Naveed Chaudhry, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
02 اپریل 2021 (12:06) 2021-04-02

 پچھلے برس جب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی تشکیل کیلئے کوششیں شروع کی گئیں تو پیپلز پارٹی نے آمادگی ظاہر کرنے کے ساتھ ہی سر براہی مانگ لی۔ اس وقت خصوصاً جے یو آئی کا یہ موقف تھا کہ جس قسم کی احتجاجی تحریک شروع ہونے جارہی ہے ، پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت اس میں زیادہ موثر کردار ادا نہیں کرسکتی ۔ شکوک کی فضا اسی وقت قائم ہوگئی تھی۔ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے ساتھ مسلم لیگ ن بھی اس حوالے سے الرٹ تھی ۔ انہی دنوں زیر عتاب آئے ہوئے آصف زرداری نے عدالتوں کے دھکے کھاتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں بڑی تلخی کے ساتھ کہا کہ ہم سب نہ صرف سڑکوں پر آئیں گے بلکہ اسمبلیوں سے استعفے بھی دیں گے ۔ پی ڈی ایم کا قیام اسٹیبلشمنٹ کے لیے ہر گز کوئی خوشگوار واقعہ نہیں تھا۔ خصوصاً جب گوجرانوالہ میں جلسہ روکنے میں ناکامی اورپھر وہیں نواز شریف کی جانب اسٹیلشمنٹ کی قیادت کا نام لے کر کی جانے والی تقریر نے کھلبلی مچا دی ۔یہی وہ لمحہ تھا جب محسوس کیا گیا کہ معاملات اسی انداز میں آگے بڑھتے رہے تو حالات اس رخ پر  جاسکتے ہیں کہ ان پر قابو پانا کسی کے بس میں نہ رہے ۔ اس وقت سے اب تک پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں سے الگ الگ رابطے کئے جارہے ہیں ۔ سب سے پہلے تو یہ جان لینا چاہئے کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ۔ طاقتور حلقے اسے گھڑے کی مچھلی تصور کرتے ہیں۔ اے این پی کو نکال کر اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں راندہ درگاہ ہیں ہی لیکن اصل خطرہ مولانا اور مریم کو سمجھا جاتا ہے۔ پی ڈی ایم کے قیام کے بعد سے جے یو آئی سے رابطے کرکے بلوچستان حکومت دینے ، کے پی کے حکومت میں شمولیت اور سینٹ میں زیادہ سیٹوں کی پیشکش کی گئی مگر مولانا نے سنی ان سنی کردی۔ اسی طرح مسلم لیگ کے قائد نواز شریف سے لندن میں رابطے کئے گئے مگر کوئی درمیانی راہ نہیں نکلی۔ اب تازہ ترین  مصدقہ اطلاعات ہیں کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ملاقاتیں کی جارہی ہیں ۔ قصہ مختصر اب تک ان میں کوئی پارٹی ٹریپ میں نہیں آئی۔ جہاں تک پی ڈی ایم کا تعلق ہے پیپلز پارٹی کے حوالے شکوک کی فضا پہلے روز سے ہی قائم تھی۔ اسے اتحاد میں شامل رکھنا بھی ضروری تھا۔ یہ سمجھا جارہا تھا کہ تحریک نے زور پکڑا تو پیپلز پارٹی اپنے تحفظات کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دے گی اور پی ڈی ایم کے تمام فیصلوں پر عمل درآمد بھی کرے گی۔ دوسری صورت یہ تصور کی جارہی تھی کہ اگر وقت آنے پر پیپلز پارٹی نے کڑے فیصلوں سے گریز کیا اورراہ فرار اختیار کی تو تب بھی وہ اپوزیشن اتحاد کے خلاف کسی سرگرمی کا حصہ بنے بغیر خاموشی سے ایک سائیڈ پر ہو جائے گی۔ اس اعتماد کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نے پیپلز پارٹی سے بار بار وعدہ خلافی کرکے اسے اس کی حکومت کے دوران خوب رگڑا لگایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ اس بات میں کسی کو کوئی شک شبہ نہیں تھا کہ پی ڈی ایم کا حریف کون ہے؟ سلیکٹڈ کو کسی گنتی میں نہ رکھ کر صرف سلیکٹر کو مخاطب کیا جارہا تھا ۔ پاکستانی عوام اس وقت چونک گئے جب انتخابی مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان گئے ہوئے  بلاول بھٹو نے ایک انٹرویو میں یہ کہہ دیا کہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے نام لے کر مورد الزام ٹھہرانا ان کی پالیسی نہیں۔ بلاول نے واضح طور پر نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کیا ۔ حیرت انگیز طور پر اس سے پہلے وہ کئی جلسوں میں شرکت کر چکے تھے اور اس حوالے سے کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ بلاول کے اس بیان پر پی ڈی ایم کے مخالفین نے خوب بغلیں بجائیں۔ پی ڈی ایم کے اندر صورتحال مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے مولانا فضل الرحمن نے بروقت مداخلت کی اور میڈیا کے سامنے آکر کہا جو یہ سب کچھ کرا رہے ہیں ان کے نام نہ لیں تو اور کیا کریں ؟ اگر افراد کے نام نہیں لیں گے تو پھر کہا جائے گا کہ اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے۔ چند ہفتوں کے بعد کراچی میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلایا گیا تو میڈیا کو خبریں لیک کی گئیں جن میںنواز شریف کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا کہ استعفے نہیں دئیے جائیں گے۔ مجوزہ لانگ مارچ ، دھرنے کا رخ راولپنڈی کی 

جانب رکھنے کے بجائے اسلام آباد جانے کی بات بھی کی گئی۔اس بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ پیپلز پارٹی کس کے سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ پی ڈی ایم کی قیادت نے یہ سب ٹھنڈے پیٹوں برداشت کیا ۔ پھر پچھلے ہفتے  اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں سب کچھ کھل کر سامنے آگیا جب ایک غیر معمولی پیش رفت کے دوران آصف زرداری اچانک نواز شریف پر برس پڑے ۔ مریم نواز نے موقع پر پھر باہر آکر جواب دیا ۔ اس اجلاس میں ن لیگ کے بارے منفی ریمارکس کو جان بوجھ کر براہ راست میڈیا میں لیک کیا گیا ۔ اس حرکت کا مولانا فضل الرحمن سمیت تمام شرکا نے سخت برا منایا۔پھر وہ موقع آیا کہ پیپلز پارٹی نے طے شدہ معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے  سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ بھی طلب کرلیا ۔ اس سے قبل چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کے حق میں پڑنے والے سات ووٹ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کے تحت ہی مسترد ہوگئے تھے۔ جس وقت یہ ووٹ مسترد کیے جارہے تھے پولنگ ایجنٹ کی حیثیت سے ساتھ کھڑے فاروق نائیک نے منہ بند رکھا کیونکہ صادق سنجرانی کو کامیاب کرانا مقصود تھا ۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ن لیگ کو دینے کی باری آئی تو پیپلز پارٹی نے باپ پارٹی کے ووٹ لے کر خود کو بے نقاب کردیا۔ پی ڈی ایم کی باقی جماعتوں کو پتہ چل گیا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کار تو ہے ہی مگر پی ڈی ایم کے خلاف ہتھیار بن کر استعمال ہورہی ہے ۔ اس کھیل میں پارسائی کی دعویدار جماعت اسلامی کا پول بھی کھل گیا ۔ یہ اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنوانے سے قبل بلاول بھٹو کا دورہ منصورہ طاقتور حلقوں نے ارینج کرایا تھا۔ سراج الحق ہر روز یہی کہتے آرہے تھے کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، خیر اس دعوے کی صداقت کا فیصلہ تو عوام خود کرلیں گے مگر اس ملاقات کے بعد دنیا کو پتہ چل گیا کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی بھی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ن لیگ سمیت پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں پہلے ہی آصف زرداری پر اعتبار کرنے کے معاملے میں بہت محتاط تھیں ۔ اسی لیے جب پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنانے کی تجویز آئی تو اسے فوری طور پر مسترد کردیا گیا۔ اس طرح اسٹیبلشمنٹ کا یہ منصوبہ بھی وقتی طور رک گیا کہ پرویز الٰہی کے ذریعے ن لیگ میں توڑ پھوڑ کی جائے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے طور پر سب سے زیادہ عثمان بزدار ہی سوٹ کرتے ہیں۔ گو کہ پرویز الٰہی مشرف دور سے وردی والوں کو دس بار منتخب کرانے کا عہد دوہراتے چلے آ رہے ہیں مگر عثمان بزدار جیسے فرمانبردار کے سامنے ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے ۔ طاقتور حلقوں کے تمام کام کرکے ہر طرح کی تنقید کا بوجھ بھی خود اٹھانا عثمان بزدار کی ایسی خوبی ہے کہ اگر کبھی ان کو ہٹانے نوبت آئے تب بھی ان کی جگہ کوئی عثمان بزدار ہی آئے گا۔اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی اور پرویز الٰہی کا استعمال پی ڈی ایم کا زور توڑنے کے لیے کر رہی ہے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کا ٹارگٹ عمران خان ہیں نہ عثمان بزدار۔ انہیں حکومت گرانے کی کوئی جلدی نہیں ۔ ویسے بھی اصل خرابی کو دور کیے بغیر کوئی بھی حکومت برائے نام ہی ہوگی ۔ آصف زرداری کی قیادت میں ایک عرصہ قبل پیپلز پارٹی یہ طے کر چکی کہ اسے چاہے حکومت سے نکال کر اپوزیشن میں دھکیل دیا جائے وہ اس صورت میں بھی طاقتور حلقوں کو ہی خدمات پیش کرتی رہے گی ۔ اب پی ڈی ایم کے پاس یہ نادر موقع ہے کہ پیپلز پارٹی کے حوالے جلد از جلد فیصلہ کرکے اپنی صفوں کو مضبوط اور سیدھا کرلے ۔پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاسی چالوں کے حوالے سے آنے والا عوامی ردعمل سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے جانے سے یا نکالے جانے سے اپوزیشن اتحاد کی طاقت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اس حوالے سے پیدا ہونے والی کنفیوژن کے خاتمے سے الٹا فائدہ ہی ہوگا ۔ جہاں تک ہمارے ملک کے طاقتوروں کا تعلق ہے وہ مقابلے پر آنے والوں سے تو صرف نظر کر لیتے ہیں مگر سرنڈر کرنے والوں کو کبھی نہیں بخشتے ۔ دسمبر 2020ء میں ایک بہت اہم افسر نے وزیر اعظم عمران خان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مارچ 2021ء تک پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے اپنے ساتھیوں کو آگاہ کردیا۔ پھر یہ اطلاع پی ڈی ایم کی قیادت تک بھی پہنچ گئی۔ اپوزیشن کے حلقے اسی وقت سے یہ اندازہ لگا رہے تھے کہ اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کا سارا انحصار پیپلز پارٹی پر ہوگا۔ مارچ 2021ء میں باپ اور پیپلز پارٹی کے ملاپ سے یہ اندازہ سو فیصد درست ثابت ہوگیا۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نہیں نکلی۔ وہ تو پہلے کی طرح حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار اور میدان عمل میں ہے ۔اصل امتحان پیپلز پارٹی کا ہے کہ وہ اپوزیشن اتحاد سے الگ ہوکر کیا حاصل کرسکتی ہے ۔ اس حوالے سے ترپ کا پتہ مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ کے پاس ہے۔ ان جماعتوں نے فی الحال یہ تو طے کرلیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو سینٹ میں اپوزیشن لیڈر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اگر اپوزیشن اتحاد نے پیپلز پارٹی سے مکمل اعلان لاتعلقی کردیا تو 2011 ء کی تاریخ پھر سے دہرائے جانے کا امکان ہے۔ جب پنجاب میں ن لیگ کی کمر توڑنے کے لیے آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مالی سمیت ہر طرح کا تعاون کرکے پی ٹی آئی کا’’ جن ‘‘ کھڑا کیا۔ پھر پتہ چلا کہ ن لیگ کا تو کچھ نہیں بگڑا مگر پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہوگیا۔ اسٹیبلشمنٹ کے اصل پلان میں پیپلز پارٹی کا سندھ سے صفایا بھی شامل ہے ۔ آنے والے دنوں میں ایسے حالات بن سکتے ہیں کہ سندھ میں تبدیلی آجائے اور’’ سیاست کے پی ایچ ڈی ‘‘ کو وہاں بھی وہی مناظر دیکھنے کو ملیں جو 2011ء کے بعد پنجاب میں دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے سندھ حکومت سمیت اب تک جو کچھ بھی بچایا اور کمایا ہے وہ صرف اور صرف پی ڈی ایم کی تحریک بالخصوص بیانئے کا کمال ہے ورنہ ایک چھوڑ سو اعتزاز احسن بھی ساتھ ہوتے پیپلز پارٹی کا جھٹکا ہوگیا ہوتا ۔


ای پیپر