سوشل سکیورٹی کا نظام، وقت کی اہم ضرورت
02 اپریل 2020 2020-04-02

اس وقت پاکستان کے دونوں بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں لاک ڈائون ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ لاک ڈائون مزید سخت ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو سپر مارکیٹس اور کریانہ سٹوروں کے اوقات کار بھی کم کر کے شام 5 بجے بند کرنے کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر صنعتیں بند ہیں، مارکیٹیں بند ہیں، چنگ چی اور آٹو رکشے بھی بند ہیں، لوگوں کی عام آمدورفت بھی بہت محدود ہے۔ صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت کوشش کر رہی ہیں کہ غریب خاندانوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کی مالی معاونت کی جائے۔ انہیں راشن مہیا کیا جائے۔ بازاروں، مارکیٹوں، کام کی جگہوں، صنعتوں اوردفاتر کی بندش کے باعث کم تنخواہوں والے اور دیہاڑی دار (ڈیلی ویج، کنٹریکٹ اور عارضی ملازمتوں) والے محنت کشوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جو محنت کش روزانہ کماتے اور کھاتے تھے ان کی آمدنی ختم ہو گئی ہے اور انہیں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کواس وقت سب سے زیادہ جس مشکل کا سامنا ہے وہ ہے درست اعدادوشمار۔ بدقسمتی سے اس وقت کوئی بھی سرکاری یا غیرسرکاری ادارہ ایسا نہیں ہے جس کے پاس پاکستان کے تمام محنت کشوں کے اعدادوشمار ہوں۔ پاکستان اکنامک سروے 2018-19ء کے مطابق پاکستان میں محنت کشوں کی کل تعداد 6 کروڑ 70 لاکھ تھی (67 ملین)۔ ان محنت کشوں کی بڑی تعداد زرعی شعبے میں کام کرتی ہے جس کے بعد مارکیٹوں اور گوداموں میں، اس کے بعد دفاتر اور تعمیرات کے شعبے میں جبکہ بڑی تعداد صنعتوں میںبھی کام کرتی ہے۔ اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے پاس نہ تو فارمل سیکٹر میں کام کرنے والے محنت کشوں کے مکمل اعدادوشمار ہیں اور نہ ہی انفارمل سیکٹر کے۔ سب سے بری صورت حال انفارمل سیکٹر کے محنت کشوں کی ہے جو کسی بھی سرکاری ادارے میں رجسٹر نہیں ہیں۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ درست اعدادوشمار نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے محنت کش حکومتی امداد اور مالی معاونت سے محروم رہ جائیں گے۔ اگر ہم صوبائی حکومتوں کے محکمہ سوشل سکیورٹی کی بات کریں تو ان کے پاس 10 یا 15 فیصد سے زائد محنت کش رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ یہ اعدادوشمار فارمل سیکٹر کے ہیں یعنی صنعتوں اورکام کی ان جگہوں کے جہاںپر لیبر قوانین کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان اداروں میں بھی 85 فیصد سے 90 فیصد محنت کش رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اکثر پاکستان کومدینہ کی ریاست یعنی فلاحی ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں۔ اگر وہ واقعی ایسا کرنا چاہتے ہیں اور چاروں صوبائی حکومتیںبھی محنت کشوں کے لئے واقعی کچھ کرنا چاہتی ہیں تو جیسے ہی لاک ڈائون ختم ہو پاکستان میں محنت کشوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے۔ موجودہ طریقہ کارپیچیدہ ہے جس کے تحت مالکان محنت کشوں کی رجسٹریشن کرواتے ہیں کیونکہ ان کو رجسٹرڈ کروائے محنت کشوں کی کنٹری بیوشن جمع کروانا پڑتی ہے لہٰذا بہت سارے مالکان اپنی فیکٹری یا دفتر میں کام کرنے والے محنت کشوں کورجسٹرڈ نہیں کرواتے۔

اس طریقہ کار کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈائون نے اس تلخ حقیقت کوآشکار کر دیا ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں کام کرنے والے محنت کشوںکے درست اعدادوشمار کا علم نہیں ہے اس لئے ہمیں ان کی مدد کرنے اور ان تک پہنچنے کے لئے مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمیں اس صورت حال سے سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت حال میں ہم ہر محنت کش اور ضرورت مند تک پہنچ سکیں۔

ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ سوشل سکیورٹی کاموجودہ نظام درست طور پر کام نہیں کر رہا۔ یہ بہت تھوڑے محنت کشوں کو تعلیم، صحت اور پنشن کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ اگر محنت کشوں کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کو بدل دیا جائے اور ہر محنت کش کو خواہ وہ کسی اخبار میں کام کرتا ہو، ٹی وی چینل پر،کسی فیکٹری میں کام کرتا ہو یا کسی دکان پر، یا وہ اپنا کام کرتا ہو۔ حکومت یونیورسل رجسٹریشن سکیم کے تحت کام کرنے والے ہر پاکستانی مرد و عورت کو رجسٹرڈ کرے۔ یہ رجسٹریشن گروپ شکل میں بھی ہو اور انفرادی طور پر بھی۔ ہر محنت کش کو یہ حق دیا جائے کہ وہ خود کو اس سکیم کے تحت حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ کرے اور اپنی کنٹری بیوشن خود دے تاکہ وہ بڑھاپے کی پنشن سمیت تمام سہولیات اور خدمات سے فائدہ اٹھا سکے۔

حکومت ہر محنت کش کو سوشل سکیورٹی نمبر جاری کرے جو کہ شناختی کارڈ نمبر بھی ہو سکتا ہے اور نادرا کی مدد سے ایک قومی ڈیٹا بیس بنائے جس میں تمام محنت کشوں کا ڈیٹا اور ریکارڈ موجود ہو۔ اس سے کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے اور حکومتی مدد فراہم کرنے میں آسانی ہو گی۔ پاکستان کو سوشل سکیورٹی کے ایک مؤثر، مربوط اور باہمی طور پر جڑے ہوئے نظام کی ضرورت ہے۔ جس کے تحت ہر مزدور اور کام کرنے والا شہری رجسٹرڈ ہو ، وہ اپنی کنٹری بیوشن خود دے سکے اور ضرورت پڑنے پر سوشل سکیورٹی کے نظام سے مدد حاصل کر سکے۔

سوشل سکیورٹی کے ایک مضبوط، مؤثر اور مکمل طور پر فعال نظام کے ذریعے پاکستان کو فلاحی ریاست بنایا جا سکتا ہے۔ اس نظام کے تحت ہم اپنے کمزور اور غریب طبقات کا خیال رکھ سکتے ہیں۔ ان کو بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

اس وقت حکومت کو چاہئے کہ وہ انجمن تاجران اور چیمبر آف کامرس اورصنعت کاروں کی تنظیموں کے ذریعے ان سے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کشوں کی تعداد معلوم کر سکتی ہے اور انہیں امداد فراہم کر سکتی ہے۔ اسی طرح مزدور تنظیموں، این جی او اور ٹریڈ یونینوں کے ذریعے بھی ان تک پہنچا جا سکتا ہے۔

موجودہ بحران نے ہمیں موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اپنے سوشل سکیورٹی نظام کو بہتر بنائیں، ہر محنت کش کو اس میں شامل کریں، یونیورسل رجسٹریشن سکیم کے ذریعے ہر محنت کش کو رجسٹرڈ کریں، اسے تسلیم کریں اور اس کی مدد کریں۔


ای پیپر