کورونا وائرس :زہرِ امروز میں شیرینی فردا بھر دے !
02 اپریل 2020 2020-04-02

کورونا کی وبا نے دنیا کے تقریبا 186 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ بیماری خدا کی طرف سے کوئی عذاب ہے یا پھر معیشت اور سیاست پر قبضہ کرنے کی انسانی جبلّت کا شاخسانہ ہے؟۔ اس حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے ہیں۔ ایک نقطہ نظر تو سابق سفارت کار اور ایک بڑے انگریزی اخبار اور ٹی وی چینل کے مالک کا سامنے آیا ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ یہ وائرس امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی مشترکہ سازش کا نتیجہ ہے کہ یہ تینوں ممالک چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے خوف زدہ ہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے چین کی معاشی ترقی کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ چشم کشا انکشافات ان کے اخبار میں پڑھنے کو ملے اور نہ ہی ان کے چینل پر دیکھنے اور سننے کو ملے۔اس نطقہ نظر کو ایک اور کالم نگار نے یکسر مسترد کردیا اور سابق سفیر صاحب نے جو اس حوالے سے اس ’’ایجاد‘‘ کے حقوق کے نمبر دیئے وہ بھی اس سے متعلق نہیں ہیں۔ کالم نگار کہا کہنا تھا کہ اگر امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل نے یہ سازش تیار کی تھی تو آج ان ممالک کے عوام کی بڑی تعداد اس وبا کا شکار ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ دنیا پر یہ سارا عذاب چین نے مسلط کیا ہے اس نقطہ نظر کے حامل افراد کا استدلال یہ ہے کہ یہ وائرس دنیا کے ہر ملک کے ہر حصے میں پھیلا لیکن چین میں صرف اس کے صوبے وہان تک محدود رہا۔ دنیا کی تقریباََ سب ہی اسٹاک مارکیٹیں کریش ہوئیں لیکن چین میں اس قسم کی صورتحال مجوعی طور پر دیکھنے میں نہیں آئی۔ بائیں بازو کی فکر اسے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور سرمایہ دارانہ نظام کی ازلی استحصالانہ روایت کا تسلسل قرار دیتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایک جانب اس قسم کے نقطہ ہائے نظر سامنے آرہے ہیں جن سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے اور ان کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی بھی تیار کی جاسکتی ہے اور دوسری جانب ہم نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو مسلکی اور فرقہ واریت کی جنگ میں تبدیل کردیا ہے۔ پاکستان میں اس وائرس کے پھیلائو کو ایک طبقہ تفتان باڈر سے جوڑ رہا ہے تو دوسرا طبقہ رائے ونڈ شہر میں موجود ایک مرکز کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ ہمیں نہ فکر ہے کہ اس بیماری کے پھیلائو کو روکنے کے لیے ہم نے جو لاک ڈائون کی حکمت عملی اختیار کی ہے

آنے والے دنوں میں ہماری زندگیوں میں اس کے کیا معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہوں گے، ہم اپنے مسلکی اور فقہی تعصب کی تسکین میں مصروف ہیں:

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنھیں تصویر بنا آتی ہے

معاشی اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے پھیلائو سے پہلے 2020ء میں دنیا کی معاشی ترقی کا اندازہ تین فیصد تھا جو آج کی عالمی صورتحال میں ترقی کی بجائے زوال کی جانب جاتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کی معاشی حالات کیا ہونگے؟۔ جس کی معاشی ترقی کی شرح سست رو ہے۔ صوبائی حکومتوں کے لاک ڈائون کی وجہ سے صنعت بند ہیں۔ ہمارے یہاں پہلے ہی ٹیکس کی وصولی کے اہداف پورے نہیں ہوتے تو صنعتوں کی بندش سے سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کی کمی معیشت کے لیے مزید نقصان دہ ہوگی جب کہ حکومت نے یومیہ مزدوری کرونے والے طبقے کے لیے اربوں روپے کے پیکج کا بھی اعلان کیا ہے ۔ لیکن حکومت خود اعتراف کرچکی ہے کہ اس کے پاس یومیہ مزدوری کرنے والوں کے مستند تو دور کیا بات کسی قسم کے کوئی اعداد و شمار ہیں ہی نہیں، تو پھر یہ رقوم اور ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کس طرح مستحقین تک پہنچیں گی؟ اگرچہ چند صنعتوں کو اس کالم کی تحریر سے چند گھنٹے قبل کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن مارکیٹیں بند ہونے کی صورت میں صنعتوں میں تیار ہونے والا مال دوکانوں اور گاہکوں تک کس طرح پہنچ پائے گا؟ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔

کورونا وائرس سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا نے معاشرے پر اس قدر منفی اثرات مرتب کیے ہیں کہ اگر اس طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو کورونا سے کہیں زیادہ نفسیاتی بیماریوں کے مریض نظر آئیں گے۔ الیکٹرانک میڈیا آج کل جس کا انداز اور لہجہ ہی چیخ و پکار اور افراتفری کا ہے اس نے ہر پل کورونا کورونا کی گردان اور ہر لمحے اس کے مریضوں کی تعداد سے اپنے اسکرین کو مزین کیا ہوتا ہے۔ عوام کو نفسیاتی طاقت دینے اور مرض سے لڑنے کی بجائے خوف کی فضا قائم کردی گئی ہے ۔ سوشل میڈیا پر نیم حکیم بھی سرگرم ہیں اور انارکسٹ بھی۔ جو نہ جانے کون کون سے نسخے کس کس کے نام سے پھیلا رہے ہیں۔ انگریزی فلموں کے وہ مناظر جن میں لاشوں کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں وہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا بتا کر پھیلائے جارہے ہیں اور متعلقہ ادارے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ پیمرا کو چایئے کہ ہر ٹی وی چینل کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ صبح اور شام ایک ایک گھنٹہ دین، تصوف، ادب اور سماجی سائنس سے متعلق شخصیات کو گفتگو کے لیے بلائیں کہ وہ قوم کو بتائیں کہ اس بحرانی کیفیت میں اضطراب، بے چینی اور خوف سے کیسے بچا جائے۔صوفیاء کرام کا کلام، کلام ِ اقبال اور ملّی نغمے بھی ایسی صورتِ حال میں راتوں میں شمع منور کرنے اور امیدِ صبح ِ جمال کا بہتر سامان پیدا کرسکتے ہیں۔

آیئے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

ہم جنھیں رسمِ دعا یاد نہیں

آیئے عرض گزاریں کہ نگار ہستی

زہرِ امروز میںشیرینیء فردا بھردے


ای پیپر