتھ ملانا پڑ رہا ہے۔

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ۱۹۹۳ کے انتخابات آخری انتخابات تھے جن میں انڈیا کی مخالفت پر کمپین چلائی گئی تھی اس کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے سب میں پاکستان کے مقامی مسائل پر ہی بات ہوئی اور تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے ملکی مسائل کو ترجیح دی۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہر سیاسی جماعت نے مسئلہ کشمیر کو بہت اہمیت دی ہے۔پچھلے پانچ سال عمران خان صاحب اپنی تقریروں میں پوری شدو مد کے ساتھ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو مودی کا یار کہتے رہے اور پی ٹی آئی کے اجتماعات میں یہ نعرہ بڑی شدو مد سے لگایا جاتا رہا کہ انڈیا کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے،اسی طرح عمران خان نے الیکشن والے دن جو گفتگو کی اس میں بھی نواز شریف کی انڈین پالیسی کونشانہ بنایا تاکہ ہند مخالف لوگوں کا ووٹ حاصل کیا جا سکے۔محترم عمران خان نے الیکشن جیتنے کے بعد وکٹری سپیچ کی اس میں بڑے واضح انداز میں انڈیا کو دوستی کی دعوت اور کہا کہ اگر انڈیا ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔ یہ بالکل درست اپروچ ہے اور ہمیں اسی جذبے کے ساتھ ہمسائیوں سے امن کی بات کرنی چاہیے،ابھی ایک اور چیز سامنے آ رہی ہے کہ عمران خان صاحب سارک ممالک کے سربراہوں کو دعوت دینے والے کہ وہ ان کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوں ،یہ بات پاکستان کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گی اور دنیا کو ایک بدلتے پاکستان کا پیغام دے گی۔یہ تبدیلی بہت اچھی ہے لیکن اسی خواہش پر آپ پچھلے وزیر اعظم کو جانے کیا کیا خطابات دیتے رہے ہیں؟؟؟زمینی حقائق یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس صرف ایک آپشن ہے اور وہ اپنے ہمسائیوں کے ساتھ اپنی پوری خارجہ پالیسی کو ری وزٹ کر کے امن و سلامتی پر مبنی بنانا ہو گا۔

پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بات کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال بیس لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے تب جا کر یہ وعدہ پورا ہو گا۔عملی طور پر اس کے لیے کتنی تیاری کی گئی ہے؟ جب ملکی خزانے میں صرف پندرہ ارب ڈالر موجود ہوں،ملکی کرنسی پندرہ سے بیس فیصد تک گر جائے ،سرمایہ کار مایوسی کا شکار ہو شکار ہو چکے ہوں،آپ کا ملک گرے لسٹ میں آ چکا ہو، بعض خبروں کے مطابق ویسٹرن یونین پاکستان میں براہ راست سروس بند کرنے والی ہو اس صورت حال میں اتنی سرمایہ کاری لانا جس سے بیس لاکھ سالانہ لوگ برسرروزگار ہو جائیں یقیناًایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔

جناب اسد عمر صاحب پچھلے پانچ سال حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے کہ حکومت آئل کی مصنوعات پر غیر ضروری ٹیکس لے رہی ہے اگر اسے ہٹا لیا جائے تو فی لیٹر پچیس سے تیس روپے تک کمی آ سکتی ہے۔آج کی خبر ہے کہ نگران حکومت نے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی سمری یہ کہہ کر مسترد کر دی ہے کہ اب یہ کام نئی حکومت کرے گی۔یہ بہت بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ جس طرح بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ابھی دو روپے پر لیٹر بڑھانے کی سمری مسترد ہوئی ہے نئی حکومت کےآنے تک اسے تین روپے پر لیٹر تیل کی قیمت بڑھانی پڑے گی یا اربوں روپے کی سبسٹڈی دینا پڑے گی جس کی اجازت موجودہ معاشی صورتحال نہیں دیتی۔اس طرح کے غیر مقبول فیصلے کرنا پڑیں گے اور اس پر اپوزیشن کی تنقید کے ساتھ ساتھ حکومت کو اس کے اپنے بیانات بھی سنوائے جاتے رہیں گے جو انہوں نے بطور اپوزیشن دیے تھے۔

اپنی پوری جدو جہد میں عمران ملکی قرضوں کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا جو یقیناًہیں اور قسمیں اٹھا اٹھا کر کہا کہ جب میں حکومت میں آوں تو قرض نہیں لوں گا۔اب عملی طور پر بہت گھمبیر صورت حال ہے نگران حکومت نے آنے والی حکومت کی عملی تائید سے کیونکہ انہوں کوئی احتجاج نہیں دو ارب ڈالر کا قرضہ چین سے لے لیا ہے۔ڈالر کا ایک دو دنوں میں چھ سات روپے نیچے آنا اسی پیسے کی برکات کی بدولت تھا۔اسد عمر صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی او رچارہ نہیں ہے اخبارات کے مطابق آئی ایم ایف سے بارہ ارب ڈالر کے بیل آوٹ پیکج کی بات چیت چل رہی ہے۔پہلے تو آئی ایم ایف سے کوئی بھی پیکج لینا امریکی کیمپ کا حصہ ہونے کی وجہ سے کافی آسان ہوا کرتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے ۔

جنوبی پنجاب کو پہلے سو دن میں صوبہ بنانے کا اعلان کیا گیاہے یہ بہت ہی آسان سا لگتا ہے مگر یہ بہت بڑا دستوری چیلنج ہے جس میں سینٹ میں نشستوں کی تعداد سے لیکر این ایف سی ایورڈ تک ہر وفاقی ادارے میں آئینی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔ میرے خیال میں عمران خان صاحب اب یوٹوپیا سے عملی ریاست کی طرف اپنے سفر کا مثبت آغاز کر چکے ہیں امید ہے یہ حکومت انہیں خیالی دعووں سے حقائق کی دنیا میں لے آئے گی جہاں بولنے سے پہلے تولنا پڑتا ہے۔


ای پیپر