پا پو لر نہیں معقول فیصلے
02 اگست 2018 2018-08-02

مسلمانوں کی تاریخ میں جناب عمر بن عبدالعزیز کو پانچواں خلیفہ راشد اور عمر ثانی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کے ان کا زمانہ خلافت بنو امیہ کے طرز بادشاہت کی بجائے خلافت راشدہ کے قریب تھا۔ آپ کا عہد خلافت اصلاحات کی بدولت سادگی اور قومی خزانے کو امانت سمجھنے کی مثال کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آپ کے زمانہ میں بنو امیہ سے تمام جاگیریں واپس لے لی گئیں۔ آپ نے اپنی بیوی فاطمہ جو اموی خلیفہ عبدالملک کی صاحبزادی تھی سے کہہ دیا کہ جو ہار اسے باپ کی طرف سے تحفے میں دیا گیا ہے خزانے میں واپس کیا جائے ۔ خلیفہ بننے سے پہلے آپ کے بارے میں یہ بات عام تھی کہ جو لباس پہنتے ہیں دوبارہ نہیں پہنتے۔ لیکن خلیفہ بننے کے بعد آپ کفایت اور سادگی کی مثال بن گئے۔ آ کی خلافت سے کچھ عرصہ پہلے عبدالملک بن مروان نے کئی عمارتیں تعمیر کرائی تھیں۔ ان میں یروشلم میں تعمیر ہونے والا قبۃ الصخر ( چٹان والی مسجد )بھی تھی۔ اس مسجد کے گنبد پر سونے کا پترہ چڑھایا گیا تھا۔ آپ ؒ کا خیال تھا کہ یہ اصراف ہے لہذا اسے اتار لیا جائے۔ اس زما نے کے ماحول میں یہ ایک مقبول فیصلہ ہوتا۔

اس اثناء میں رومیوں کا وفد آپ ؒ سے ملاقات کے لئے آیا ۔ رومی وفد انے انتظام حکومت اور عمارات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہم تو سمجھے تھے کہ مسلمانوں کا عروج ایک وقتی اُبال ہے ۔ لیکن انتظا م سلطنت اور عمارات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا اقبال عارضی نہہیں! آپ ؒ نے یہ بات سنی تو مقبول فیصلے کی بجائے معقول فیصلہ کیا۔ گنبد سے سونا اتارنے کا فیصلہ منسوخ کردیا گیا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانیہ کا شاہی محل اور امریکہ کا سفید گھر عام افراد نے اپنے لئے تعمیر کرائے تھے۔لیکن شاہ برطانیہ اور صدر امریکہ کے تصرف میں اس لئے دے دئے گئے کہ شاندار عمارت بھی رہنے والے کی شان کی علامت ہوتی ہے۔اس تمہید کے باوجود میں ذاتی رائے ظاہر کرنا بھی موزوں سمجھتا ہوں۔ محلے کی مسجد تعمیعر ہو رہی تھی ۔ میں بھی کبھی کبھی شریک مشورہ ہو جاتا۔جب مینار کے لئے بڑے بجٹ کا مشورہ ہونے لگا تو میں اس رائے کا حامی تھا کہ مینار صرف علامتی ہو۔ باقی پیسے دو بیوگان کو مکان بنا کر دے دئے جائیں ۔ یہ مشورہ مان لیا گیا۔

اوپر بیان کئے گئے پس منظر کا تعلق عمران خان صاحب کے وزراعظم ھاؤس گورنر ہاوئسز دیگر بڑی ا ور پر شکوہ عمارات سے متعلق بیان سے ہے۔ اس بیان کے بعد کئی ایکڑوں پر مشتمل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ہاؤسز اور ان پر ہونے والے کثیر اخراجات کے حوالے سے سوشل میڈیا میں بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بحث کا مرکزی نقطہ یہ بات ہے کہ فضول خرچی ، عیاشی ااوردور غلامی کی یادگاروں کا خاتمہ کیا جائے ۔ اس ضمن میں وزیر اعظم ہاؤس کو عجائب گھر یا یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا مشورہ بھی شامل ہے۔ ہر مشورے کے پیچھے دلیل بھی ہوتی ہے۔ ابھی تک خان صاحب نے جو بات کی ہے وہ اپنی شدت کے باوجود ارادے کی مانند ہے۔ جب یہ بات پرو گرام اور فیصلے کی سطح پر آجائے گی تو اسے واپس لینا مشکل ہو جائے گا ۔ پھر اسے چار و ناچار رو بہ عمل لانا پڑے گا ۔ لہذا یہی وقت ہے کہ ایسی چیزوں کے بارے میں مقبول نہیں معقول فیصلے کئے جائیں۔ ایسا اس لئے ضروری ہے کہ سادگی ، فضول خرچی ا ور عیاشی سے گریز کی بات اس وقت تک درست تھی جب وزیراعظم ھاؤس پریزیڈ نسی اور کنونشن سنڑ جیسی عمارتون کی تعمیر کا فیصلہ ہو رہاتھا۔ ایسی تما م عمارات خاص مقاصد اور ضروریات سامنے رکھ کر ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ پھر ان کی تزئین وآرائش بھی اسی خیال سے کی جاتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے مکین کے ساتھ ساتھ آنے والے مہمانوں کے ذوق اورقومی وقار اور روایات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔یہ ذوق اور نفاست خان صاحب کے بنی گالہ کے درو دیوار سے بھی جھلکتا ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس اور دیگر بڑے گھروں کے حوالے سے سوچنا اور موجودہ حالات کے تناظر میں ان کا فیصلہ کرنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے ۔ تاہم یہ فیصلہ معاشی ، سماجی ترجیحات کے تابع ہونا چاہیے مھض نمائشی نہیں ! ایسا فیصلہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل باتوں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

وزیراعظم ہاؤس کی بات اس لئے اہم ہے کہ عمران خان نے بطور خاص اس کے پر تعیش ہونے اور اس میں نہ رہنے کا ذکر کیا ہے۔ اس بڑے گھر کے بارے میں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ 1963-70 میں تعمیر ہوا۔ یہ دفتر رائش گاہ کانفرنس رومز، کمیٹی رومز ، کئی مہمان خانوں وغیرہ پر مشتمل وسیع محل ہے۔ اس میں تمام سہولتیں ذی وقار مہمانوں کے شایان شان سہولیات سب میسر ہیں۔اگر اس گھر کو چھوڑا جاتا ہے تو متباد ل انتظام کرناہوگا۔ جس کے لئے مزید بجٹ درکار ہوگا۔ موجودہ حالات میں بہتر یہی ہے کہ نئے انتظام کی بجائے اسی گھرسے کفایت اور سادگی کے ساتھ کام کا آ غاز کیا جائے۔ نئے انتظام کی صورت میں یہ گھر تو موجود ہو گا ۔ اس کی حفاطت اقور انتظام انصرام کا خرچہ پھر بھی موجود رہے گا۔ اس گھر کو عجائب گھر بنانے سے بھی یہ خرچہ بند نہ ہو گا۔ اسے یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کے لئے نئے تقاضے کے مطابق تیاری ، تبدیلی پورے پلان کو خراب کرے گی اور موجود قیمتی اشیاء تباہ ہوں گی۔ ماضی میں جونیجو مرحوم نے سادگی کمپین میں سوزوکی کمپین شروع کردی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سینکڑوں نئی گاڑیاں لے لی گئیں اور پرانی برباد ہو گءئیں حاصل کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔۔ ۔ خان صاحب آسانی سے یہ کر سکتے ہیں کہ اس کمپللکس سے زیادہ فائدہ اٹھانا ممکن ہو جائے۔ کئی وزارتوں کے دفاتر جو کرئے کی عمارات میں قائم ہیں ادھر منتقل کئے جا سکتے ہیں۔ کئی میٹنگز اور کانفرنسز جو مہنگے ہوٹلوں میں منعقد کی جاتی ہیں اُن کے لئے یہاں گنجائش پیدا کی جا ئے اوربچت کی جا سکتی ہے۔ سعودی سفیر کی پانی سے تواضع کی جو تصو یر سادگی کی علامت کے طور پر جاری ہوئی اچھا تاثر نہییں دیتی۔ آنے والے مہمان کے لئے ٹرے کپ گلاس جوس وغیرہ کا انتظام تو عام گھروں میں بھی ہوتا ہے۔

چھوٹے شہروں میں بڑی رہائش گاہوں کا سوال اہم ہے۔ لیکن اسے جلد بازی میں طے نہیں ہونا چاہیےے۔ ریلوے کی زمینیں اور ریسٹ ہاوئسز کس طرح برائے نام کرائے پرطویل مدت کے لئے کچھ مخصوص افراد کو دئے گئے ہیں ایسی صورت سے بچا جائے۔ اس کے لئے ایک مربوط پالیسی کی ضرورت ہے۔ جلد بازی سے ہونے والے فیصلے مقبول تو ہو سکتے ہیں لیکن ان کے معقول ہونے کی گارنٹی نہیں !


ای پیپر