کورونا کہانیاں…
02 اپریل 2020 2020-04-02

دوستو،آج کورونا وائرس کے حوالے سے کچھ ’’کرونا کہانیاں‘‘ پیش خدمت ہیں جومختصر لیکن پراثر ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر یہ کہانیاں آپ کی نظر سے ضرور گزری ہوں گی۔۔

عید کا دن تھا چاول پکا رہی تھی کہ اچانک اس میں سانپ آگرا ،ساس کے ڈر سے چاول گرانے کی بجائے سانپ کو بھی اس میں پکا دیا سب نے تعریف کی کہ بہترین چاول پکا۔ بہت مزہ آیا سال گزرا ایک اور موقع پر چاول پکا۔ سب نے ایک ہی بات کی پچھلی عید پہ جو چاول پکے تھے کمال کا ذائقہ تھا اب کہ ساس کا جلال کچھ مدھم پڑ چکا تھا اور عورت راز کا بوجھ بھی کب تک اٹھاتی سو بتاہی دیا کہ اس میں سانپ گرا تھا جسے میں نے اس میں پکادیا تھا یہ سننا تھا کہ سب گھر والے بے ہوش ، ایک کو دل کا دورہ پڑا اور وہیں جان دے بیٹھا اب یہ اثر سانپ کے زہر کا تھا یا سانپ کے خوف کا؟آگے چلیں۔۔امریکہ میں موت کے سزا یافتہ ایک قیدی پر ایک عجیب تجربہ کیا گیا، اسے بتایا گیا کہ آپ کو نہ پھانسی دی جائے گی نہ گولی ماری جائے گی نہ ہی زہر کا انجیکشن بلکہ سانپ سے ڈسوایا جائے گا اس کے خیالات پر سانپ چھا گیا پھر سانپ اس کے سامنے لایا گیا اسے یقین ہو چلا کہ اس سانپ نے مجھے ڈسنا ہے پھر اس کی آنکھوں پر ایک پٹی باندھی گئی اور دو پینیں اسے چبھوئی گئی جس سے اسے پکا یقین ہوگیا سانپ نے ڈس لیا ہے تھوڑی دیر بعد اس کی موت واقع ہوگئی اس کے خون کے ٹیسٹ ہوئے تو خون میں سانپ کا زہر موجود تھا اب اس شخص کو سانپ نے چھوا تک نہیں لیکن اس کے باوجود اس کی موت بھی واقع ہوئی اور خون میں سانپ کا زہر بھی در آیا یہ کیا تھا ؟یقین جانے آج جتنی اموات ہورہی ہیں اس میں 80 فیصد خوف کے زیر اثر ہورہی اور اس قتل میں ہر وہ شخص برابر شریک ہے جو خوف پھیلا رہا ہے اس لیئے احتیاط کی ترغیب دیجئے ،دہشت نہیں حوصلہ پھیلایئے۔

دوسری کہانی بھی سن لیں۔۔بیٹا دوستوں کے ہمراہ راشن تقسیم کر رہا تھا سہ پہر سے۔نوجوان اپنے طور پر بھی فنڈنگ کررہے ہیں۔ قومی جذبہ یہ ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ واپس آیا، بولا۔۔ہمارے پاس لسٹ بنی ہوئی تھی۔ ایک آنٹی کا فون آیا جو بیوہ ہیں، بولیں۔۔بیٹا! میرے گھر کوئی راشن دے گیا ہے اب تم مت لانا. مجھ جیسے اور بھی کئی ضرورت مند ہوں گے۔۔بیٹا بولا،آتی ہوئی چیز کس کو بری لگتی ہے؟ امی میں بہت متاثر ہوا کہ کتنے دیانتدار لوگ ہیں پاکستانی، جن کی شہرت کرپشن بنا دی گئی دنیا میں۔۔۔ کل رات ایک ساتھی کا میسج آیا۔۔کچھ لوگوں کو میں نے بتایا کہ میں راشن تقسیم کررہی ہوں، آپ بھی اس کارخیر میں مدد کر دیں۔ بولیں، اتنے راشن اکٹھے ہوگئے ہیں میرے گھر میں، بن نام بتائے لوگ رکھ کر جارہے ہیں۔ جتنے تقسیم کررہے ہیں اتنے ہی آرہے ہیں۔ماسی سے میں نے پوچھا کہ تمہاری بیٹی کچی بستی میں رہتی ہے وہاں کیا حال ہے؟ بولی، کہہ رہی تھی یہاں ویسے تو لوگ بھوکے بھی سوتے ہیں مگر آج کل ہر گھر پر اللہ کا کرم ہے۔ دروازہ بجتا ہے کبھی بریانی کا پیکٹ، کبھی دودھ کے ڈبے، لوگ پوچھ پوچھ کر جارہے ہیں راشن تو نہیں چاہیے؟ ہم منع کر دیتے ہیں۔ سب کے گھروں میں مہینہ بھر کا راشن آ چکا ہے۔یہ بہت پیاری قوم ہے، آزمائش میں اس کا اصل روپ جوبن پر ہوتا ہے۔مولا! برے، بھلے، کھوٹے سکے، جیسے ہیں آپ کے ہیں۔۔ بس اپنے عذاب سے ہلاک نہ کیجیے گا۔

تیسری کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ ۔۔السلام علیکم انکل، ہم آپ کے دفتر کے پیچھے والی بستی میں رہتے ہیں۔کچھ دن پہلے آپ ہمارے گھر تشریف لائے،یہ دیکھنے کے لیے کہ ہم غریب ہیں یا نہیں۔ تا کہ آپ ہماری مدد کرسکیں۔ کچھ دن بعد آپ پانچ لوگوں کے ہمراہ ہمارے گھر آئے،ہمیں راشن دیا،امی میرے اور بھائی کے لیے عید کے جوڑے دیے،تصویر بنائی اور چلے گئے۔ انکل ! آپ کو معلوم ہے؟ جب میں چار سال کی تھی تو میرے بابا اللہ کو پیارے ہوگئے تھے! بابا کے جانے کے بعد دادی نے امی کو مار کے گھر سے نکال دیا۔۔۔!ہم در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ امی لوگوں کے گھروں کے برتن صاف کرتِیں۔ جو پیسے ملتے ہم ان سے اپنا پیٹ بھرتے۔ امی کا پیٹ تو امیر لوگوں کی گالیاں سن کر ہی بھر جاتا تھا۔ جن کے گھروں میں وہ کام کرتی تھِیں۔کل امی پھر رو رہی تھِیں۔وہ چپ ہی نہیں ہو رہی تھِیں۔جب آنکھوں سے آنسو خشک ہوگئے تو وہ سو گئیں. میں اٹھ کر ان کے پاؤں دبانے لگی: پاؤ دباتے دباتے میری نظر امی کے ہاتھوں میں اخبار پر پڑی۔ اخبار پر میری،بھائی کی اور امی کی آپ سے راشن اور کپڑے وصول کرنے والی تصویر تھی۔میں سمجھ گئی: امی کیوں رو رہی تھی۔پچھلے سال بھی ایسے ہی ہوا تھا۔۔اس تصویر کی وجہ سے محلے والوں نے ہمارا خوب مذاق اڑایا۔جب ہم کپڑے پہن کر باہر کھیلنے گئے تو ہمیں بھکاری بھکاری کہہ کر تنگ کیا جا رہا تھا۔۔! انکل ! آپ سے درخواست ہے کہ اپنے نئے کپڑے اور جوتے واپس لے جائیں! ’’امی کے آنسو مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔‘‘آپ سے ایک اور درخواست ہے کہ کسی غریب کی مدد کیا کریں تو اس کی تصویر اخبار میں نہ دیا کریں!اس کے بعد اسے جو تکلیف ہوتی ہے اس کا اندازہ آپ کو نہیں ۔

یہ کہانی ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ کی،لکھتے ہیں۔۔گاڑی گھر سے باہر نکالتے ہوئے خوف آتا ہے کہ راستے میں دغا دے گئی تو لاک ڈاؤن کے سبب کوئی مکینک مستری نہیں ملے گا۔۔ ذرا سوچیئے ایسے ہی بڑی برانڈز کے کارخانے آخر کب تک بند رہیں گے۔ دکانوں یا شورومز کی بندش ان کی پیداوار کو بھی بریک لگادے گی۔تازہ خبر ہے کہ امریکی کار مینو فیکچرز اب گاڑیوں کے بجائے وینٹی لیٹرز کی تیاری شروع کریں گے۔ وہ یورپی ممالک جو ایک دوسرے کیلئے بانہیں کھولے کھڑے تھے اب ماضی کی طرح اپنی سرحدیں بند کرچکے ہیں۔ تازہ تحقیق کونٹیکٹ لینز کو کورونا آور قرار دی گئی اور عینک کے استعمال کا مشورہ دیا۔ ذہن کے دریچے میں سوال اٹھا یہ سلسلہ کہیں موبائل فون تک طول نہ پکڑ لے۔ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز تو پہلے ہی داستان بن چکے ہیں۔۔ اب کیسا واٹس ایپ۔کہاں کی فیس بک۔ اور کہیں غرق ہو جائے گا انسٹا گرام بات بات پر ٹویٹ کرنے والے کہاں جائیں گے؟ ذرا سوچیں گوگل اور یوٹیوب جیسی سائٹس چلتی ہی اشتہارات پر ہیں تاہم پیداوار نہ ہونے پر کونسی برانڈ تشہیر کی زحمت میں پڑے گی۔۔ یعنی موجودہ دور میں تفریح اور معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ بند ! لاک ڈاؤن اور بندش کے سبب ہالی ووڈ سے لالی ووڈ تک فلمساز بڑا نقصان اٹھارہے ہیں۔ گھروں میں چلتے ٹی وی خراب ہوئے تو ٹھیک کون کرے گا ؟ نئے ٹی وی کی خرید کیسے ممکن ہوگی۔ ٹی وی کا خاتمہ یعنی بھانت بھانت کے نیوز اور انٹرٹیمنٹ چینلز کی دکان بھی بند۔۔ دل بہلانے کیلئے ایک بار پھر ناول اور کہانیاں لکھی جائیں گی۔ ماڈرن ازم اور لبرل ازم کا پتہ تو کورونا کے پہلے وار نے ہی صاف کردیا، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے والے مردوزن آج ہاتھ ملانے کے بھی رودار نہیں بولڈ اور بے پردہ خواتین کے پاس بھی چہرہ چھپانے کے علاوہ کوئی چارا نہیں۔ جو نوجوان ماں باپ کی باتوں پر کان نہیں دھرتے تھے اب کورونا کی ہدایت کان کھول کر سن رہے ہیں۔


ای پیپر