دعاؤں، التجاؤں اور حوصلہ مندی کی ضرورت ہے!
02 اپریل 2020 2020-04-02

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ان پر آشوب ایام میں جب مایوسی ، پریشانی، ڈر اور خوف کی کیفیت نے ہر طرف ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اللہ کریم سے اپنے گناہوں، خطاؤں اور لغزشوں کی معافی مانگنے اور اس کے پیارے حبیبؐ کے صدقے اس کے کرم کی التجا کرنے سے بڑھ کر اور کوئی بات افضل اور برتر نہیں ہو سکتی۔ یقینا یہی وہ راہ عمل ہے جس پر چل کر ہم ڈر، خوف اور پریشانی کی کیفیت اور غیر یقینی صورت حال سے نجات حاصل کر سکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کریم کی رحمت اور کرم بے پایاں اور بے حساب و کتاب ہے۔ اس سے مایوس ہونا اور نا امیدی کا اظہار کرنا بلا شبہ نا شکر ا پن اور ایک طرح کا گناہ ہے۔ ہمارا یقین اور ایمان ہے کہ اللہ کریم کی پاک ذات ہی توبہ قبول کرنے اور گناہوں، غلطیوں اور لغزشوں سے درگزر فرمانے والی ہے۔ اسی کے حضور دعائیں اور التجائیں کی جا سکتی ہیں۔ اس نازک اور مشکل گھڑی میں جب پورا عالم انسانیت پریشان حالی کا شکار ہے بالخصوص وطن عزیز میں ڈر، خوف اور پریشانی کی کیفیت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی ہے۔ ہمارا دامن اسی پاک ذات کے سامنے پھیلے ہوئے ہیں۔ اسی کے حضور ہماری دعائیں اور التجائیں ہیں کہ وہ پاک ذات اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے ہمیں ہی نہیں۔ پورے عالم انسانیت کو اس وباء سے نجات عطا فرمائے۔ یہ ہمارے گناہوں، بداعمالیوں اور لغزشوں کی شب ہے۔ ہماری کڑی آزمائش ہے۔ پاک ذات کے رحم و کرم اور فضل سے ہی ہمیں اس سے نجات مل سکتی ہے۔ یقین کامل ہے اور میرا گناہگار دل بھی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کریم کے لاکھوں بلکہ کروڑوں نیک بندے جب اس کے حضور ہر دم دعاؤں، التجاؤں اور توبہ استغفار میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر حبیب کیبریاؐ کی رحمت اور نظر کرم کا سایہ بھی پھیلا ہوا ہے تو ان شاء اللہ کرونا کی اس وباء سے وطن عزیز سمیت، پورے عالم اسلام اور عالم انسانیت کو جلد ہی چھٹکارا حاصل ہو گا۔

مجھے یہ کہنے اور تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ عمر کے اس حصے میں جب بیتے دنوں کے ساتھ موجودہ شب و روز کی اپنی بد اعمالیوں، لغزشوں اور کوتاہیوں کا احساس ہر دم فکر مند اور پریشان رکھتا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے نجات کے حوالے سے اوپر بیان کیے گئے تمہیدی کلمات کا تذکرہ دل کے اطمینان اور سکون کے لیے ضروری تھا۔ یہاں ماضی کے کچھ حالات و واقعات اور ان سے جڑی شخصیات کا تذکرہ بھی کچھ ایسا بے جا نہ ہو گا کہ میں نے ہمیشہ ان سے نیا ولولہ اور انسپائریشن حاصل کی ہے۔ اب بھی مجھے امید ہے کہ ان مشکل اور آزمائش کے لمحات میں بھی افکار پریشان کی صورت میں سامنے آنے والے اس تذکرے سے ان

شاء اللہ آسودگی اور دل کا سکون حاصل ہو گا۔ ایسے میں اپنے مرحوم و مغفور والدین کے حوالے سے کچھ باتوں اور کچھ سادہ اور بے غرض واقعات کو میں یاد کرتا ہوں تو جہاں میری آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں وہاں کچھ احساس طمانیت بھی دل میں جاگزین ہوتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اتنے سادہ، مخلص اور نیک بندے کہ چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں تو ان جیسے خوف خدا رکھنے والے مشکل سے ہی مل پائیں۔ چٹے ان پڑھ مگر خلوص، وفا اور بے غرضی کا پیکر۔ اپنے مالک ، اپنے رب کی رحمت پر پختۂ یقین رکھنے والے، جھولی پھیلا پھیلا کر اپنے بچوں کے لیے ہی نہیں سب کے لیے خیرو برکت، سلامتی، سکون اور درازیٔ عمر کی دعائیں مانگنے والے اللہ کی یاد اور عبادت گزاری میں اوائل عمر اور بعد کے برسوں میں شاید کچھ کوتاہی رہی ہو گی لیکن ادھیڑ عمری اور اس کے بعد کے طویل عرصے میں (ماشاء اللہ ہر دو لالہ جی (والد مرحوم) اور بے جی (والدہ مرحومہ) نے طویل عمر پائی) میں صوم و صلوٰۃ ، پنجگانہ نماز کی پابندی کے ساتھ تہجد کی نماز کی ادائیگی میں بھی کم ہی کوتاہی آنے دی ہو گی۔ لالہ جی اور بے جی دونوں کو ناظرہ قرآن پاک بھی پڑھنا نہیں آتا تھا لیکن قرآن پاک کا اتنا احترام اور اس پر اس طرح کا ایمان و یقین تھا کہ جیسے کہہ رہے ہوں کہ یہ میرے مالک، میرے رب کا کلام ہے جس کا ایک ایک حرف ، ایک ایک شوشہ اور ایک ایک زبر، زیر اور پیش بیچ ہے۔ حق ہے، حق برحق ہے اور آنکھوں سے لگانے سے بڑھ کر افضل و اعلیٰ ہے۔

یہاں میں والدہ مرحومہ محترمہ بے جی جن کا آج سے ٹھیک 18 سال قبل 24 مارچ 2002ء کو انتقام ہوا کا بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا۔ انہیں اللہ کریم نے یہ توفیق بخشی کہ انہوں نے ادھیڑ عمری ہیں قرآن پاک ناظرہ پڑھنا شروع کیا۔ بے جی انتہائی کمزور، دبلی پتلی اور بلڈ پریشر کی مریضہ ہونے کے باوجود گھر سے ڈیڑھ دو سو میٹر کے فاصلے پر ہماری مسجد کے خاندانی امام قاضی عبدالرب مرحوم و مغفور کے گھرتشریف لے جاتیں۔ قاضی صاحب مرحوم اور ان کی اہلیہ محترمہ ’’بی جی ‘‘ سے ان کی گاڑی چھنتی تھی۔ ہر دو میاں بیوی انہیں بڑی بہن کا اور یہ بھی انہیں بھائی اور بہن کا درجہ دیتی تھیں۔ قاضی صاحب مرحوم اور ان کی اہلیہ محترمہ سے قرآن پاک پڑھنے کے ساتھ دینی مسئلوں اور مسائل پر ان کی گفتگو اور بحث مباحثہ بھی ہوتا رہا۔ کئی برسوں تک یہ بابرکت سلسلہ چلتا رہا۔ بالآخر انہیں پورا قرآن مجید ناظرہ پرھنے کی سعادت اس طرح حاصل ہوئی کہ اگلے چند برسوں میں انہیں قرآن پاک کی کئی چھوٹی اور بڑی سورتیں بھی زبانی یاد (حفظ) ہو گئیں۔ بے جی جیسے میں نے اوپر کہا ہائی بلڈ پریشر کی دیرینہ مریض تھیں۔ فروری 2001ء کے اوائل میں انہیں دل کا شدید دورہ پڑا۔ میں گاؤں میں ہی تھا ان کو فی الفور پنڈی پہنچانے کی کوشش کی وہ AFIC(آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی) کے CCU میں ہفتہ سے اوپر پھر مزید ایک آدھ ہفتہ عشرہ وارڈ میں زیر علاج رہیں۔ اللہ کریم نے خصوصی کرم فرمایا کہ وہ جانبر ہو گئیں لیکن ان کی صحت کے بارے میں تشویش بہرکیف قائم رہی۔

ایک آدھ سال بعد غالباً 18 مارچ 2002ء کو کچھ ایسا ہوا کہ بے جی ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد حسب معمول کمرے میں اپنی چارپائی جو باہر صحن میں کھلنے والی کھڑکی کے ساتھ بچھی ہوتی اور جس کے سرہانے پر الماری تھی جس میں ان کی دوائیاں اور نقدی وغیرہ پڑی ہوتی تھی پر بیٹھی تلاوت کلام مجید میںمصروف تھیں کہ اچانک بہن کو جو باہر صحن میں کچھ کام کاج کر رہی تھیں کو کچھ گرنے کا کھٹکا سا سنائی دیا۔ وہ دوڑی دوڑی اندر آئیں تو دیکھا کہ قرآن پاک (سورۃ کہف کے صفحات) سامنے کھلا پڑا ہے اور بے جی ایک طرف اوندھی گری بے ہوش پڑی ہیں۔ بے جی مرحوم و مغفورہ کا یہ معمول تھا کہ وہ ظہر کی نماز کی ادائیگی کے بعد سورۃ کہف کی باقاعدگی سے تلاوت کیا کرتی تھیں۔ آج وہ تلاوت میں مصروف تھیں کہ ان پر دماغ کے فالج کا اٹیک ہوا۔ ہم انہیں پنڈی ہولی فیملی ہسپتال لے آئے جہاں بے ہوشی کے عالم میں 24 مارچ کو صبح فجر کی نماز کے وقت ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ چھوٹی بہن (اللہ کریم اسے سلامت رکھے) جو بفضل تعالیٰ اپنی سعادی مندی ، نیکی اور خدمت گزاری میں کبھی کمی نہیں آنے دیتی ہیں وہ آخری وقت میں بے جی کے سرہانے پر موجود تھیں۔ میری بد بختی اور بد نصیبی کہ میں کمرے میں کچھ آرام کرتا رہ گیا۔ پتہ چلا کہ سعادت اور کرم بھی اسی پاک ذات کی رضا سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

میں نے اپنے مرحوم والدین بالخصوص اپنی بے جی مرحومہ و مغفورہ کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی تفصیل لکھی ہے یہ مجھ پر ایک طرح کا قرض ہی نہیں بلکہ موجودہ پر آشوب اور پریشان کن دنوں میں دل کے اطمینان اور سکون کے لیے بھی ضروری تھا۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اسے ایک طرح کا صدقہ جاریہ سمجھ کر قبول کر لیں۔ یہاں میں ایک بار پھر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے شدید خطرے کے حوالے سے مزید چند گزارشات کرنا چاہوں گا۔ میں نے کالم کے شروع میں اللہ کریم کے حضور توبہ استغفار، گناہوں کی معافی اور دعاؤں اور التجاؤں کا ذکر کیا ہے۔ اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ ہم اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چھوڑ دیں۔ احتیاطی تدابیر کی اپنی جگہ بہت اہمیت ہے اور انہیں کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ہمیں بحیثیت قوم ہی نہیں انفرادی طور پر بھی مضبوط سہارے اور اطمینان قلب اور حوصلے مندی کی ضرورت ہے جو اللہ کریم کے ذکر، نبی کریمؐ کے حضور ہدیہ درود و سلام پیش کرنے اور عفو و در گزر کے لیے جھولی پھیلا پھیلا کر دعائیں اور التجائیں کرنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔


ای پیپر