نئی حکومت کے لیے توشۂ خاص
02 اگست 2018 2018-08-02

کسی دشتِ بے اماں میں طویل آبلہ پائی کے بعد کچھ لوگ کامرانی کی منزلوں پر فروکش ہو چکے اور بہت سے لوگ راندۂ دل ٹھہرا کر ناکامی کے تپتے ریگ زاروں کی طرف دھکیل دیے گئے، وقت کا چابک جب کسی کی پیٹھ پر پڑتا ہے تو پھر کسی بھی ہرجائی کی کبح ادائی اور بے وفائی کا گن گن کر حساب لیتا ہے، گزشتہ 70 سالہ تاریخ کے اوراق پر ہی طائرانہ نظر ڈال لیجیے کہ کیسے کیسے جاہ و جلال اور حسب و نسب سے لدے پھندے لوگ وزارتوں پر جلوہ افروز ہوئے اور پھر اپنے ہر ایک فرض منصبی کو یکسر فراموش کر کے محض اقتدار کو طول دینے کی گفتگو اور لوٹ مار کرنے کی جستجو میں مگن ہو گئے، آج کیسا کیسا کروفر اور طمطراق منوں مٹی تلے دب چکا مگر ان حکمرانوں کی نالائقی کے کتنے ہی گھاؤ آج بھی ترو تازہ ہیں۔

ان کا انجام تجھے یاد نہیں ہے شاید

اور بھی لوگ تھے جو خود کو خدا کہتے ہیں

نو منتخب نمائندوں کو مبارک باد کے ساتھ چند پندو نصائح کے لیے قلم کشائی کرنے چلا ہوں کہ بہرحال یہ پانچ سال بھی گزر جائیں گے اور اگر اس عرصے میں بنیادی فرائض اور ذمہ داریوں کو غفلت اور کوتاہی کی

گدڑی میں لپٹ کر کسی کو نے کھدرے میں رکھ دیا گیا تو پھر وقت کا تازیانہ تیارکھڑا ہے سب سے اول اور مقدم حرمت رسول اور ختم نبوتؐ ہے۔اس پر خفیف سی آنچ اور خراش کسی بھی مسلمان کیلئے انتہائی سوہانِ روح ہوتا ہے سو ایسے کسی وزیر شذیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو حرمت رسول اور ختم نبوت کے آئین میں ترمیم اور تبدیلی جیسی جسارتین کرے، منتخب اراکین اسمبلی کا فرض ہے پورے عزم باالجزم کے ساتھ اس آئین اور قانون کا ازسر نو اعادہ کر کے ساری دنیا کو یہ باور کرا دے کہ ختم نبوت کے مسئلے میں کسی بھی سطح پر ہیر پھیر اور چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔

ساری دنیا بخوبی جانتی ہے کہ دس لاکھ سے زائد جانیں قربان کر کے یہ ملک محض نظریاتی اساس پر حاصل کیا گیا مگر گزشتہ ادوار میں دو قومی نظریے کے ساتھ فریب کاری کی گئی، دو قومی نظریہ نہ صرف ہماری اصل میراث ہے بلکہ ہماری متاع گراں مایہ یہ بھی ہے ہماری طرز بودوباش سے لے کر نصاب تعلیم تک میں ہم نے دو قومی نظریے کو اختیار کرنا ہے، دو قومی نظریے کو گدلانے کا مقصد صرف اور صرف غداری کے سوا کچھ بھی نہیں لیا جائے گا، لہٰذا نو منتخب نمائندے دو قومی نظریے کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔

پانی کا مسئلہ پاکستان کے لیے موت و حیات کا روپ دھار چکا ہے اس کے لیے کھٹورپن پاکستانی قوم کیلئے بڑی جفاکاری ہے، ہمارا سارا پانی بھارتی ڈیموں کی حراست میں ہے، پانی کی آزادی کے لیے کشمیر کی آزادی ناگزیر ہے ، کشمیر سے بے اعتنائی پاکستان کے ساتھ بے وفائی

کے مترادف ہے اس لیے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کر کے اس کی آزادی کے لیے جدو جہد تیز کی جائے ، پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں پر داعش جیسی دہشت گرد تنظیمیں اپنے پنجے گاڑ چکی ہیں ، ان کی کمر توڑنا اور سرکوبی کرنا پاکستان کی سلامتی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان و احد اسلامی ایٹمی ملک ہے اس ملک کے تشخص اور وقار کو دنیا بھر میں تسلیم کروانا ہے، ہماری ہماری خودی پر کسی صورت آنچ نہیں آنی چاہیے ، امریکی ائیر پورٹس پر کپڑے اتروانا کسی بھی ایٹمی مملکت کے سربراہ کی تضحیک اور توہین کے مترادف ہے، غیر ملکی طاقتوں کے سامنے میاؤں میاؤں کرنے کی پالیسی ترک کر کے ساری دنیا میں پاکستان کو آزاد ، خود مختار اور باوقار طاقت کے طور پر پیش کیجیے کہ ہم واحد ایسی قوم ہیں جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں مگر اس کے باوجود عالمی طاقتیں ہماری قربانیوں پر پانی پھیرنے کے جتن کر رہی ہے چناں چہ 70 ہزار شہدا کے خون کو ساری دنیا کے سامنے رکھ کر یہ احساس اجاگر کرنا اشد ضروری ہے کہ اصل قربانیاں تو ہم نے دی ہیں۔

کرپشن کے درد بھرے ناسور کو کافور کرنا پاکستان کی بقاو سلامتی اور خوش حالی کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے، ذرا ہر سیاست دان اپنی اپنی سیاست کے مضافات میں جھانک کر جو مکانات عمل شروع ہوچکا ہے اس سے عبرت پکڑ کر اپنے اپنے کردار و عمل کو نزہت اور پاکیزگی کی راہ پر لے آئے۔

ناانصافی کے کوڑھ میں مبتلا لاکھوں لوگ انصاف کے حصول کے لیے عدالتوں میں کئی سالوں تک بھٹکتے رہتے ہیں یہاں ٹھاڈا مارتا ہے اور رونے میں بھی نہیں دیتا، یہاں کتنی ہی لڑکیوں کی بالیاں نوچ لی جاتی ہیں ، کتنی ہی معصوم چوڑیاں توڑ دی جاتی ہیں اور کتنی ہی ننھی کلیاں بھنبوڑ دی گئیں، کتنی ہی زینبوں اور مہوشوں کے وجود گھایل کر کے زیر خاک دفن کر دی گئیں ، قاتل دنذناتے ہیں، مقتول کے ورثاء انصاف کے حصول کے لیے آہ و بکا کرتے مر کھپ جاتے ہیں مگر انصاف چادر تان کر خراٹے لیتا سویا رہتا ہے، انصاف کو گہری نیند سے بیدار کر کے ہر چوکھٹ اور دہلیز تک پہنچانا منتخب نمائندوں کا فرض ہے ۔کہ اب لوگوں کا جینا اور سانس لینا بھی محال ہو چکا ہے۔

ہموار کھینچ کر کبھی دشوار کھینچ کر

تنگ آ چکا ہوں سانس لگا تار کھینچ کر

پاک فوج پاکستان کی محافظ ہے ، پاکستان کی حفاظت کے لیے ہزاروں فوجی جوان اپنی جاں سے گزر چکے ، قربانیوں کی بے مثال اور بے نظیر تاریخ رقم کرنے میں پاک فوج کا کوئی ثانی نہیں، اغیار تسلیم کر چکے کہ آئی ایس آئی دنیا کی سب سے بہترین خفیہ ایجنسی ہے ، اس کے خلاف جو شخص ادارہ اور سیاسی جماعت شرارتوں کو انگیخت دیتی ہے اس کی سازشوں کی ہنڈیا کو بیچ چوراہے میں پھوڑ کر پسپا اور رسوا کرنا ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہے، ملک کے محافظوں کے کردار کو مشکوک بنانے جیسی مہم کو سر اٹھانے سے قبل کچل دینانئی حکومت کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔

ہلکورے کھاتی حیات کے لمحات پیہم گزرتے جاتے ہیں ،مسند اقتدار پر لوگ بزم آرائی کر کے رخصت ہو جاتے ہیں ، کیسے کیسے خوش جمال لوگ آج قصہ پارینہ بن چکے لیکن اگر چارہ گری اور رفو گری کے منصب پر فائز لوگ خوش جمال کے ساتھ ساتھ خوش خصال نہ ہوں تو تاریخ میں ان کے لیے معافی کا کوئی ایک لفظ تک نہیں ہوتا، تاریخ کے گوشے صرف انہی کے لیے نغمہ سرائی کرتے ہیں جو اپنے ملک و ملت کے ساتھ وفاؤں میں کمال کردیا کرتے ہیں۔


ای پیپر