سابق قبائلی علاقہ جات: اصلاحات سے قبل اور بعد میں
02 اپریل 2020 2020-04-02

قبائلی علاقہ جات خیبر پختون خوا میں شامل ہوجانے کے بعد وہاں جرائم کے سدباب کے لئے پولیس فورس کی صورت میںایک منظم محکمہ فعال کیا جارہا ہے۔ پولیس کا بنیادی کام ہوگا وہاں اندرونی امن کو قائم کرنا۔ سابق فاٹا میں اب عدالتی نظام فعال کیا جارہا ہے جس سے وہاں سزا اور جزا کا نظام نافذہو گیا ہے۔انضمام کے بعد اب ان علاقوں میں سیکیورٹی اداروں کو جانے کی اجازت مل گئی ہے۔انضمام سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد پر محافظ اور نگرانی کا کوئی نظام اس لئے نہیں تھا کہ اس کی کوئی حد بند ی نہیں تھی،اب سرحد پر باڑ لگانے کے بعد وہاں محافظ بھی موجود ہے اور نگرانی کا ایک منظم نظام بھی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے سے ایک غلط فہمی یہ پیدا ہوئی تھی یا بعض لوگوں نے دانستہ یہ پروپیگنڈہ شروع کردیا تھا کہ اس سے راستے بند ہوجائیں اور مقامی لوگ دونوں اطراف جانہیں سکیں گے۔ سابق قبائلی علاقہ جات کے ہر ضلعے کا افغانستان کے ساتھ بارڈر لگا ہوا ہے۔پاکستان نے ان تمام دشوار گزار راستوں کوبند کردیا ہے جس سے عام لوگوں کی آمد ورفت نہ ہونے کی برابر تھی،اس لئے کہ یہ مشکل راستے تھے۔البتہ یہی مشکل اور دشوار گزار راستے پہلے سمگلر اور بعد میں دہشت گرد اور سمگلر دونوں مشترکہ طور پر استعمال کر تے تھے۔ان راستوں کو بند کرنے سے اب دونوں اطراف دہشت گردوں اور سمگلروں کا آنا جانا اگر ختم نہیں تو تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔مقامی لوگوں کی آمد ورفت اب بھی جاری ہے۔ ہر ضلع میں اب بھی وہ تمام دروازے کھلے ہیں جس سے عام لوگوں کی آمد ورفت جاری تھی۔ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ اب وہاں سیکیورٹی اہلکار موجود ہوتے ہیں کوئی بھی مشکوک شخص مشکل ہی سے پاکستان میں داخل ہو سکتا ہے اور یہاں سے بھی کسی مشتبہ آدمی کا افغانستان میں داخل ہونا ناممکن بنادیا گیا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ فاٹا انضمام کے بعد وہاں امن وامان کی صورت بہتر ہوئی ہے ؟ تو اس کاجواب ہاں میں ہے اس لئے کہ اب وہاں قانون موجود ہے۔ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ اگر وہ کوئی جرم کریں گے تو پولیس کا محکمہ موجود ہے ۔اگر باہر سے جرم کرکے آئیں گے تو بھی دوسرے صوبوں کی پولیس کو اب وہاں جانے اور مجرموں کو پکڑنے کی اجازت ہے۔انضمام کے بعد وہ تصور بھی اب ختم ہوگیا ہے کہ ملک کے کسی حصے میں جرم کرکے فاٹا میں پناہ مل جائے گی۔ماضی میں اکثر ایسا ہوتا رہا

ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے سے دہشت گردوں اور سمگلروں کے تما م راستے تقریبا بند ہو چکے ہیں۔باڑ لگانے کی وجہ سے سابق قبائلی علاقوں میں امن وامان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔باڑ لگانے سے قبل سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے معمول تھے لیکن اب اس طرح کے حملے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان نے سرحد پر باڑ لگا کر دونوںملکوں کی عوام کو دہشت گردوں اور سمگلروں سے محفوظ کر دیا ہے۔ اس باڑ کی وجہ سے اب دہشت گرد اور سمگلر آخری سانسیں لے رہے ہیں مگر افسوس کہ افغانستان اس اہم منصوبے میں اس طرح تعاون نہیں کررہا ہے جس طرح ایک ریاست کو اپنی عوام کو دہشت گردوں اور سمگلروں سے محفوظ بنانے کے لئے کرنا چاہئے تھا۔یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سابق فاٹا میں صرف طورخم بارڈر کے ذریعے بین الاقوامی تجارت ہورہی ہے باقی تمام علاقوں سے صرف مقامی لوگ تجارت کر رہے ہیں ، اس لئے سرحد پر باڑ لگانے سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہونے کاکوئی خدشہ نہیں۔انضمام کے بعد دونوں ملکوں کو یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ اب بارڈر پر آمد ورفت کے لئے قانونی دروازے موجود ہیں۔دونوں ممالک کے کسٹم حکام بارڈر پر موجود ہوتے ہیں۔جو تجارت ہورہی ہے وہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہے۔ بارڈر پر تجارت سے ہونے والی آمد ن قومی خزانے جمع ہو رہی ہے۔ اس سے قبل جب سرحد پر باڑ نہیں تھا تو سمگلر غیر قانونی راستوں سے تجارت کررہے تھے۔اس تجارت سے دونوں طرف ریاست اور حکومت کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔زیادہ تر دولت سمگلروں یا چند اہلکاروں کے جیبوں میں چلی جاتی،لیکن اب ایسا ہونا تقریباً ناممکن بنا دیا گیاہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ فاٹا میں اصلاحات کا عمل ابھی جاری ہے ۔پولیس میں بھرتیاں ہو رہی ہے۔ عدالتی نظام بھی ابھی تک مکمل فعال نہیں ہوا ہے۔کسٹم حکام نے بھی ابھی تک پورا نظام وہاں انسٹال نہیں کیا ہے۔ تمام سرکاری محکموں کی فعالیت میں ابھی وقت لگے گا، اس لئے جو لوگ اس خام خیالی میں تھے یا ہیں کہ انضمام کے بعد فوری طور سابق فاٹا میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائی گی تو یہ ان کی کوتاہ نظری تھی۔مکمل نتائج آنے میں وقت لگے گا اس لئے کہ وہاں نظام رائج کرنے اور اسے فعال بنانے میں ابھی بہت وقت ہے۔لیکن فاٹا انضمام کے بعد وہاں کے لوگوں میں اب یہ شعور ضرور بیدار ہوگیا ہے کہ اب وہ پاکستان کے شہری ہیں ۔اگر خلاف قانون اور آئین کوئی کام کریں گے تو ان کے خلاف ریاستی ادارے اور محکمے کارروائی کریں گے۔انضمام سے قبل ان کو اس طرح کا کوئی خوف لاحق نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ اب وہاں کے لوگ سمگلنگ کی بجائے تجارت کی طرف آرہے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کو پناہ دینے سے انکاری ہیں۔اگر اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری رہا تو ممکن ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں وہاں حالات مختلف ہوں۔چند سالوں بعد ہر کسی کو وہاں بلا خوف و خطر جانے کی اجازت ہو ۔ سابق فاٹا میں چونکہ سیاحتی مقامات بہت زیادہ ہیں اس لئے سیاحت وہاں کے لوگوں کے لئے آمد ن کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ حکومت اگرمعدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاروں کو سہولیات دیں تو اس شعبے میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔انضمام کے بعد امن وامان برقرار ہوجانے سے اب وہاںسے دہشت گردی رخصت ہو رہی ہے اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے۔اگرچہ چند مشکلات ضرورہے لیکن یہ مشکلات اس قدر زیادہ نہیں کہ ترقی کے اس عمل کو روک سکیں۔


ای پیپر