یہودیوں کی ہرزہ سرائیوں میں چھپے مقاصد
02 اپریل 2020 2020-04-02

71 سالہ اسرائیلی وزیرِ صحت "یاکوو لتزمن" نے ایک اسرائیلی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے کہا ہے کہ دنیا خاتمے کے قریب ہے اور 16 اپریل پاس اوور سے قبل مسیحا آئے گا جو اسرائیل کو اس بری صورتحال سے نکالے گا۔ اس سے قبل اسرائیلی ربی "نیل بین ارتزی "جو پیشین گوئیوں کے حوالے سے بہت مشہور ہیں نے آج سے پانچ سال پہلے پشین گوئی کی تھی کہ دنیا پر خدا کا عذاب بن کر ایک بیماری آئے گی۔ چین اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ہو گا اور اس کے ایک لاکھ لوگ مریں گے۔ اب بیماری آنے کے بعد حالیہ دنوں ان کا جو بیان سامنے آیا ہے اس کے مطابق پاس اوور سے پہلے بیماری کا علاج صرف اور صرف اسرائیل سے آئے گا اور یہ کہ چین سمجھتا ہے وہ اس بیماری سے نکل جائے گا اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تمام مصیبت سے کبھی نہیں نکل پائے گا معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ چین دنیا کے اندر رول کرے گا ہم یہاں پیشین گوئی کرتے ہیں کہ وہ دیوالیہ ہو جائے گا۔ دنیا میں جو بہتری آئے گی وہ اسرائیل سے آئے گی۔ یہ بیماری صرف اس لئے آئی ہے کہ مسیحا نے جو آنا ہے اس کے لئے ساری دنیا صاف ہو جائے۔ یہ خدا کا انصاف ہے چین پوری دنیا کے اندر چھا رہا تھا جب کہ دنیا کے اندر تو یہودیوں کا غلبہ ہو گا یہ تمام چیزیں تو ہماری ہیں ان پر تواسرائیل نے راج کرنا ہے۔

اسرائیلی مقاصد کے حصول کے لئے ایسی منصوبہ بندیاں کرتے رہتے ہیںاور یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ حالیہ منصوبہ بندی سے ان کا کیا مقصد ہے۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں ہے بلکہ یہودی اس طرح کے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں اسی قسم کا شوشہ "شواح" بھی ہے یہودی اس کی یاد میں باقاعدہ دن بھی مناتے ہیں۔ یہ لفظ ایک یہودی سکالر " بن زیان ویٹواز" نے پہلی مرتبہ 1942ء میں دریافت کیا جو یہودیوں میں شہرت کا سبب بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ شواح تاریخ کی عظیم ترین تباہی ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران یہودیوں نے ہولو کاسٹ یا شواح کا شوشہ پوری شدت کے ساتھ چھوڑا۔ جونہی جنگِ عظیم ختم ہوئی تو نیشنل جیوش کانفرنس نے پوری دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے ایک ہم مذہب اور ہم نسل نے یہودیوں کا قتلِ عام کیا ہے اور بہت تھوڑے یہودی بچے ہیں۔ اب انہیں دوبارہ زندگی کی شروعات کے لئے علیحدہ ریاست دی جائے جس کا نام اسرائیل رکھا جائے۔ اسرائیل کا قیام یہودیوں کا صدیوں پرانا خواب تھا جس کے قیام کے کی کوشش انہوں نے پہلی جنگِ عظیم کے بعد کی لیکن حالات نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران ان کی اتنی مدد کی اور انہوں نے پروپیگنڈے میں مہارت کا وہ فائدہ اٹھایا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔یہودی کسی بھی بات کے لئے بڑی لمبی منصوبہ بندی کرتے ہیں، وہ کافی عرصہ پہلے ہی شوشہ چھوڑ دیتے ہیں جس پر انہوں نے مستقبل میں عمل درآمد کرنا ہوتا ہے۔ یہودی اپنی بیٹی کے بالغ ہوتے ہی شادی کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں اور ان پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔ زیادہ بچے پیدا کرنے کے لئے مختلف اداروں کی جانب سے انہیں ترغیبات بھی دی جاتی ہیں۔ جس کا بنیادی مقصد اسرائیل دنیا میں یہودیت کا فروغ چاہتا ہے۔ اسرائیل کا مٔوقف ہے کہ دنیا میں یہودا کی بادشاہت قائم کی جائے جس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے دو مختلف طریقے اختیار کئے۔ پہلا یہ کہ عیسائیت کو دینِ اسلام کا مخالف بنا کر یہودیت کو مضبوط کرنا تھا۔ دوسرا خوبصورت لڑکیوں اور عورتوں کو استعمال کر کے امریکہ سے اپنے مفادات کا حصول تھا۔

صہیونی تحریک کے ایما پرفلسطین میںپہلی جنگِ عظیم کے دوران یہودیوں نے زمینیں خریدنا شروع کر دی تھیں ۔ زیادہ تر فلسطینیوں نے ان زمینوں کی آباد کاری میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ ان کی دانست میں یہ کاشت کاری کے قابل نہیں تھیں۔ صہیونی رضا کاروں نے ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ دام دے کر ان زمینوں کو خریدا اورا نہیں بڑی محنت سے سنگترے، مالٹے، زیتون اور سبزیوں جیسی نقد آور فصلوں کی کاشت کے قابل بنایا۔ دوسری جنگِ عظیم کی افراتفری کے دوران صہیونی تحریک نے بالآخر برطانیہ کو ان زمینوں پر مشتمل ایک یہودی مملکت کے قیام کی حمایت پر مجبور کر دیا۔ جس کی منصوبہ بندی انہوں نے قبل از وقت ہی کر لی تھی۔

غالباً سب سے زیادہ انبیاء بنی اسرائیل میں تشریف لائے اور اس قوم میں مبعوث ہونے والے ہر نبی نے ان کو دعوتِ اسلام دی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بار بار کفر و شرک میں مبتلا ہوتے رہے دورِ جدید میں بھی یہ قوم اللہ واحد پر ایمان رکھنے کی بجائے کفر و شرک میں مبتلا ہے، مسلمانوں کے خلاف مختلف سازشیں کرتے رہتے ہیںاور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انبیاء اکرامؑ کی نسل ہونے پر فخر کرنے والی یہ قوم خود ان کی تعلیمات سے کوسوں دور ہو چکی ہے اور عالمِ اسلام کو کمزور کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اسی قوم کا نظر آئے گا۔حضرت ابراہیمؑ سے تعلق کی نسبت کی وجہ سے یہودی خوش فہمیوں میں مبتلا ہیں اور وہ خود کو اعلیٰ و ارفع خیال کرتے ہیں اور سرتاپہ گناہ آلود زندگی گزارنے کے باوجود یہ یقین رکھتے ہیں ان کو دوزخ کی آگ چھو نہیں پائے گی۔ ڈاکٹر گوہن نے اپنے مرتب کردہ صحیفہ تالمود کے انتخابہ مضامین کے مجموعہ everymans library servicesکے صفحہ نمبر405پر لکھا ہے ہے کہ قیامت کے دن ابراہیمؑ دوزخ پر تشریف رکھتے ہوں گے اور کسی گنہگار یہودی کو اس میں گرنے نہ دیں گے۔ انہی خود ساختہ خوش فہمیوں نے اس قوم کو سرکش بنا یا ہوا ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ انہوں نے یہ خوش فہمیاں قوم میں خود ہی پھلائی ہیں تا کہ اپنی قوم سے اپنی منشا کے مطابق کام لے سکیں۔ اس قوم کی زیادتیوں کو شمار کیا جائے تو کوئی حساب نہیں ہے جب کہ ان تمام زیادتیوں کے باوجود آج بھی یہ قوم یقینی طور پر سمجھتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ ان کو دوزخ میں جانے سے بچا لیں گے جب کہ نجات کا اصول اللہ تعالیٰ نے دنیا کی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں بتا دیا ہے۔ مسلمان، عیسائی یا صائبین جو بھی اس اصول پر پورا اتریں گے وہ جنت میں جائیں گے۔ یہودیوں کی یہی خوش فہمی انہیں برائیوں سے باز رکھنے میں رکاوٹ ہے۔

یہودی اکابرین ایسی جھوٹی سچی باتیں کر کے اپنے لوگوں کی ذہن سازی کرتے رہتے ہیں تا کہ ان سے یہودی ازم اور اپنی منشاء کے مطابق کام لے سکیں۔ حالیہ دنوں امریکی تجویز پر جو اس خطے کے لئے امن منصوبہ معرضِ وجود میں آیا ہے اس نے بھی بہت سوال کھڑے کر دئے ہیں۔ مسلمانوں کو اس کی مقدس اور مذہبی سر زمین سے نکالنا یا کم از کم ان کا اثر رسوخ ختم کرنا ہے۔ یہودیوں کو زرخیز زمین سمیت مقدس مقامات کی پیش کش اور مسلمانوں کو بنجر زمین دینے کا نام اگر امن منصوبہ ہو تو پھر اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ تو ایک ادنیٰ درجے کی حقیر سودے بازی ہے۔


ای پیپر