تنازعہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں
02 اگست 2018 2018-08-02

تقسیم ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ تقسیم ہند میں کسی ریاست کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی ریاست کی بھارت یا پاکستان میں شمولیت پر تنازع پیدا ہوا تو وہاں کے عوام سے رائے لی جائے گی ۔ جو فیصلہ عوام کریں گے وہی قابل قبول ہوگا۔ لہذا ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں کہا گیا کہ برٹش گورنمنٹ کی خواہش ہے کہ ریاست سے دہشت گردوں کے انخلا کے بعد حالات معمول پر آنے پر عوام کی رائے عامہ لی جائے گی او ر اس کی بنیاد پر الحاق کا فیصلہ ہوگا۔ آج 64 برس بعد بھی کشمیریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔ کیا یہ برٹش گورنمنٹ کا فرض نہیں بنتا تھا کہ اپنے ہی وضع کردہ قانون کوریاست جموں و کشمیر میں لاگو کرے جبکہ تقسیم ہند کے وقت برطانوی وائسرائے ہی بھارت کا حکمران تھا۔

کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کیلئے 1947 میںآزادی ہند کے وقت مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔ اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائیگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ کشمیری لیڈروں کا بھارتی حکومت کے ساتھ جائز مطالبہ ہے کہ وہ 1947 میں اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سرفہرست مسئلہ کشمیر ہے جس کے لئے کشمیری عوام ایک لاکھ جانوں اور ہزاروں عصمتوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ انہوں نے یہ قربانیاں کسی مالی منفعت کے لئے نہیں بلکہ ایک عظم کاز کے لئے دیں اور پاکستان کے لئے ان کی محبت کا یہ عالم ہے کہ ان بدترین حالات میں بھی وہ بھارت جیسے طاقتور دشمن کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں جس کی فوج اپنی حکومت سے کہہ رہی ہے کہ اگر اس نے فوج کو دئیے گئے خصوصی اختیارات (کالے قوانین) واپس لے لئے تو کشمیر آزاد ہو جائے گا۔ بھارتی فوج کا اپنی حکومت سے یہ بھی کہنا ہے کہ یہ فوج ہی ہے جس نے کشمیریوں کو ان کالے قوانین کی مدد سے جکڑا ہوا ہے اور اگر یہ نہ رہے تو وہ آزادی کی منزل کو پالیں گے۔کالے قوانین کی وجہ سے نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا احوال حالیہ جاری کی گئی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے جس کے مطابق 1989سے 31 دسمبر2011 تک 93712 کشمیری شہید کئے گئے۔ 105936 دکانیں اور مکان گرائے گئے، 107434 بچے یتیم ہوئے۔10019 خواتین زیادتی کا نشانہ بنائی گئیں اور 22762خواتین بیوہ ہوئیں۔

افسوس تو ہے کہ ایک طرف ہم کشمیریوں کے حق خود ارادی کے حق میں اور بھارتی قبضہ کے خلاف بات کرتے ہیں تو کچھ مذہبی و سیاسی لیڈران مسئلہ کشمیر سے پہلو تہی کرتے ہوئے بھارت کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔حریت کانفرنس کے سربراہ علی گیلانی کا کہنا بالکل ٹھیک ہے کہ پاکستان کے لیڈروں نے بھی کشمیریوں کو دھوکہ دیا ہے۔ پرویز مشرف کی حکومت نے کشمیریوں کو بھارت سے زیادہ نقصان پہنچایا لہذا پرویزمشرف کا نام کشمیریوں کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کے طورپر لیا جاتا ہے۔

بہرحال پاکستانی عوام بھارتی ظلم و ستم کے خلاف آزادی کی جنگ میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور 5فروری کو پورے پاکستان میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کیلئے یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔آزاد کشمیر سمیت سارے ملک کے عوام تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کے حق میں مظاہرے کرتے ہیں۔ جلسے، جلوسوں اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتاہے۔ ہم بھارتی حکمرانوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا واحداور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے ہو سکتاہے جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو نی چاہیے اور اس میں کشمیری جو بھی فیصلہ کریں وہ ہندوستان اور پاکستان کو قبول کرنا ہوگا۔


ای پیپر