کورونا اور انسانیت
02 اپریل 2020 2020-04-02

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے دنیا کے 4 ارب سے زیادہ انسان تشویش اور خوف میں مبتلا ہیں۔ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک دنیا میں سوئے ہوئے تھے پھر اچانک ایک اور دنیا میں آنکھ کھولی ہے۔ ہالی اور بالی وڈ کی رونقیں غائب ہوگئی ہیں۔ دنیا کے حسن پر وائرس نے ایک بڑا حملہ کر دیا ہے اور دیوار چین تک محفوظ سرحد ثابت نہیں ہو رہی۔ پیار و محبت اور میل ملاپ بند ہوگیا ہے۔ انسان کو پیسے اور اپنی طاقت پر جو ناز تھا وہ فی الحال کورونا وائرس اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے۔ برآمدوں اور ہسپتالوں کے رستوں پر پڑے انسان مہذب معاشرے کا منہ چڑا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ہسپتال صرف 30 فیصد متاثرین کو علاج کیلئے قبول کر رہے ہیں تاہم لواحقین ان میں سے زیادہ تر کے ساتھ واپس گھر نہیں لوٹتے ہیں۔ یہ کورونا انسانیت اور اسکی آج کی تلخ حقیقت ہے۔ انسان کو زندہ رہنے کا حق ہر مذہب، تہذ یب اور دور میں ملتا رہا ہے۔ انسانی زندگی اور موت وہ مفاد ہیں جو کم ازکم انسانیت کے لئے ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔ کورونا وائرس کا سب سے المناک انسانی پہلو اس بنیادی حق کی نفی ہے۔ چار ستون مل کر ایک انسان کے تصور کو مکمل کرتے ہیں جو جسمانی، دماغی، جذباتی اور روحانی شکل میں سمجھے اور پرکھے جاتے ہیں۔ کورونا وائرس ان سب پر بیک وقت حملہ آور ہوا ہے۔

انسانیت نام کی کوئی چیز اس وائرس کے قریب سے نہیں گزری لہٰذا ہر بیتے دن اور بڑھتی تعداد کے ساتھ سب سے زیادہ انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔ آج کا انسان دوسرے انسان سے دور بھاگ رہا ہے اور انسانیت اس وائرس کے آگے بے بس پڑی ہے۔ انسان کو پتہ ہی نہیں اور وہ اپنے علاوہ دوسروں کو اس بیماری میں مبتلا کر رہا ہوتا ہے۔ اگر خود بچ گیا تو ضمیر مرتے دم تک ہونے والی غیر دانستہ بے احتیاطی پر کوستہ رہے گا۔

جس طریقے سے انسانی لاشوں کی تذلیل ہو رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ تیسری جنگ عظیم حقیقت میں شروع ہوچکی ہے۔ دشمن اور سرحدوں کی نوعیت بے شک مختلف ہو مگر اثرات کسی بڑی جنگ سے کم نہیں ہیں۔ انسانی لاشوں کو مومی لفافوں میں سیل کر کے کوڑا کرکٹ کی طرع بڑے بڑے گھڑوں میں اجتماعی طور پر ڈمپرز کے ذریعے ڈالا جا رہا ہے۔ یعنی موت کے بعد بھی تذلیل جاری رہتی ہے۔

کہتے ہیں جب انسان کو درد ملتا ہے تو اس کے مزاج میں باقی مخلوق کے لیے خود بخود نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ کورونا وائرس کا ایک پہلو یہ بھی دیکھنے میں آیا جہاں امریکہ کے صدر نے تلاوت سنی جبکہ چین کے صدر نے مسجد میں دعا کی۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں تلاوت سنائی

دی اور نیوزی لینڈ کے چرچوں میں بھی اذان کی آواز آئی۔ لوگ مذہب کو بھول کر گلیوں اور چوراہوں میں اللہ کے حضور سر بسجود ہوئے۔

کورونا وائرس نے عالمی سطح پر انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم قدرت سے ہیں ناکہ قدرت ہم سے ہے۔ اللہ کرے کہ انسان کو یہ سمجھ آ جاہے کہ جب فطرت لڑکھڑاتی ہے تو انسان بھی لڑکھڑا جاتا ہے۔ انسان کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ طاقت ہی سب کچھ نہیں اور یہ کہ پیسہ ہر چیز نہیں خرید سکتا۔ ایک بات عیاں ہے کہ آیندہ آنے والے وقت میں یہ وائرس ہماری روزمرہ کی زندگیوں میں عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں لانے والا ہے۔

پاکستان میں ابھی تک اس کورونا کا بڑا حملہ نہیں ہوا۔ لگتا ہے پاکستان میں یہ وائرس حملہ کرنے سے پہلے ہماری انسانیت کا خاموش مشاہدہ کر رہا ہے۔ لوگ گھروں میں بند ہیں جبکہ وائرس پاکستانی حالات دیکھ رہا ہے۔ کورونا کو یہ اندازہ بھی ہو گیا ہے کہ یہ ملک پہلے ہی بحرانوں اور انسانی المیوں کی زد میں ہے۔ پاکستان جیسے تہمت یافتہ معاشرے میں تو کفن دفن اور اس سے جڑی رسومات کورونا سے مرنے کے بعد بھی اس کے خاندان کے لیے طعنہ زنی اور ایک روگ بن جائے گا۔ پاکستان میں بحران کا وقت سب سے زیادہ پیسہ کمانے کا وقت ہوتا ہے۔ ماضی قریب میں آٹے اور چینی کے بحرانوں میں منافع خوروں کی بے حسی پوری قوم نے دیکھی ہے۔ تاہم کورونا جیسے حالات میں دالوں اور دوسری بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہمارے معاشرے کی انسانی اور اخلاقی قدروں کی حقیقت اور انسانیت کی سطح بتاتا ہے۔ میرے پیارے پاکستان میں پانچ روپے والا ماسک پانچ سو میں بیچنے والے حاجی صاحب نے بھی چھت پر چڑھ کر کورونا سے نجات کے لیے اذان دی ہے۔ جعلی سینیٹائزر کی فیکٹری پکڑی گئی ہے اس کا مالک باریش تبلیغی ہے۔ ایک جگہ سے ڈیڑھ لاکھ ماسک برآمد ہوئے ہیں اور ملزم ایک مذہبی تنظیم کا عہدے دار ہے۔

اگر کوئی آدمی یا عورت غریبوں کے لیے کھانا لے کر نکلے تو چوراہے پر منٹوں میں ایک مجمع لگ جاتا ہے۔ ان میں وہ پیشہ ور افراد بھی ہوتے ہیں جو ہتھوڑے سے گاڑی کے شیشے توڑ کر اشیا نکال کر لے جانے کا اظہار اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا یہ انسانی بھوک ہے، لالچ یا پھر جرم ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھوکے اور بے روزگار لوگ ضرورت کی وجہ سے غصے اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہوں۔ سنا ہے جب بھوکا آدمی تڑپتا ہے تو کسی کی نہیں سنتا۔ جو لوگ اور پارٹیاں 500 اور 1000 روپیہ دے کر اس غریب یا خیرات کے ساتھ سیلفی بنا رہے ہیں وہ اصل میں ان غریبوں کو تو شرمندہ کر ہی رہے ہیں ساتھ وہ اپنے بارے میں بھی بہت کچھ بتا رہے ہیں۔

طب اور دین کو جس طریقے سے ہم نے کورونا بحران میں ملایا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ وباء کے علاج سے متعلق قرآنی اور حدیثی نسخوں کی ایک بھرمار دیکھنے میں آئی ہے۔ ہمارے کچھ علما نے تو دین کی روح میں کورونا وائرس کی وجہ بھی ثابت کردی ہے۔ میڈیا بھی اس جنگ میں پیچھے نہیں رہا اور صبح شام کے شوز میں گھر بیٹھے لوگوں کو کافی ٹوٹکے بتائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تو ایک طوفان برپا ہے۔ مسجدیں تو ویران ہوئی ہیں مگر موت کے ڈر نے گھر میں نماز پڑھنے والوں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہوا ہے۔ اگر کسی چیز کی کمی رہ گی ہے تو وہ احساس اور انسانیت ہے۔

پاکستان میں ہر چیز غیر اعلانیہ طور پر بند ہو چکی ہے۔ شاید توبہ کا دروازہ کھلا ہو۔پاکستانی قوم سے درخواست ہے اللہ سے اس وائرس کے خلاف دل سے دعا مانگیں۔ اگر دعا میں اثر محسوس نہ ہو تو روز مرہ کی اشیاء کی قیمتیں کم کر کے اور غریبوں کی مدد کر کے دیکھیں دعا میں اثر بھی ہوگا اور ادائیگی میں جذبات بھی اور پھر یہ آواز اللہ کے پاس جلدی پہنچے گی۔ جب انسان کا نقطہ نظر تبدیل ہوتا ہے تو جذبات بھی بدل جاتے ہیں۔ جب قوم اپنا نقطہ نظر بدلے گی تو دعا ضرور قبول ہو گی۔


ای پیپر