قرآن کا غیر منقوط ترجمہ: ایک عظیم الشان شاہکار
02 اپریل 2020 2020-04-02

ہر جانب خوف کا عالم ہے ، لوگ اپنوں سے خوف زدہ ہیں ، بڑے برے محلات، عالی شان بنگلے ، لگژری گاڑیاں، لمبے چوڑے بنک بیلنس اور دنیا بھر کی نعمتوں کے باوجود آج کا انسان خود زدہ ہے اورمحسوس ہوتا ہے کہ قیامت صغریٰ بر پا ہے ۔ ان حالات میں تمام تر احتیاط کے باوجود بھی ہمارا ایک ہی سہاراہے اور وہ ہے ہمیں پیدا کر نے والا ہمارا رب جو تمام عالمین کا پالنہار ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان دنوں میں ہم قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں اپنے نام کر سکتے ہیں ۔

بلا شبہ کتاب ہدایت’’ قرآن کریم‘‘ایک ایسی آفاقی کتاب ہے جس پر پوری دنیا میں سب سے زیادہ تحقیقی کام ہوا ہے ۔ قرآن کریم کے کئی زبانوں میں تراجم اور تفاسیر ہو چکی جو لوگوں کے قلب و اذہان کو منور و معطر کرنے کا ساماں پیدا کرتی ہیں اور یوں لوگ اس کتاب ہدایت کے آفاقی پیغام سے بہرہ ور ہو کر اپنے رب کے انعام یافتہ لوگوں کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ قر آن کریم کو رب تعالیٰ نے اسے پڑھنے والوں کے لئے آسان بنا دیاہے ، قرآن کریم پر کام کر نے والے ہیرا صفت لوگوں نے اپنی زندگیا ں صرف کر کے اسے مزید آسان بنا نے کے لئے ایسے ایسے بڑے کام کئے ہیں کہ جس کی وجہ سے یہ لوگ بھی بڑے بن گئے اور رہتی دنیا تک ان کا نام امر ہو جائیگا۔ قرآن کریم پر ایک ایسا ہی تحقیقی کام ڈاکٹر طاہر مصطفی نے بھی کر کے کمال کر دیا کہ دنیا میں پہلے اردو زبان میں قرآن کریم کے غیر منقوط ترجمہ کر دیا

ہے ۔ ڈاکٹر طاہر مصطفی کا اس کے علاوہ یہ بھی اعزاز ہے کہ انہوں نے اسماء النبیؐ پر بہت عظیم الشان کام کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا شمار ملک کے جید دانشوروں میں کیا جاتا ہے ۔یہ بھی ان کا خاصہ ہے کہ اپنی تقریر و تحریر میں مذہبی اور مسلکی تعصبات سے بالاتر ہو کر بات کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ابتدا ء سے ہی میری سوچ اور فکر میں یہ بات تھی کہ زندگی میں اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کوئی بہت بڑا اور منفرد کام لینا ہے ۔ میں نے اسما ء النبیؐ کے مو ضوع پر پی۔ایچ۔ڈی کی اور الحمد للہ یہ صاحب قرآن نبی آخر الزماںؐ کے ساتھ میری ایک خاص نسبت قائم ہونے کا سبب بن گئی ۔ اس کے بعد میری خواہش تھی کہ کہ جیسے صاحب قرآن کے ساتھ ایک خاص نسبت قائم ہے اسی طرح قرآن کریم کے ساتھ بھی ایک خاص تعلق پیدا ہو جائے ۔ اسی چیزکو مد نظر رکھتے ہوئے کبھی یہ خیال آیا کہ قرآن کریم کی تفسیر لکھوں ،کبھی یہ سوچا کہ کسی تفسیرکی تلخیص کروں اور پھر سوچتے سوچتے بالآخر میری سوچیں اس نکتے پر مرکوز ہو گئیں کہ کیوں نہ قرآن کریم کا غیر منقوط ترجمہ کیا جائے؟جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ خیال کیوں آیا تو میں سمجھتا ہوں کہ انسان کا دل اس وقت تک مطمئن نہیں ہونا چاہئے ، جب تک اسے یہ اطمینان نہ ہو جائے کہ اس نے کوئی تاریخ ساز کام سر انجام دے دیا ہے ۔ انسان مر جائے تو اس کا کام اسے زندہ رکھے ۔یہی میری خواہش تھی اور اسی خواہش کی بنیاد پر میں نے اس کام کا آغاز کیا ۔ جب میں نے اس پر کام کا آغاز کیا تو بہت مشکل اور کئی جگہ تو نا ممکن محسوس ہوا۔ میرے سامنے بہت سے چیلنجز آئے۔ منقوط الفاظ کی جگہ غیر منقوط الفاظ کا چنائو بہت مشکل تھا۔میںاپنے قارئین کیلئے تسمیہ اور سورہ اخلاص کا غیر منقوط ترجمہ پیش کرتا ہوں :’’اللہ کے اسم سے رحم والا اور لامحدود رحم والا، کہہ دو کہ اللہ احد ہے، اللہ ارحام کے سارے واسطوں سے ماورا ہے ، ( منقوط ترجمہ میں ہم کہتے ہیں کہ اللہ بے نیا زہے ۔ میں نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ کفار رسولؐ اللہ سے یہ سوال کیا کرتے تھے کہ اللہ کا باپ کون ہے؟ اس کے اہلخانہ کون ہیں؟گویا وہ اللہ کے رشتے ناطوں کے حوالے سے زیادہ سوال کیا کرتے تھے تو میں نے اسے مد نظر رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ ارحام کے سارے واسطوں سے ماورا ہے اس کے بعد کی آیت لم یلد ولم یو لد کے ترجمے میں میرے سامنے یہ مشکل تھی کہ ’’نہیں‘‘ کا غیر منقوط ترجمہ کیسے کیا جائے؟بلکہ پورے ترجمہ قرآن میں اس لفظ کا ترجمہ کر نے میں مشکل پیش آئی۔پھر میں نے اس آیت مبارک کا ترجمہ کچھ یوں کیا:’ سوال ہی معدوم کہ اللہ کسی کی اولاد ہو کہ کوئی اس کی اولاد‘‘ آخری آیت مبارکہ کا ترجمہ کچھ یوں کیا:’’سوال ہی معدوم کہ کوئی اس کا ہمسر ہو‘‘۔

الحمد للہ ،اللہ کے فضل و انعام کی وجہ سے یہ مشکل لیکن عظیم الشان کام صرف دوسال میں اپنے اختتام کو پہنچابلا شبہ یہ ایک الہامی کام تھا جو رب تعالیٰ نے ان سے لیا۔ اب یہ حکمرانوں کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ اس شاہکار کو شائع کروانے میں سنجیدگی کا اظہار کریں اور مجھے قوی یقین ہے کہ جیسے خودبھی وزیر اعظم تصوف اور روحانیت کے رستے کے مسافر ہیںاور قرآن حکیم کو بغور پڑھ کر ہدایت حاصل کرتے ہیں ، ایسے ہی وہ اس غیر منقوط ترجمے کو بھی اپنی زیر نگرانی شائع کروا نے کی ہر ممکنہ کوشش کریں گے اور اس کے لئے وہ اسی سپرٹ سے کام کریں گے جیسے انہوں نے کرتار پور کی تعمیر کے وقت کی تھی۔ اس کے علاوہ اہل خیر اور ارباب اختیار بھی اس عظیم االشان شاہکار کو اپنی اپنی سطح پر شائع کر واکے بھی تقسیم کر کے رب تعالیٰ کی خوشنودی اور قربت حاصل کر سکتے ہیں ۔


ای پیپر