نا گہا نی آ فت اور تنگیِ رو ز گا ر
02 اپریل 2020 2020-04-02

یہ حقیقت بین الاقوامی طور پر تسلیم شد ہ ہے کہ پا کستان کا شما ر چو ٹی کے اْن پا نچ مما لک میں ہو تا ہے جو چیریٹی اور دیگر رفا ہی کا مو ں میں پیش پیش ہو تے ہیں۔ تا ریخ شا ہد ہے کہ جب بھی کبھی وطنِ عز یز کو کسی نا گہا نی آفت کا سا منا کر نا پڑا تو یہا ں کے عو ام نے حسبِ تو فیق مصیبت زد گا ن کی مد د کر نے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بے شک یہ امر اطمینان بخش ہے کہ کو رونا وا ئر س کی وبا ء کے ان دنو ں میںہما رے عو ام اسی روایتی جذ بے سے پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔ تا ہم دوسر ی جانب اگر حکو مت کے رول کی بات کی جا ئے تو کورونا وائرس کے نئے کیسز میں مسلسل اضافے کے ساتھ یہ حقیقت تشویش کا موجب ہے کہ ملک میں ہفتہ بھر سے جاری لاک ڈائون کے باوجود ابھی تک کم آمدنی والے طبقے کے لیے امداد کے منصوبے پر عمل شروع نہیں کیا جاسکا۔ بظاہر سب سے بڑی رکاوٹ ایسا نظام وضع کرنے میں درپیش ہے جو آبادی کے اس حصے کی نشان دہی کرے جس کے لیے یہ امدادی پروگرام طے کیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیدارا ابھی تک مستحق افراد کی نشان دہی اور ان تک رسائی کے تصورات میں گم ہیں۔ آ جا کے سب کی نظریں آن لائن درخواستوں اور موبائل ایپلی کیشنز پر ٹکتی ہیں، مگر کوئی یہ نہیں دیکھ رہا ہے کہ سوسائٹی کے جس حصے کے لیے چار سے چھ ہزار گزارہ الائونس کا معاملہ زیر بحث ہے ان کی غالب اکثریت تو اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناواقف ہے۔ چنانچہ موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے امدادی پیکیج کی تقسیم کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آتا نیز اس کی شفافیت پر بھی سوال کھڑے ہوسکتے ہیں۔ آبادی کے اس طبقے کی نشان دہی کے لیے مقامی انتظامیہ اور منتخب قیادت اہم کردار ادا کرسکتی تھی مگر اس کے لیے وقت درکار ہوگا کیونکہ شفافیت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے فرداً فرداً تصدیق کا عمل وقت طلب ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں کم آمدنی والے طبقے کی نشاندہی کا یہی طریقہ موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ موبائل ایپلی کیشنز یا آن لائن درخواست کے ذریعے دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنا مشکل ہے، شاید ناممکن بھی۔ حکومت ضلعی انتظامیہ کی مدد سے دیہاڑی دار طبقے کی رجسٹریشن کرسکتی تھی مگر اس کے لیے بھی لاک ڈائون سے بہت پہلے کام شروع کرنے کی ضرورت تھی۔ دوسری جانب رضاکاروں کی بھرتی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف اقدامات وقت کے خلاف دوڑ کے مترادف ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑے گا کہ بعض حوالوں سے ہم اس دوڑ میں وقت سے بہت پیچھے جارہے ہیں۔ رضاکاروں کی اس وقت اشد ضرورت تھی جب ایک ہفتے

سے دیہاڑی دار افراد بے روزگار ہوکر گھروں میں بیٹھے ہیں، ان کی تشویش بڑھتی جارہی ہے جبکہ حکومتی امداد کی ابھی تک کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ایسے مواقع پر اگر رضا کار نفری موجود ہوتی تو انہیں ان ضرورت مندوں کو امداد اور کھانا مہیا کرنے کے لیے بروئے کارلایا جاسکتا تھا۔ اب جبکہ صورتحال سنجیدہ تر ہوتی جارہی ہے اور ابھی کرنے کو بہت سے کام پڑے ہیں، رضاکارانہ بھرتی کا عمل اگر شروع بھی کردیا جاتا ہے تو یقینا اس پر کئی دن لگیں گے اس کے بعد ہی انہیں ان کی ذمہ داریاں سونپی جاسکیں گی۔ یہ کام مکمل ہونے میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں اور اس وقت تک ملک میں وبا کی کیا صورت ہوگی؟ کون جانتا ہے اور وبا کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے لوگ کیونکر گزارا کریںگے؟ یہ حیرت کا باعث ہے کہ اس صورتحال میں حکومت سیاسی رہنمائوں کو ان کی پوری استطاعت کے مطابق بروئے کار نہیں لارہی، حالانکہ یہ دن انہی سے مدد طلب کرنے کے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان دنوں ہمارے ہاں مقامی حکومتیں موجود ہوتیں اور پریشانی کے ان دنوں میں ان سے مدد طلب کی جاتی مگر اس کمی کو ارکانِ صوبائی و قومی اسمبلی کے ذریعے پُر کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس معاملے میں زیادہ وقت ضائع نہ کیا جائے تو اس سے بہتر نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں حزبِ اختلاف سے مدد طلب کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ حکومت کو اس موقع پر کثیر جہتی حکمت عملی کے ساتھ چلنا ہوگا۔حزبِ اختلا ف کا کہنا ہے کہ حکو مت اس مو قع پر بھی اپنی انتقا می کا ر وا ئیوں میں مصر وف ہے۔ حکو مت کے پا س حز بِ اختلا ف کے دعویٰ کو رد کر نے کا بہترین طر یقہ یہ ہے وہ بلا مشر و ط حزبِ اختلا ف کی جا نب تعا ون طلب کر نے کا ہا تھ بڑ ھا ئے۔ کسی کا بھی یہ کہنا با لکل در ست ہے کہ سیا ست کر نے کے لیئے پو ری عمر پڑی ہے۔ یہ وقت ہے کر ونا کی لا ئی وبا ء کو شکست دینے کا۔ اور یہ با ت طے کہ یک جان ہو ئے بنا اس وبا ء کو شکست دینا نا ممکن ہے۔

جو افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں ان کی طبی امداد، ان کے گھر والوں کو راشن کی فراہمی، سوسائٹی میں وبا کے پھیلائو کو روکنے کی مقدور بھر کوشش اور غریب لوگ جو لاک ڈائون کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں، وہ محاذ ہیں جن پہ حکومت کو مسلسل لڑنا ہے۔ بلاشبہ یہ کوئی آسان ٹاسک نہیں۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں یہ موذی وائرس پھیلا ہے، قطع نظر اس کے کہ اُس ملک کے مادی وسائل کیا ہیں، اس وبا سے نمٹنا نہایت مشکل جدوجہد تھی۔ مگر جیسا کہ او پر بھی ضا بطہِ تحر یر میں لا یا ہوں، پاکستان میں ماضی کے چیلنجز کو دیکھیں، 2005ء کا زلزلہ ہویا 2010ء کے سیلاب پاکستان کی حکومتوں اور عوام نے ان مشکل ترین چیلنجز کا حوصلے کے ساتھ مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے سبب ان مشکلات سے نمٹنا ممکن ہوسکا۔ انشاء اللہ اس وبا کے ساتھ بھی نمٹ لیا جائے گا لیکن حکمت عملی اور دانشمندی کسی بھی معرکے کی کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ہم ہوا میں تیر چلا کر ہدف حاصل کرنے کی امید نہیں کرسکتے، اس کے لیے منصوبہ بندی، حکمت عملی اور تدبیر کے ساتھ چلنا ہوگا۔ وبائوں کے عالمی ماہرین عندیہ دے رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف جدوجہد طویل اور صبر آزما ہوگی، اس کے لیے سبھی کو لمبے اہداف مقرر کرنا ہوں گے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک صائب مشورہ ہے کہ اس وبا کے خلاف جامع منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔ ممکن ہے اگلے چند ہفتوں میں وبا پر قابو ممکن ہوجائے۔ مگر پبلک ہیلتھ کے شعبے میں ہمیں جس چیلنج کا سامنا ہے اس کے لیے دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ایسے میں حکومت کے لیے یہ لازمی ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں تشکیل دے۔ سماج کا یہ طبقہ جو پہلے ہی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہا تھا، وبا کے دنوں میں کس درجے کی مشکلات کا شکار ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اب یہ حکومت کی حکمت عملی اور کارکردگی پر منحصر ہے کہ کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف پہنچانے میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے۔


ای پیپر