ہم نے یہ مانا کہ دِلّی میں رہیں کھاویں گے کیا؟
02 اپریل 2020 2020-04-02

آج کل لاک ڈاون ہے اور اس کی شدت’ خدا نہ کرے‘ ابھی مزید بڑھنے کی بات چل رہی ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں قوم کے مخیر حضرات سے دل کھول کے عطیات دینے کے لیے بینک میں اکاونٹ کھول دیا ہے۔یہ بہت اچھی بات ہے۔اس فراغت میں قوم کے غریب لوگوں کا چولہا بجھتا چلا جارہا ہے۔ سرکاری ملازمین کو وقت سے بھی پہلے تنخواہیں ادا کرنے کی سمجھ نہیں آرہی چلیں اس میں بھی کوئی بہتری ہو لیکن دوسرے غریب طبقے کے لیے کوئی مناسب پلان ابھی تک سامنے نہیں آسکا ہے۔سرکاری مشینری اس وقت کافی بہتر کام کر رہی ہے اور احتیاط کا تقاضابھی یہی تھا کہ اس وقت لوگوں کو سرکار ی ملازمین کی وساطت سے ہی راشن پہنچایا جاتا۔یاپھر منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے راشن کی تقسیم کا بندوبست کرنے کی کوشش کی جاتی۔عوامی نمائندوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ان کے علاقے میں غریب کتنے ہیں،دیہاڑی دار کتنے ہیں،امیر کتنے ہیں اور سفید پوش کتنے ہیں۔لیکن خان صاحب اس مشکل موقع پر بھی اپنے لاڈلوں کو نوازنا نہیں بھولے ہیں۔اب جن لاڈلوں کے ذریعے یہ راشن تقسیم ہوگا امید ہے کہ وہ خود جی بھر کے مال بنائیں گے۔ لائینوں میں لگنے والے راشن وصول کر لیں گے لیکن سفید پوشوں کے گھر فاقے ہونا طے ہے۔دنیا میں کورنا کی تباہ کاریوں میں شدت آ رہی ہے اور پاکستان میں کرونا کے پیش نظر مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے لوگ گھروں میں بیٹھنے کی عادی نہیں ہیں۔ہمارے لوگ جب تک دن میں پانچ سات لوگوں سے گپ شپ نہ لگالیں ان کا دن گزرتا ہی نہیں ہے۔گھرو ں میں موجود راشن جیسے جیسے کم ہورہا ہے بیگمات کا رویہ بھی لاک ڈاون کے ساتھ سخت ہورہا ہے۔شروع میں وزیراعظم عمران خان لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کرتے تھے اور پھر اچانک لاک ڈاون کا اعلان سامنے آگیا اب مکمل لاک ڈاون کے معاملے میں دو ٹوک موقف اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے۔

خبروں کے مطابق وزیراعظم عمران خان کسی طور مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہتے ہیں، ان کے خیال

میں لاک ڈاؤن ملکی معیشت کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا لیکن بالآخر ہم کو لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا، کچھ خبروں کے مطابق کرونا وائرس سے متعلق حکومت نے ابتداء سے جو رویہ اپنایا اس سے بددل ہو کر ڈاکٹرز اور نرسیں کام پر آنے سے انکار کر رہی ہیں۔اس مشکل وقت میں ایک بات تو سامنے آئی ہے کہ جناب وزیراعظم کو ان کے مشیر جو بات کہتے ہیں وہ اسی کے مطابق بات کر جاتے ہیں۔غلط محاورے،غلط تاریخی حوالے اور غلط مذہبی باتیں کہہ جانا ان سے ہی منسوب ہے یعنی ان میں سیاسی بصیرت مفقود ہے۔شروع میں جب کورنا وائرس پاکستان میں ابھی نہ ہونے کے برابر تھا تو ہیلتھ ورکرز اور صوبائی حکام بار بار لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے رہے لیکن وزیراعظم عمران خان ہر بار ان کا مطالبہ مسترد کرتے رہے اور انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دیتے رہے۔ ایسے وقت میں جب کرونا وائرس پوری دنیا کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا، وزیراعظم عمران خان یوں ظاہر کرتے رہے کہ گویا کرونا وائرس پاکستان کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ عمران خان نے حالیہ خطاب میں بھی لاک ڈاؤن ختم کرنے کا ہی عندیہ دیا ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ جب تک پورا ملک کرفیو پر سختی سے عمل نہیں کرے گا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کا کوئی طریقہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ خدا نخواستہ پاکستان خطرناک صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم سیاست بچا رہے ہیں جبکہ بچانا عوام کو ہے اس کے لئے خواہ جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ چیئرمین ٹاسک فورس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطاء الرحمن نے کہا کہ ملک میں اگر اسی طرح کا لاک ڈاؤن جاری رہا تو تین، چارماہ تک پاکستان کے حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کرفیو لگادیا جائے اور کوئی شخص باہر نہ نکلے، جو کرفیو کی خلاف ورزی کرے اسے جیل بھیج دیا جائے۔ بلا شبہ پاک فوج ہر طرح کی ہنگامی صورتحال اور جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ وباء نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے لہذا سرحدوں پر جنگ کے خطرات کا اندیشہ نہیں، فوج ملک کے اندر وباء پر قابو پانے کی طرف متوجہ ہے اس کے لئے کرفیو لگانے سے بھی گریز نہیں کیا جانا چا ہیے فوج تو دشمن سے بھی غافل نہیں۔ پہلے اس لاک ڈاون کی وجہ سیاسی، لسانی اور فرقہ وارانہ بات ہوتی تھی تاہم کچھ علاقے ان ہڑتالوں اور ہنگامہ آرائی کے دنوں میں بھی کھلے رہتے تھے اور بعض علاقے کچھ خاص شناخت کے لوگوں کے لیے نو گو ایریا سمجھے جاتے تھے۔ موجودہ صورتحال میں وائرس عام آبادی میں پھیلنے کے بعد ہر علاقہ حساس بن چکا ہے، محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں سامنے آنے والے کیسز ایک علاقے سے نہیں آئے بلکہ وسطی، شرقی، غربی، جنوبی اور شمالی اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں بھی کرفیو لگا دیا گیا۔ سعودی عرب میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1299 ہوگئی۔8 افراد اس وباء کی وجہ سے ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔لیکن پھر وہی بات کہ غریب کیسے دو وقت کی روٹی کھا ئیں گے سفید پوش لوگوں کے گھروں میں کیسے راشن پہنچے گا۔

ممبری امپیریل کونسل کی کچھ مشکل نہیں

ووٹ تو مِل جائیں گے پیسے بھی دلوائیں گے کیا؟

میرزا غالب، خُدا بخشے بجا فرما گئے

ہم نے یہ مانا کہ دِلّی میں رہیں کھاویں گے کیا؟

اس قطعہ میں علامہ اقبالؒ جموریت کے اس فرسودہ نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بیسویں صدی کے آغاز میں بھی سرمایہ دار طبقہ خود کو کونسل کی ممبری کا اہل سمجھتا تھا اور آج بھی یہی سلسلہ رائج ہے۔آپؒ ایک امیدوار اور ووٹر کے درمیان مکالمہ نظم کرتے ہیں کہ حضرت آپ بیشک پوری طرح کونسل کی رکنیت کے اہل ہیں اور انتخابی مہم میں کامیاب ہو کر کونسل کی رکنیت تک بھی پہنچ جائیں گے اور حکومت وقت سے اپنے مفادات بھی حاصل کر لیں گے ہم آپ کو ووٹ دینے کو بھی تیار ہیں لیکن یہ تو بتائیں کہ ہمیں اس کا معاوضہ کیا دلوائیں گے؟ اگلے شعر میں آپ،ؒ غالب کے شعر سے استفادہ کرتے ہوئے ووٹر کی زبانی مکالمہ دہراتے ہیں کہ آپ نے غالب کا یہ مصرع تو سنا ہوگا جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہلی میں قیام کا اپنا ہی مزہ ہے لیکن بہرحال گزر بسر اور کھانے پینے کے لیے کچھ سازوسامان کی بھی ضرورت ہوتی ہے لہذا اس کا بھی اہتمام کر دیجیے۔


ای پیپر