کشمیریوں کو آزادی کب ملے گی؟
02 اپریل 2020 2020-04-02

کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تخمینے کے مطابق شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ابھی تک علاقے میں کاروبار کی مد میں 1.4 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ہزاروں نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔وادی میں تین ہزار ہوٹل ہیں اور سبھی خالی پڑے ہیں۔ انھوں نے قرضے چکانے ہیں اور روزانہ کے اخراجات پورے کرنے ہیں۔اس لاک ڈاؤن سے صرف ہوٹل کی صنعت کو ہی نقصان نہیں پہنچا۔ ٹریول ایجنٹ جاوید احمد کہتے ہیں کہ ’انٹرنیٹ نہ ہونے کا مطلب ہے کہ پانچ ہزار ٹریول ایجنٹ بیکار ہو چکے ہیں۔حکومت کہتی ہے کہ نوجوانوں کو ملازمتیں دیں۔ ہم نوجوان ہیں لیکن بیروزگار۔ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہمیں نوکریاں چاہییں۔‘سری نگر کے مشہور ڈل جھیل میں تقریباً ایک ہزارے شکارے بھی خالی پڑے ہیں۔ کشمیر کے مشہور سیبوں کے باغ بھی لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔صرف قالینوں کی صنعت میں پچاس ہزار سے زیادہ نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ حج و عمرہ کی بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ سپین اور برطانیہ میں اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ سپین میں 864 اور برطانیہ میں مزید 563 افراد ہلاک ہوئے۔ کیا اس صورتحال میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پوری دنیا میں یہ لاک ڈاؤن اور ہلاکتیں کشمیریوں کی بددعاؤں کا نتیجہ ہیں جو گزشتہ آٹھ ماہ سے اس صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں اور ساتھ ہی بھارتی فوج کے ظلم و ستم بھی سہہ رہے ہیں۔ دنیا کو سوچنا چاہیے کہ کشمیریوں کو نظر انداز کر کے خود دنیا اسی طرح کے قدرتی لاک ڈاؤن کا شکار ہوگئی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری سکیورٹی لاک ڈاؤن کو آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا سب سے بھیانک لاک ڈاؤن کیا گیا جس میں کشمیریوں اور سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ جاری رہی۔ 18 ہزار سے زائد کشمیری جوان اور سیاسی قیادت جیلوں میں ہے۔

آج کل کرونا وائرس نے جہاں دنیا جہان میں اپنے تباہ کاریاں دکھائی ہیں وہیں مقبوضہ وادی بھی اس کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ کرونا وائرس سے دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیںاور خود بھارت کے اندر اس وبا نے ایک خوفناک صورت اختیار کرلی ہے۔ ایسے میں ہزاروں کشمیری اپنے خاندانوں سے دور بھارت کی جیلوں میں قید ہیں اور وہ کشمیر میں اپنے خاندانوں کے بارے میں سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرونا کی وبا کی تیزی سے پھیلنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مختلف جیلوں میں بند ہزاروںکشمیریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے شہریوں کی نقل و حمل پر نئی پابندیوں اور انٹرنیٹ بلیک آئوٹ کا نوٹس لیں کیونکہ نئی بھارتی پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں کو ہسپتالوں اور شفا خانوں تک پہنچنے اور انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے کرونا وائرس کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے جس سے خدشہ ہے کہ کرونا کی وبا مقبوضہ علاقے میں مذید تیزی سے پھیل سکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں لہٰذا کرونا وبا پھیلنے کے بعد یہ نہایت ضروری ہے کہ تمام قیدیوں خاص طور پر پیچیدہ امراض میں مبتلا قیدیوں کو فی الفور رہا کیاجائے۔

وادی میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں عام آدمی کی زندگی شدید مشکلات کا شکار ہے وہیں کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہیں۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو مہینوں میں اقتصادی طور پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔آٹھ ماہ بعد بھی وادی میں حالات معمول پر نہیں آئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل رابطے منقطع ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی آسانی سے دستیاب نہیں اور زیادہ تر کاروبار بند ہیں۔ان میں سے کچھ تو حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر بند ہیں جبکہ کچھ بھارت کی حکمرانی کے مخالف شدت پسندوں کے حملوں کے خطرے کی وجہ سے بند ہیں۔سری نگر میں دکاندار گاہک کا انتظار کرتے ہیں اور جیسے ہی گاہک آتا ہے دکان کھولتے ہیں اور اس کے جانے کے فوراً بعد بند کر دیتے ہیں اور پھر اگلے گاہک کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔

سیاحت ہو یا قالین بافی سب متاثر ہوئے ہیں علاقے کو ہنر مند مزدوروں کی کمی کا بھی سامنا ہے کیونکہ جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے یہاں سے چار لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ گلیاں ویران ہیں اور وہ سیاحتی کاروبار بند ہیں جن سے تقریباً سات لاکھ لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔مشتاق چائی ایک معروف تاجر اور کشمیر میں کئی ہوٹلوں کے مالک ہیں۔ وہ دو اگست کی دوپہر کو یاد کرتے ہیں جب انھیں انتظامیہ کی طرف سے ایک ’سکیورٹی ایڈوائزری‘ ملی۔اس نوٹ میں دہشت گردی کے خطرے کا ذکر کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہندو یاتری اپنے دورے کو ختم کر کے جتنی جلدی ہو سکتا ہے واپس چلے جائیں۔مشتاق نے بھی کئی دیگر لوگوں کی کی طرح اس ایڈوائزری کو سنجیدگی سے لیا۔دو سال پہلے امرناتھ یاترا سے آتے ہوئے ہندو یاتریوں پر حملہ کر کے شدت پسندوں نے سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ کشمیر کے اننت ناگ ضلعے میں واقع امرناتھ کا غار ہندوؤں کے لیے ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔چائی کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ سیاحوں اور یاتریوں کو کہا گیا ہو کہ وہ چلے جائیں۔تین دن بعد پانچ اگست کو وفاقی حکومت نے وادی کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور یہاں ہر قسم کا مواصلاتی رابطہ منقطع کر دیا۔


ای پیپر