Khalid Minhas, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
02 اپریل 2021 (11:52) 2021-04-02

 طارق بنوری کو ایک دن جانا ہی تھا ۔ یہ عہدہ وراثت میں تو ملا نہیں تھا کہ ہمیشہ اس کے ساتھ چمٹے رہتے ۔ کئی لوگ ان کی رخصتی پر چیں بہ چیں ہو رہے ہیں جیسے ان کے جانے سے بہت بڑا نقصان ہو جائے گا۔ یقین رکھیں کچھ نہیں ہو گا اور یہ یونٹ اسی طرح چلتی رہے گی ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے مزید رہنے سے یونیورسٹیوں کے مسائل مزید گمبھیر ہو جاتے۔ ان کے پاس کوئی انتظامی تجربہ نہیں تھا۔ ان کی کارکردگی کو دیکھ پر بخوبی کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی ناتجربہ کار شخص کو کسی بڑے عہدے پر فائز کر دیا جائے تو وہ اس کا بیڑا غرق کر دیتا ہے۔ طارق بنوری نے یونیورسٹیوں کے حالات اس حد تک خراب کر دیے تھے کہ کئی یونیورسٹیوں کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے پیسے تک نہیں تھے۔ صرف منہ بگاڑ کر انگریزی بولنے سے قابلیت نہیں آ جاتی۔ ابھی تک ہم یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ آخر وہ کسی سی خوبیاں تھیں جن کی بنا پر انہیں اس اعلیٰ عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ کے دور کا یہ فیصلہ کسی طور درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے اعلیٰ تعلیم کے ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹیاں ایسے گریجوایٹس پیدا کرتی ہیں جو مارکیٹ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ بی اے اور ایم اے کے پرانے نظام کو جس طرح تبدیل کیا جانا تھا ، طارق بنوری فارن کوالیفائیڈ ہوتے ہوئے بھی اس ضرورت کو نہ سمجھ سکے۔ انہو ںنے ڈنڈے کے زور پر بی اے اور ایم اے نے نظام کو ختم کر دیا اور اس کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری کا نظام رائج کرا دیا مگر اس 

کے لیے جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا۔ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ سوائے اس ڈگری کا نام تبدیل ہونے کے اور کیا کیا گیا ہے؟  یونیورسٹیاں اور کالجز وہی پرانا سلیبس پڑھا رہے ہیں اور اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ایسوسی ایٹ ڈگری کا نصاب تک مرتب ہو سکا۔ مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق سلیبس کی تیاری تو جان جوکھوں کا کام تھا وہ ان کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ حال ہی میں انہوںنے کسی کو خوش کرنے کے لیے بی ایس کے بعد ڈائریکٹ پی ایچ ڈی کے نظام کو بھی شروع کرایا تھا جس پر ابھی تک عمل  درآمد نہیں ہو سکا ہے۔ چیئرمین ایچ ای سی ہوں یا یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز جب وہ اپنے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں تو یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید اب انہوں نے ہمیشہ اسی عہدے پر رہنا ہے۔ جب یہ فارغ ہوتے ہیں کہ کوئی ان سے سلام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جنہیں ان کے جانے کے بعد بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ طارق بنوری سمیت کئی ایسے افراد تھے جن کو آئوٹ آف ٹرن ترقی دے کر اوپر لایا گیا اور پھر انہوں نے اداروں کا بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

طارق بنوری کی رخصتی کے بعد اب کئی مقدمات کھلیں گے ۔ نیب کے پاس بہت سی شکایات موجود ہیں ۔ ان میں اپنے منظو ر نظر افراد کو بھاری مشاہروں پر ایچ ای سی میں بھرتی کرنا تھا۔ یہ تو وہ معاملات ہیں جو سامنے موجود ہیں ابھی اور بہت کچھ سامنے آئے گا۔

طارق بنوری ایچ ای سی کے چوتھے مستقل چیئرمین تھے جنہیں اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سرچ کمیٹی کی جانب سے بھیجے جانے والے افراد کے ناموں میں سے منتخب کیا تھا۔سید بابر علی سربراہی میں قائم کمیٹی نے چار افراد کے ناموں کی سفارش کی تھی اور ان میں ایک نام طارق بنوری کا بھی تھا۔پارلیمانی کمیٹی نے سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کانام تجویز کیا تھا مگر شاہد خاقان عباسی نے ان کے نام پر اتفاق کیا ۔ان کا عہد ہ چار برس کے لیے تھے اور انہیں اگلے سال مئی 2022میں فارغ ہونا تھا مگر حالات اس حد تک خراب ہوتے جارہے تھے کہ بالآخر وفاقی حکومت کو انہیں فارغ کرنے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔

انہو ںنے جب چیئرمین ایچ ای سی کا منصب سنبھالا تو بہت سے افراد نے ان سے توقعات وابستہ کیں لیکن آج ان کی رخصتی پر وہ اس فیصلے کوخوش آئند قرار دے رہے ہیں کل تک ان کے گن گانے والے اور ان سے مراعات حاصل کرنے والے آج ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیب نے غیر قانونی تقرریوں کے ساتھ ساتھ کرپشن کے معاملات پر انکوائری شروع کر رکھی ہے۔ایک شخص کی انتظامی نا اہلی کی وجہ سے چیئرمین کے عہدے کی مدت چار بر س سے کم کر کے دو برس کر دی گئی ۔یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ایچ ای سی کے سٹیک ہولڈر تھے مگر طارق بنوری کے ساتھ وائس چانسلرز کی ورکنگ ریلشن شپ نہ ہونے کے برابر تھی۔

اتنے بڑے ادارے کو ون مین شو کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔ ایک تجربہ کار ٹیم کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر ان کے دور میں یہی نظر آ رہا تھا کہ وہ اپنی کارکردگی پر توجہ دینے کے بجائے حکومت کے اہم عہدیداران کو خوش کرنے کی پالیسی پر گامزن تھے۔ ایک طرف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ان کے خلاف تھے تو دوسری طرف پروفیسرز بھی ان کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ایچ ای سی میں بھی ملازمین کو انہوں نے انتقامی کارووائیوں کا نشانہ بنائے رکھا۔ 


ای پیپر